”خاتون کی مرضی کے بغیر یہ کام کرنا بھی ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے“ وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق نے واضح کر دیا

”خاتون کی مرضی کے بغیر یہ کام کرنا بھی ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے“ وفاقی ...

  



لاہور(آن لائن ) وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کسی کو گڈ مارننگ تو کیا کسی کی مرضی کے خلاف السلام علیکم کہنا بھی ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح کسی کو دیکھ کر طنزاً ماشاءاللہ کہنا بھی ہراسیت ہی ہے،لیکن جیسے کچھ لوگ گزرتے گزرتے آوازا کستے ہیں یا کسی خاتون کو دیکھ کر ”چشمِ بددور“ یا ”ماشاءاللہ“ کہتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ ہراسیت ہے۔کے سلام کے میسج کا ایک بار میں جواب نہیں دیتی تو بار بار اسے السلام علیکم کا پیغام بھیجنا بھی ہراسیت ہی ہے۔ خواتین کو زیادہ تر کام کی جگہ پر ہراسیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا مرد بھی ہراسیت کی شکایات لے کر آتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو شکایات آتی ہیں وہ 80 سے 90 فیصد خواتین کی جانب سے مردوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ جبکہ مردوں کی جانب سے آنے والی شکایات مردوں کے ہی خلاف ہوتی ہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور