میں امرتا پریتم کو مرد سمجھتا رہا

میں امرتا پریتم کو مرد سمجھتا رہا
میں امرتا پریتم کو مرد سمجھتا رہا

  

میں زمانہ طالب علمی ہی سے تقاریر کرنے کا عادی ہوں اور کوشش کرتا رہا ہوں کہ ایسے فقرے یا اشعار کہوں کہ سامعین جذباتی ہو جائیں اور یہی ایک اچھے مقرر کی کامیابی ہوتی ہے۔   ایک دفعہ میں نے امرتا پریتم کی پنجابی کی  ذیل میں پیش کی گئی نظم یاد کی

اج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول

اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لکھ لکھ مارے وین

اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن

اس نظم کو دیکھتے ہی خیال آیا کہ اس نظم میں وارث شاہ، قبراں، عشق، دھی(بیٹی) اور وین وہ سارا سامان موجود ہے جس سے سننے والوں کو مکمل طور پر جذباتی کیا جا سکتا ہے اور اگر سامعین جذباتی ہو جائیں تو پھر مقرر کو اور کیا چاہئیے پھر تو تالیاں ہی تالیاں بلکہ نعروں کا بھی امکان ہوتا ہے۔ پھر کیا تھا کہ موقعہ محل ہوتا تھا یا نہیں میں اپنی تقریر میں کہتا کہ ہندوستان کے ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے اور مذکورہ اشعار فٹ کر کے خوب داد سمیٹتا رہا۔ اس دوران میری معلومات کے مطابق امرتا پریتم ایک ایسے مرد کا نام تھا جو شاعری بھی کرتا تھا  مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ امرتا پریتم عورت ہے۔ مزے کی بات ہے کہ اس کا مجھے خود اس وقت علم ہوا جب میں نے زمان خان کی کتاب Alternative Vision Voices of Reason کا مطالعہ کیا۔

آئیے بذریعہ زمان خان امرتا پریتم سے ملتے ہیں۔ امرتا پریتم سے ملنے سے پہلے زمان خان سے ملنا اس لئے ضروری ہے وہ ایک پختہ سڑک سے ہمیں مذکورہ شخصیت کے در دولت پر لے کر چلا جائے گا۔ زمان خان ایک ایسا انسان ہے جو انسان کی بات کرتا ہے اور اس کی حتی المقدور کوشش ہے کہ انسان کی بات بن جائے۔ کبھی وہ انسان کے ذہن کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ کبھی وہ انسان کے دھوپ میں جھلستے ہوئے بدن کے بارے میں آواز بلند کرتا ہے۔ کبھی وہ استعماری اور استحصالی قوتوں کی یلغار کو روکنے کے لئے اس کے سامنے انقلابی سوچ کی دیوار تعمیر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی وہ معاشرے میں تشدد اور تعصب کی فضا کو امن، آشتی اور محبت کی فضا میں بدلنے کے لئے سر پیر مارتا ہے تڑپتا ہے چیختا ہے چلاتا ہے نہ جیتا ہے نہ مرتا ہے جو مجھے سمجھ آئی ہے وہ یہ کہ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ انسان کی بے بسی پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ  نہ کچھ کرتا رہتا ہے اور اب اس نے مذکورہ کتاب قلمبند کی ہے مختصرا اس کتاب کا تعارف یہ ہے کہ انہوں نے جتنے لوگوں کے انٹرویو کئے ہیں وہ اس کتاب کا حصہ ہیں۔ زمان خان نے میرے ذہن نارسا پر بھی دستک دینے کی کوشش اس طرح کی ہے کہ یہ کتاب مجھے بذریعہ ڈاک بھیجی۔ انگریزی زبان میں لکھی ہوئی کتاب کا پہلا سبق ہی امرتا پریتم کا انٹرویو ہے۔

 اس طرح مجھے امرتا پریتم کو جاننے اور سمجھنے کا موقعہ ملا اور تیس چالیس سال بعد  مجھے معلوم ہوا کہ جس کو میں مرد سمجھتا رہا وہ تو عورت نکلی لیکن اس عورت کی نوائے درد نے ہر مرد اور عورت کے ذہن کو جھنجھوڑا اور اتنے جذباتی انداز سے دعوت فکر دی کہ ہم سب جذبات سے مغلوب ہو گئے۔

 امرتا پریتم شاعرہ اور ناول نگار ہیں۔ وہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے لاہور میں تعلیم حاصل کی۔بی اے کے امتحان کے دوران ان کو یہ خیال آیا کہ یہ نظام تعلیم تو محض یاد داشت کا امتحان تھا جبکہ وہ خود اپنے طور پر لکھ سکتی ہیں،لہٰذا اس نے اپنی بی اے کی تعلیم مکمل نہ کی۔ امرتا نے کل 75 کتابیں لکھیں جن میں 30 ناول، 18 شاعری اور بقیہ مختصر کہانیاں تھیں۔ یہ ساری کتابیں پنجابی اور ہندی میں لکھی گئی ہیں اور ان کتابوں کا 34 مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے  جب وہ چھٹی ساتویں جماعت کی طالب علم تھی تو اس نے چاند کو غور سے دیکھا اور چاند کے چہرے پر پہلے راج لکھا پڑھا اور پھر راجن پڑھا جس پر اس نے پہلی نظم لکھی اور لکھ کر جیب میں چھپا لی ایک روز اس کے والد نے جیب خرچ کے پیسے اسکی جیب میں ڈالے تو جیب کے اندر سے کاغذ پر لکھی نظم "راجن" برآمد ہوئی جس پراسکے والد سردار کرتار سنگھ نے پوچھا کہ نظم اس کی اپنی ہے تو امرتا نے بات چھپا کر ایک تھپڑ اس بات پر کھایا کہ اس نے جھوٹ کیوں بولا پھر اس تھپڑ کی تاثیر تھی کہ امرتا پریتم نے ہمیشہ سچ بولنا شروع کر دیا اور یہی وہ سچ تھا جس کی بدولت اس کی شاعری نے ہر شخص کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

امرتا پریتم ایک شاعرہ تھی اور شاعر اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھتا ہے اور جہاں اس کو انسان سسکتا نظر آئے تو وہ آواز اٹھاتا ہے یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہندوستان کے وقت جب امرتا پریتم کو لاکھوں بیٹیاں روتی ہو ئی نظر آئیں تو اس نے اس کا نوحہ کہہ کر دل کا غبار ہلکا کیا اس نے ہندوستان کے پنجاب میں ہونے والے واقعات پر بھی نظمیں تحریر کیں اور جب وہ راجیہ سبھا کی ممبر بنی تو وہاں بھی اس نے رائٹر رائیلٹی کی بات کی اور عورت کے حق میں آواز اٹھائی بہرحال اس کے اپنے بیان کے مطابق اس کو سیاست پسند نہ آئی شاید وہ ایک آزاد منش خاتون تھی اور اس کو سیاسی پارٹی کے جائز ناجائز فیصلوں کی زنجیروں میں قید نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اپنے انٹرویو میں مکمل عورت کی بات کچھ یوں کرتی ہے کہ مکمل عورت وہ ہے جو معاشی،جذباتی اور ثقافتی طور پر خود مختار ہو مزید یہ کہ آزادی کی بھیک نہیں مانگی جا سکتی اور نہ ہی آزادی کو سلب کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان میں بعض مخصوص مندروں میں عورتوں کے داخلے پر پابندی تھی اس کے خلاف بھی پرزور آواز اٹھائی گئی۔امرتا پریتم نے اوائل عمر گوجرانوالہ اور لاہور میں گزاری اور بعد ازاں ہندوستان منتقل ہو گئی اس کی باتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاکستانی ہم عصر شاعروں اورادیبوں سے تعلقات بھی تھے اور رابطے بھی جن میں فیض احمد فیض۔ سعادت حسن منٹواور سجاد حیدر وغیرہ نمایاں ہیں۔ امرتا ایک نظریاتی خاتون تھی اور اپنے نظریات کے پرچار کے لئے کسی حد تک بھی جا سکتی تھی اس کے نظریات کی بنیاد انسانی حقوق کا تحفظ تھا وہ انسان کو خوش خوش دیکھنا چاہتی تھی۔ 

مزید :

رائے -کالم -