بڑے سیاستدانوں کی غیرموجودگی میں 

بڑے سیاستدانوں کی غیرموجودگی میں 
بڑے سیاستدانوں کی غیرموجودگی میں 

  

30 سال ادھر کی بات ہے جب کالا باغ ڈیم نے بڑی توجہ لی ہوئی تھی۔ایک تقریب میں ہم آٹھ دس لوگ جمع تھے۔ موضوعِ سخن یہ تھا کہ کالا باغ ڈیم بنانے کی راہ میں فلاں فلاں قسم کے لوگ مزاحمت کر رہے ہیں۔ اتنے میں ہمارے اس مجمع میں ایک صاحب تشریف لائے۔ انہیں تفصیلات پتا چلیں تو سخت خفا ہوئے اور ہماری کم عقلی پر وہ  تین حروف بھیج کر اٹھ گئے: " ڈیم؟ مسئلہ کیا ہے؟ یعنی کہ کالا باغ ڈیم؟ کیوں مشکل کیا ہے؟ مجھے اوپر سے بس ایک اشارہ چاہیے۔جب میرے 500 جوانوں نے وہاں گنوں کے ساتھ پوزیشنیں سنبھال لیں تو پھر میں دیکھتا ہوں کہ کون مزاحمت کرتا ہے۔ جب فائر کھل جاتا ہے ناں, تو پھر مزاحمت کار بھاگتے پھرتے بھی نہیں ملتے آپ کو، ہاں جی۔ہم لطف اندوز تو ہوئے لیکن بحث مباحثہ ممکن نہیں ہوتا۔

تیس سال گزر گئے۔منجھے ہوئے اور ملک کو کچھ دینے والے سیاستدانوں کی ذرائع ابلاغ پر کردار کشی کے وہ وہ نمونے دیکھنے سننے کو ملے کہ توبہ ہی بھلی۔ اس کانٹے دار فصل کی ہمیں پیداوار کیا ملی؟ نئی نسل تو مکمل طور پر الجھی ہوئی اور ژولیدہ فکری کا شکار۔ باقی آبادی کے آپ دو حصے کر لیں۔ ایک حصے کے کاسہ سر کے اندر، شرط لگا لیں، دماغی خلیوں کی جگہ آپ کو کرپشن کے خلیے ملیں گے۔ لیبارٹری سے ان کے دماغ کا تجزیہ کرا لیں، ہر خلیے پر لفظ کرپشن کندہ ملے گا۔ ان لوگوں سے آپ جنت دوزخ آخرت کی بات کریں تو جواب سیاستدانوں کی کرپشن کا راگ ملہار۔ مغلیہ دور حکومت کی بات کریں تو جواب میں کرپشن کی رام لیلا۔ آپ آذربائیجان اور آرمینیا کی لڑائی پر تبادلہ خیال کرنا چاہیں تو جواب میں کرپشن کی تسبیح و تہلیل۔ اس ہائبرڈ وار کے طاقتور فریق کی کرشمہ سازی ملاحظہ ہو، بے چارگی کی شکار اس قوم کا حاصل آزادی کیا ہے؟ ذہنی لحاظ سے معذور اور مفلوج آبادی! مجھے تو خدشہ ہے کہ یہ لوگ نماز کے بعد سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر کی تسبیح کرنے کی بجائے غیر ارادی طور پر کرپشن، کرپشن، کرپشن کا ورد کرتے ہوں گے۔

رہا ملکی آبادی کا مذکورہ بالا دوسرا حصہ تو اس نے پہلے حصے کے سلیکٹڈ قائد اور سلیکٹروں کے خلاف بھرپور مناظرانہ جنگ شروع کر رکھی ہے۔ جسے مخالف دھڑا ہائبرڈ وار قرار دے کر پوری قوم کو شام، عراق اور لیبیا کے انجام سے سبق سیکھنے کی تلقین کر تا ہے اور خوش ہوتا رہتا ہے۔ اب صورت یہ بنی کہ کچھ سیاستدان جیل میں، کچھ ملک سے باہر، کچھ مقدمات میں ایسے الجھا دیے گئے کہ وہ چپ اور خاموش۔ پھر ایک دن ایک سیاستدان کو گرفتار کرنے کی ضرورت پیش آگئی۔ سیاستدان تربیت یافتہ کمانڈو تو ہوتے نہیں کہ ذرا سے عدالتی بلاوے پر امراض قلب کے شفا خانے میں بھاگ کر پناہ لے لیں۔ یہ بیچارے تو ایک کانسٹیبل کی چند گھرکیوں کی مار ہوتے ہیں۔ لیکن بہادر اور دلاور اتنے کہ پچاس سالہ مدت کی رفیقہ حیات کو بستر مرگ پر چھوڑ کر سینہ تانے خود کو قانون کے حوالے کردیتے ہیں۔ جیل چلے جاتے ہیں، برستی گولیوں کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہو کر کبھی شہید ملت کہلاتے ہیں، تو کبھی دختر مشرق، لیکن دبئی فرار نہیں ہوتے،نہ برفیلی ہواؤں اور چلچلاتی دھوپ کا سیاپا کرتے ہیں۔۔چنانچہ اس سیاستدان کو گرفتار کرنے کی ضرورت لاحق ہوئی تو اسے سیدھے سبھاؤ گرفتار کرنے کی بجائے رات کے پچھلے پہر کالاباغ ڈیم  بنانے کی ترکیب پر عمل کرتے ہوئے اس کی خواب گاہ کا دروازہ توڑا گیا۔ سندھ پولیس کے افسروں نے اپنے آئی جی کے مبینہ اغوا کے جواب میں کام چھوڑ دیا۔ آئی جی  سے  انسپکٹر تک 70 کے لگ بھگ افسران نے چھٹی کی درخواستیں دے دیں۔

یادش بخیر! سردار عبدالقیوم خان آخری عمر میں سیاست سے ریٹائر ہو کر گوشہ نشین ہوگئے تھے. اخبار نویس نے پوچھا: "حضرت! یہ کیا؟ ابھی تو آپ چل پھر رہے ہیں. اتنے بوڑھے تو نہیں ہوئے". بولے: "چل پھر تورہا ہوں لیکن میرے ہم عمر، ہم جلیس، اپنے پرائے سب دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں، یا مریض بن کر بستر پر پڑے ہیں۔میرے عہد، میری عمر، میرے زمانے کے وہ سانچے،  وہ پیمانے اور وہ ظروف سب ٹوٹ چکے ہیں۔ میں اپنے فہم، اپنی عقل اور اپنی بصیرت کی پیمائش، انہی سانچوں اور پیمانوں، سے کبھی لڑ کر، کبھی ناراض ہو کر اور کبھی دل لگی کے ذریعے کرلیا کرتا تھا۔اب ان ٹوٹے پیمانوں کو لاؤں تو لاؤں کہاں سے؟ جب وہ ہیں نہیں تو کن سے گپ شپ کروں جن کی بات نہ میں سمجھتا ہوں اور نہ ان سے ابلاغ ہو سکتا ہے۔ میں نے ان سے اپنی بھد اڑوانی ہے کیا"؟ 

سندھ کے 70 پولیس افسران کے احتجاجاً چھٹی پر جانے کی بات ہو رہی تھی۔ اپنے ہاں ایسی باتیں کچھ زیادہ غیر معمولی نہیں ہوتیں۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ بینظیر شہید ہو گئیں، اسحاق ڈار نیب زدہ،  نواز شریف ملک سے باہر فرار، آصف زرداری عملاً سردار عبد القیوم خان شہباز شریف جیل میں۔ اب بات کی جائے تو کس سے کی جائے کہ جب سانچے اور پیمانے ٹوٹ چکے ہیں یا توڑ دیے گئے ہیں۔ لیکن صاحب، نمبر ون، نمبر ون ہوتا ہے۔ دو ہی گھنٹوں بعد خبر ملی کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلاول بھٹو سے رابطہ کر کے اس موضوع پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا تو پولیس افسران نے چھٹی کی درخواستیں موخر کردی ہیں۔ دو روز قبل ہمارے بیٹے عبد الرحمن کی 32ویں سالگرہ تھی۔ بلاول بھٹو زرداری اور عبدالرحمن کی عمروں میں چند ہفتوں کا فرق ہے۔ پتا  نہیں آصف زرداری صاحب، بلاول کی شادی کیوں نہیں کرتے۔ "جس شخص کو ہم لمبی عمر (Extension) دے دیتے ہیں تو ہم اس کی ساخت ہی الٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ کیا انہیں عقل نہیں آتی." (سورہ یسین- 68)  منیر نیازی کا آب زر سے لکھنے کے لائق یہ نثری قول اس کی تمام شاعری پر حاوی ہے۔ "قرآن کی آیات اس قدر حسین و جمیل ہیں، اس قدر، اس قدر، اس قدر کہ بے ضمیر شخص کو دیکھتے ہی پردہ کر لیتی ہیں۔"

مزید :

رائے -کالم -