گل مک گئی اے

گل مک گئی اے
گل مک گئی اے

  

نواز شریف کی چار تقریروں نے ریاست بالائے ریاست کو طشت از بام کر دیا۔ 

انہوں نے 20 ستمبر 2020ء کو اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں جو مدعا اٹھایا تھا، ٹھیک ایک ماہ بعد 20 اکتوبر 2020ء کو اس کی عملی شکل سامنے آ گئی۔ احسن اقبال درست کہتے ہیں کہ ”گل مک گئی اے“، اور ایک مہینے میں ہی ”مک گئی اے“سمندر نے ایک ماہ میں ہی نعش کو اگل دیا۔ 

بلاول کو چاہئے تھا کہ وہ وزیراعظم سے نوٹس لینے کا کہتے جنہوں نے ندیم ملک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”آئی ایم دی باس“۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے کبھی نوٹس ملنے پر کہا تھا کہ

نوٹس ملیا ککھ نہ ہلیا

کیوں سوہنے دا گلہ کراں 

لکھ واری بسم اللہ کراں 

مولا بخش چانڈیو اب بھی کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا ہدف عمران خان ہیں، ان کو لانے والے نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی کی اسی گومگو کی پالیسی کے سبب 19 اکتوبر کو بلاول بھٹو نے مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بیٹھنے سے گریز کیااور اسی گومگو پالیسی کی وجہ سے آج پیپلز پارٹی سندھ تک محدود ہوتی جارہی ہے اور نون لیگ سندھ میں گھستی جا رہی ہے۔

نواز شریف نے پہلی تقریر 20 ستمبر کو اے پی سی میں کی، دوسری تقریر نون لیگ کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی، تیسری سنٹرل ورکنگ کمیٹی اور چوتھی تقریر گوجرانوالا جلسے میں کی جس کے بعد چاقو کھل گئے کراچی پہنچتے ہی دوبدو لڑائی شروع ہو گئی۔ آئی جی سندھ نے چھٹی کے بہانے کُٹی کی تو فیصلے ہونا شروع ہو گئے۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کریڈٹ نون لیگ لے گی، پیپلز پارٹی لے گی یا آرمی چیف لیں گے، پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے ہاتھ میں کچھ نہ آئے گا کیونکہ اس سارے قضیے میں وہ irrelevant یعنی غیر متعلقہ ہو چکی ہے۔ اس کا کام صرف ہمنوائی ہے۔ 

حکومت معیشت کے درست ہونے کی نوید سنارہی ہے جبکہ اپوزیشن عوام کے مسائل کے نام پر میدان میں ہے، اس کی نظر فیٹف کے اجلاس پر بھی ہے جو آج ہورہا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا، اس پر بھی اپوزیشن حکومت کی گت بنائے گی، خوب جلسے جلوس کرے گی اور حکومت کی این آراو نہ دینے کی بڑھک صدا بصحرا ہوتی چلی جائے گی۔ ہاں البتہ اگر خواجہ آصف اور اعتزاز احسن اپنا زور لگانے میں کامیاب ہوگئے تو پی ڈی ایم میں دراڑ پڑسکتی ہے، اس کے علاوہ اس اتحاد کو اب اسٹیبلشمنٹ بھی نہیں ہلا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی بوکھلاہٹ میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور  وہ اداروں کو لڑانے کے بیانئے کے پیچھے چھپنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے اور پی ڈی ایم کو شر کی قوتیں قرار دیتے ہوئے آئی جی سندھ کی غیرت کو بلاول ہاؤس کا اشارہ قرار دے کر دِل پشوری کر رہی ہے۔ ایسے میں کرونا کے پھیلاؤ کا خوف بھی کرکرا ہوگیا ہے اور خواجہ آصف بتارہے ہیں کہ وزیراعظم انہیں فکس کرنے کے او ر ان کا ایکسیڈنٹ کروانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ 

البتہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ نواز شریف کے بیانئے کا سہارا لے کر بھارتی میڈیا نے پاک فوج کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ شروع کر دیا ہے، اگر نواز شریف نے ایک حد سے آگے بڑھ کر اپنے بیانئے کو ہوا دی تواس کی قیمت نون لیگ کو اداکرنا پڑے گی۔ان کا ہدف آئین کی بالادستی اور سویلین سپریمیسی ہے، لیکن ان کی حلیف جماعتیں خالی عمران خان کو نکالنے پر ہی اکتفا کرنا چاہتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر نون لیگ آئین کی بالادستی کی لڑائی لڑنا چاہتی ہے تو مہنگائی کا تذکرہ کیوں کرتی ہے، کیونکہ مہنگائی میں تو اداروں کا کوئی ہاتھ نہیں ہے اور اگر مہنگائی پر اپنی تحریک استوار کرنا چاہتی ہے تو اداروں کے خلاف کیوں بول رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نون لیگ یا تو کنفیوز ہے یا پھر اپنے تئیں عوام کو کنفیوز رکھنا چاہتی ہے۔ اس کا ایک اشارہ تو اس سے ملتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) دونوں ہی اپنی اپنی کنفیوژن کا اظہار کر رہی ہیں۔ ہم منیر نیازی کے اس شعر پر اپنی بات چھوڑتے ہیں کہ

وہ  کھڑا  ہے  ایک  بابِ  علم  کی دہلیز پر

میں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو

مزید :

رائے -کالم -