نواز شریف کو لندن منتقل کرنے کا فیصلہ؟ سب سے بڑی خبر آگئی، مسلم لیگ ن کی بیرون ملک منتقلی کی خبروں کی تردید

نواز شریف کو لندن منتقل کرنے کا فیصلہ؟ سب سے بڑی خبر آگئی، مسلم لیگ ن کی بیرون ...
نواز شریف کو لندن منتقل کرنے کا فیصلہ؟ سب سے بڑی خبر آگئی، مسلم لیگ ن کی بیرون ملک منتقلی کی خبروں کی تردید

  



لاہور(جاوہد اقبال) سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خون میں پلیٹ لیٹس کی کمی کے باعث ان کے مسوڑھوں سے خون رسنا شروع ہوگیا ہے، ان کا بون میرو نئے پلیٹ لیٹس نہیں بنا رہا جس کی وجہ سے بار بار پلیٹ لیٹس کی کٹس لگانے کے باوجود ان میں کمی واقع ہوجاتی ہے، میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک منتقل کرنے کی تجویز دی ہے تاہم حکومت نے آغا خان ہسپتال کراچی سے ڈاکٹر طاہر شمسی کو مشاورت کیلئے لاہور بلالیا ہے، ڈاکٹر شمسی پاکستان میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے واحد ڈاکٹر ہیں اور اگر انہوں نے نواز شریف کے علاج کی حامی نہ بھری تو سابق وزیر اعظم کو اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں خصوصی طیارے کے ذریعے لندن شفٹ کردیا جائے گا۔ادھر مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے نواز شریف کی بیرون ملک جانے کی خبروں  کی تردید کرتے ہوئے انہیں مسترد کردیا۔ 

ذرائع نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ سروسز ہسپتال میں زیر علاج سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے مسوڑھوں سے خون رسنا شروع ہو گیا ہے جس پر ڈاکٹروں نے ان کے ٹوتھ برش اور شیو کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔نوازشریف کا علاج کرنے والے ماہر ڈاکٹروں نے نواز شریف کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت کو رپورٹ دی ہے کہ نوازشریف کی صحت اچھی نہیں ہے اگر خدا نہ خواستہ ان کے جسم کے کسی حصے سے بلیڈنگ شروع ہو گئی تو یہ ان کی صحت کے لیے اچھی نہیں ہو گی۔

ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر تاحال بیماری کی تشخیص نہیں کرسکے، جب پلیٹ لیٹس خطرناک حد تک کم ہوتے ہیں تو تب جسم کے کسی بھی حصے سے کسی بھی وقت بلیڈنگ ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔نوازشریف کو چار میگایونٹ لگنے کے باوجود ان کے خون کے پلیٹ لیٹس میں حاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا ۔

ذرائع نے روزنامہ پاکستان کو یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹروں کو نواز شریف کی صحت کے حوالے سے اس وقت تشویش لاحق ہوئی جب ان کے مسوڑھوں سے ہلکا خون رسنا شروع ہوا جس پر ڈاکٹروں نے فوری طور پر ان کے ٹوتھ برش استعمال کرنے ،ناخن کاٹنے اور شیو کرنے پر پابند ی لگا دی۔ڈاکٹروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ایک دفعہ بلیڈنگ شروع ہو گی تو اس کو فوی طور پر روکنا مشکل ہو جائے گا لہٰذا حفاظتی تدابیر کے باعث انہیں مذکورہ کام کرنے سے روکا گیا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ لاہور کے ڈاکٹرز نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک منتقل کرنے کی تجویز دی ہے تاہم حکومت نے آغا خان ہسپتال کے ڈاکٹر طاہر شمسی کو مشاورت کیلئے طلب کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر شمسی ملک میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے ماہر ڈاکٹر سمجھے جاتے ہیںاور ان کو بلانے کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نواز شریف کے اگر پلیٹ لیٹس میں اضافہ نہیں ہوسکتا تو آخری چانس بون میرو ٹرانسپلانٹ کا ہوگا۔

ذرائع کہتے ہیں کہ ڈاکٹر شمسی کے علاوہ پاکستان میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کا کوئی ایکسپرٹ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس حوالے سے باقاعدہ ادارہ موجود ہے۔ حکومت نے وائی ڈی اے چلڈرن ہسپتال کے صدر ڈاکٹر ناصر بخاری کو بون میرو ٹرانسپلانٹ کی ٹریننگ دی تھی لیکن وہ بھی اس پائے کے ڈاکٹر نہیں ہیں، اگر طاہر شمسی نے بون میرو ٹرانسپلانٹ کی ذمہ داری نہ اٹھائی تو نواز شریف کو آئندہ 24 سے 48 گھنٹے میں بیرون ملک بھجوادیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے ڈاکٹر طاہر شمسی کی صلاحیت پر نواز شریف کی بیرون ملک منتقلی کا فیصلہ چھوڑا ہوا ہے، اگر ڈاکٹر شمسی نواز شریف کا بون میرو ٹرانسپلانٹ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ٹھیک ہے ، بصورت دیگر انہیں فوری طور پر خصوصی طیارے کے ذریعے لندن شفٹ کردیا جائے گا۔

ادھرترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نواز شریف کی صحت بہتر ہے، علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی باتوں میں صداقت نہیں، نواز شریف کی صحت پر حکومت سیاست کررہی ہے‘ وزیراعظم سیاسی مخالفین کو سزائے موت کی چکیوں میں رکھنا چاہتے ہیں‘ وہ سیاسی مخالفین کو اغواء کرارہے ہیں‘ نیب اور ترجمانوں کی زبان بندی ہونی چاہئے‘ پہلے کلثوم نواز کی صحت پر بیانات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز اور رانا ثناء اللہ کے بارے میں شہریار آفریدی نے کہا کہ ویڈیو اور تمام ثبوت موجود ہیں‘ ویڈیو میں نگرانی اور ریکوری دونوں موجود ہیں لیکن گزشتہ روز اے این ایف نے کہا کہ ہمارا وزیر جھوٹ بولتا ہے ہمارے پاس کوئی ویڈیو موجود نہیں ہے اور ہمارا کام ہی نہیں ہے ویڈیو بنانا نہ ہی ہمارے پاس نگرانی کی ویڈیو ہے۔ جبکہ اے این ایف حکام نے الزام لگایا کہ کیس میں تاخیر کی وجہ وزارت قانون اور وزارت داخلہ ہیں۔ مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ اب تک وٹس ایپ پر تبدیل کیا ہوا جج واپس نہیں آیا ہے کسی دوسرے جج کو تعینات نہیں کیا گیا ہماری جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر کیس کی کارروائی کی جائے۔ لیکن یاد رہے کہ ہم آمر کے دور میں بھی سیاسی چکیوں میں رہ چکے ہیں اور اس کے بعد تیسری مرتبہ ملک کے منتخب وزیراعظم بھی بن چکے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کوٹ لکھپت جیل حکام پر الزام لگایا کہ میاں نواز شریف کی طبیعت بگڑنے کے باوجود انہیں پانچ گھنٹے تاخیر سے ہسپتال لے جایا گیا۔

دوسری جانب سینئر صحافی و اینکر پرسن کامران خان نے کہا ہے کہ ’انتہائی کلیدی عہدوں پر فائز دو حکومتی شخصیات نے مجھے کنفرم کیا کہ نواز شریف کی صحت تشویش ناک ہے، اگلے 24 گھنٹوں میں اگر  platelets خود بننا شروع نا ہوئے اور مرض بھی diagnose نہ ہوا تو نواز شریف کو بیرون ملک جانے دیا جاۓ گا وزیر اعظم کو بتایا گیاہے حکومت اس ایشو پر تساہل نہ برتے۔‘

مزید : Breaking News /قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور /اہم خبریں