چینی بحران سکینڈل:مسابقتی کمیشن کی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات

چینی بحران سکینڈل:مسابقتی کمیشن کی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چینی بحران پر مسابقتی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے، مسابقتی کمیشن رپورٹ میں ہوشربا انکشافات ہوئے ہیں،رپورٹ میں شوگرمالکان ذمہ دار قراردے دیئے گئے۔شوگر ملز کا گٹھ جوڑ 2010سے جاری ہے۔مسابقتی کمیشن کے سیکشن 4کی خلاف ورزی ثابت،مسابقتی کمیشن ایکٹ کی شق 30کے تحت کارروائی کی سفارش۔

نجی ٹی وی ڈان نیوز کے مطابق چینی بحران پر مسابقتی کمیشن کی رپورٹ میں شوگر مالکان کو ذمہ دارقرار دے دیا گیا۔شوگر ملزم کی چینی ذخائر سے متعلق غلط بیانی ثابت ہوگئی۔مسابقتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق شوگر ملز نے حکومت کو غلط اعدادو شمار بتائے، پنجاب میں شوگر ملز سٹاک شیئر کر کے قیمتیں کنٹرول کرتی رہیں۔رپورٹ کے مطابق کرشنگ سیزن کے آغاز میں تاخیر بھی شوگر ملز کا گٹھ جوڑ بھی ثابت ہوگیا۔ شوگر ملز جان بوجھ کر کرشنگ سیزن تاخیر سے شروع کرتی ہیں،شوگر ملز کا گٹھ جوڑ 2010سے جاری ہے۔ شوگر ملز نے من مانی قیمت طے اور سبسڈی حاصل کر کے گٹھ جوڑ کیا،چینی مہنگی ہونے سے مٹھائی، مشروبات سمیت دیگر صنعتوں کو نقصان ہوا۔

مسابقتی کمیشن رپورٹ کے مطابق سال2019میں چینی کی قیمت میں 19روپے اضافہ ہوا،برآمد کی اجازت کے باعث مقامی مارکیٹ میں چینی مہنگی ہوگئی۔ پنجاب میں چینی کی پیدواری قیمت 43تا 78روپے فی کلو ہے ۔ مسابقتی کمیشن نے چینی کی صنعت کو پابندیوں سے آزاد کرنے کی سفارش کر دی ۔چینی کی قیمت مارکیٹ کی ڈیمانڈ سپلائی کے تحت طے کی جائے ۔

مسابقتی کمیشن نے بحران کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش کر دی۔مسابقتی کمیشن کے سیکشن 4کی خلاف ورزی ثابت ہوئی،مسابقتی کمیشن ایکٹ کی شق 30کے تحت کارروائی کی جائے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -