آمد  مصطفےٰؐ، مرحبا، مرحبا!

آمد  مصطفےٰؐ، مرحبا، مرحبا!
آمد  مصطفےٰؐ، مرحبا، مرحبا!

  

یہ ماہ ربیع الاول ہے، یہ اس عظیم ہستی کی آمد اور رخصت کا مہینہ ہے، جو وجہ وجود کائنات ہیں، ہم امتی جو ان کی وساطت سے بخشش کے طلبگار ہیں، انؐ کی کیا تعریف کر سکتے ہیں، ہم اتنے اہل کہاں؟ آپؐ کی تعریف تو خود اللہ تعالیٰ نے کی اور اپنی کتاب ان پر اتار کر اسی میں ان کا ذکر کیا اور امتیوں کو ہدایت ہوئی کہ آپؐ کا ذکر مبارک بلند کرتے رہیں۔ حضورؐ کی ولادت و آمد کے حوالے سے ہمارے لئے جو خوشی اور مسرت کا دن 12ربیع الاول ہے اس کے حوالے سے اسلامیان عالم یکم ربیع الاول ہی سے درود و سلام کی محافل منعقد کر رہے ہیں اور گھروں پر روشنیاں لگا رہے ہیں، جوں جوں یہ مبارک ساعت قریب آئے گی، یہ سلسلہ بڑھتا چلا جائے گا، کوچہ و بازار بھی سج جائیں گے امتی اس مہینے میں خیرات بھی دل کھول کر کرتے اور نیازیں بھی تقسیم کرتے ہیں، اس حوالے سے یہ لاہور اپنی مثال آپ ہے۔ 11ویں اور 12ویں ربیع الاول کو تو نیاز لینے اور کھانے والے کم پڑ جاتے ہیں، ان دنوں زندہ دلان لاہور باقاعدہ میز، کرسی سجا کر دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ اس مبارک ہستی کی آمد کے صدقے ہماری مشکلات آسان  کر دے۔

آج تقریباً ایک ہفتہ قبل یہ ذکر مبارک ایک مقصد کے تحت کیا کہ جس متبرک ترین ہستی کی یاد میں ہم سب یہ سب کچھ کرتے ہیں، ان کی شان مبارک تو یہ تھی کہ جب مکہ والوں کو دعوت حق دی اور پہاڑ پر کھڑے ہو کر ان کو پکارا تو وہ چلے آئے۔ آپ ؐ نے دریافت کیا، اے اہل مکہ اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے دشمن آ رہا ہے تو آپ لوگ مان لیں گے۔ سب نے بیک زبان کہا اے محمدؐ  تو صادق و امین ہے، ہم مان لیں گے کہ  تو ؐ ہمیشہ سچ بولتا ہے،آپؐ نے اس کے بعد ان کو دعوت حق دی اور اللہ کے دین اسلام کی طرف بلایا تو وہ نہ مانے، بہرحال آپؐ کی ثابت قدمی اور مسلسل دعوت سے نور اسلام پھیلتا چلا گیا۔

مجھے یہ کہنا ہے کہ ہم اس نبی پاکؐ کے امتی ہیں، جن کے دعویٰ نبوت سے قبل ہی وہ دیانت، امانت اور صداقت میں شہرت پا چکے اور ان پر یقین تھا،آپؐ نے جو بھی تعلیمات دیں، ان کا ذکر ہوتا رہتا ہے مجھے تو صرف یہ عرض کرنا ہے کہ آپؐ نے جتنا زور سچ بولنے اور صحیح تولنے پر دیا، شاید کسی ایک بات پر اتنا زور دیا ہو، آپؐ کی تلقین مبارک سچ، سچ اور سچ بولنا ہے، لیکن ہم جو آپؐ کے امتی ہونے کے دعویدار ہیں، اس ہدایت پر بھی عمل نہیں کرتے، حالانکہ اگر ہم سچ ہی کو اپنا لیں تو ہمارے سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں، بزرگ اور واعظ یہ بھی کہتے ہیں کہ خود آپؐ نے تجارت کی اور صحابہ بھی تجارت پیشہ تھے، اس کاروبار میں بھی سچ اور دیانت ہی کا بول بالا تھا اور آپؐ کے پیروکار منافع کے لئے کبھی بھی جھوٹ کا سہارا نہیں لیتے تھے، حتیٰ کہ نقص والی شے یا مال نقص بتا کر فروخت کرتے تھے، لیکن ہم ہیں کہ نہ صرف اس ہدایت بلکہ حکم پر عمل نہیں کرتے بلکہ جھوٹ کو معیار بنا لیتے ہیں اور معمولی معمولی بات کرکے جھوٹ بولتے ہیں، حتیٰ کہ موبائل فون پر کال سنتے ہوئے اس حد تک جھوٹ کہہ گزرتے ہیں، میں فلاں جگہ ہوں حالانکہ وہ مطلوبہ جگہ پرموجود ہوتے ہیں، یوں یہ جھوٹ ہمارے معاشرے میں رچ بس سا گیا ہے، حتیٰ کہ ہمارے ملک میں سیاست بھی جھوٹ کا نام ہو کر رہ گئی ہے، ہمارے سیاسی رہنما اور کارکن سچ کہنے سے گریز ہی نہیں کرتے بلکہ جھوٹ بول کر فخر محسوس کرتے ہیں، اب تو صورت حال یہ ہے کہ اپنے عیبوں پر نظر نہیں ڈالی جاتی اور دوسرے کے عیب تلاش کرکے ان کی تشہیر اور مذمت کی جاتی ہے،آج کے دور میں جو محاز آرائی جاری ہے اس کے دوران تو جو ”سچ“ کہا جا رہا ہے، اسے سن کر کانوں کو ہاتھ لگانا پڑتا ہے کہ اگر یہ سچ ہے تو پھر جھوٹ کیا ہو گا؟ ایک دوسرے پر بہتان طرازی میں بھی ہم شیر ہیں۔ اللہ کے پیارے رسول، خاتم النبین حضرت محمد مصطفےٰؐ نے تو ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنے سے بھی منع کیا ہے، لیکن ہم دوسرے کی عدم موجودگی میں اس کے بارے میں بہتان باندھتے ہیں اور ایسے ایسے الزام لگاتے ہیں کہ کان سن نہیں پاتے کیا ہمارے اندر ایمان کی ایسی رمق اور چمک باقی ہے کہ ہم رسولؐ کی آمد کے ماہ مبارک ہی میں توبہ کر لیں اور سچ کا راستہ اختیار کریں کہ اسی سے قوم کا بھلا ہوگا، ورنہ اب تو مغرب ہی سے پیش گوئی بھی تباہی والی ہوتی ہے۔ گزارش یہ کرنا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول مکرمؐ کی ہدایات پر عمل پیرا ہو جائیں اور دنیا و آخرت کی برکات سمیٹیں۔

بات صرف اتنی ہی تھی کہ ہم سیرت پاکؐ کے حوالے سے کوئی بات اور تعریف کرنے کے تو اہل نہیں ہیں، لیکن یہ تو کر سکتے ہیں کہ حضورؐ کی تعلیمات پر خود عمل کریں اور لوگوں کو بھی مستفید ہونے دیں اور ایسا ہونا چاہیے، جرائم بالکل تو بندنہیں ہوتے لیکن اگر تعلیمات محمدیؐ پرعمل کریں تو ان میں معتدبہ کمی بھی آ سکتی ہے۔

اس سلسلے میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے، لیکن یہ جو عرض کی وہ اس توقع سے کہ ہم سب بحیثیت مجموعی اور پاکستانی توبہ کر لیں کہ یہ در تو کھلا ہے۔

آخر میں یہ گزارش بھی کر دوں، بلکہ دہرا دوں کہ اختلاف کے باوجود حضور اکرمؐ  کی آمد اور پردہ پوشی کی تاریخ ایک ہی ہے جو اجماع امت کے مطابق 12ربیع الاول ہے۔میں ایک بار پہلے بھی عرض کر چکا کہ ابتدائی دور میں یہاں لاہور میں  یوم وفات منایا جاتا، جسے ”بارہ وفات“ کہا جاتا، یہ تو حضرت مولانا علامہ ابوالحسنات نے علماء کرام سے مشاورت کی اور ان کو بتایا کہ آپؐ کی آمد اور پردہ پوشی کا دن ایک ہی ہے، اس لئے اسے آمد مصطفےٰ ؐ کے طور پر منایا جائے اور جشن میلاد النبیؐ منایا جائے، ہم آپؐ کی آمد کی خوشی منانا چاہتے، چنانچہ اس پر اجماع ہوا اور اب اسے عیدمیلاد النبیؐ کے طور پر منایا جاتا ہے،ہمیں اس مبارک، مقدس ماہ اور ختم المرسلین خاتم النبین حضرت محمد مصطفےٰﷺ کی آمد کی خوشی منانا چاہیے، یہ عید ہی ہے اور اسے عید میلاد النبیؐ سے موسوم کیا گیا۔

مزید :

رائے -کالم -