عظیم الشان پاکستان بنانے کا عزم

عظیم الشان پاکستان بنانے کا عزم
 عظیم الشان پاکستان بنانے کا عزم

  

اُمت مسلمہ کی خوش قسمتی ہے اللہ نے پاکستان کی صورت میں ہر طرح کی نعمتوں سے مالا مال وطن دیا ہے، علامہ اقبالؒ  کے خواب کو تعبیر دینے کے لئے قائداعظمؒ کی قیادت، مسلمانوں کو کتنی قربانیاں دینا پڑیں، کتنی عصمتیں لٹانا پڑیں، کتنے بھائی بہنوں سے جدہ ہوئے اور کتنے والدین اپنی اولادوں کو قربان کر کے وطن ِ عزیز ملنے پر شاداں ہیں۔ لائبریاں تاریخ کی کتابیں، ویڈیو، آڈیو سے بھری پڑی ہیں۔ کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کئے گئے اسلامی نظریاتی مملکت ِ پاکستان کے وسائل، موسموں، معدنیات پر 72 سال بعد بھی بحث جاری ہے، اس جیسا ملک دُنیا میں موجود نہیں ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے اہل ِ پاکستان اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں، قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہندو بنئے نے ہمیں دِل سے تسلیم نہیں کیا،ان کے عزائم پہلے دن سے سرزمین پاکستان کا وجود اِس دُنیا سے مٹانا، اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا، سرحدوں پر قتل و غارت، نئی نسل کو اخلاقی قدروں سے محروم کرنا، قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کر کے مسلمانوں کی شناخت کو مٹانا، معاشی طور پر تباہ کرنا رہا ہے، اس میں اب تک کس حد تک کامیابی ہوئی ہے دُنیا کے سامنے ہے،بنگلہ دیش کی صورت میں پاکستان کو دو ٹکڑے کر کے دُنیا بھر میں شادیانے بجا چکا ہے، ہماری پاکستانی عوام کا المیہ رہا ہے قیام سے اب تک ہم اپنے پرائے، کھرے کھوٹے محب ِ وطن اور ملک دشمن کی پہچان نہیں کر پائے،اس کی واضح مثال تین تین دفعہ اقتدار کے مزے لوٹنے والی پارٹیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، سادہ لوح عوام کو کبھی دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کبھی سبز اور سرخ کی سیاست اور کبھی شیعہ اور سنی کا نعرہ لگا کر رام کرتے چلے آ رہے ہیں اس کا فائدہ ہمارا ازلی دشمن بھرپور انداز میں اٹھاتا آ رہا ہے،اس میں ہماری قوم کی سادگی ہر گز نہیں قرار دی جا سکتی، البتہ لالچ اور بیوقوفی ضرور کہا جا سکتا ہے،کیونکہ ہم مٹھائیاں بانٹ کر حکمرانوں کو کندھوں پر سوار کر کے اسلام آباد پہنچاتے ہیں اور پھر اس کی اصلیت سامنے آنے پر ہائے ہائے کرنے میں بھی دیر نہیں لگاتے،بدقسمتی والی بات یہ ہے قیام پاکستان سے اب تک کے سیاسی ادوار اسے جمہوری کہہ لیں یا آمریت؟

ہم بند کمرے میں کبھی کبھی اپنی اپنی جماعتوں کی محبت اور ان سے وابستہ مفادات کے باوجود مذاق مذاق میں یہ کہہ جاتے ہیں، یار جمہوریت سے تو مشرف دور اچھا تھا، کم از کم دو گروہ تو نہیں کھا رہے تھے، ڈالر اتنے کا تھا، مہنگائی نہیں تھی، بیرون ملک سے سرمایہ کاری آ رہی تھی، عوام کے ذہنوں میں راسخ ہوتی یہ باتیں بھی ہمارے دشمن کو قبول نہیں تھی انہیں ہمارے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بناتے بناتے 50ہزار سے زائد نوجوانوں کی قربانیاں بھی اچھی نہیں لگتی،انہیں تخریب کاری، بم دھماکوں کی سازشوں کو ناکام بنانے والی آئی ایس آئی بھی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔

عوام بھوکی مر جائے دو وقت کا کھانا نہ ملے، انہیں یہ بات بھی معلوم ہو ہم جن کو  زندہ باد کہہ کر اقتدار تک پہنچا رہے ہیں۔یہ حکمران صرف پاکستان میں حکومت کرنے کے لئے آتے ہیں ان کے بچے،ان کی جائیدادیں پاکستان میں نہیں، اقتدار سے محروم ہونے کے بعد ایک دن بھی وطن ِ عزیز میں رہنا پسند نہیں کرتے،عوام کا بھرا ہوا سرکاری خزانہ بھی خالی کر کے جاتے ہیں، دو سال یا تین سے زائد سال تک اقتدار کا مزا لوٹنے والے عوام کو یہ فقرہ بھی دے جاتے ہیں، زرداری، نواز شریف،شہباز شریف تھے تو کرپٹ، مگر یار وہ کھاتے تھے،مگر لگاتے بھی تھے۔

کچھ لگانے والی کہانی72سال سے عوام کو جمہوری کھیر کا مزا دے رہی ہے، عوام کو زندہ ہے بھٹو، میاں دے نعرے وجن گے،سوا آج تک اگر کچھ ملا ہے تو بے روزگاری، بھوک، افلاس، مہنگائی، بدامنی، قتل گیری، خود کشی، بے پردگی، فرقہ واریت، صوبائیت کے تحفے ملے ہیں۔ گیارہ جماعتوں کے اتحاد کے منشور کے عوام کو مایوس کیا ہے، گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں کی تقریروں اور میاں نواز شریف کی پاک فوج کے سربراہ کے خلاف تقریر نے نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے، مَیں تو سر پکڑنے بیٹھا ہوں، ان تجزیہ گاروں اور کالم نویس حضرات اور اینکر کے جو کہہ رہے ہیں، میاں نواز شریف نے ادارے کے خلاف بات نہیں کی، فرد کے خلاف بات کی ہے یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی باپ کو کہا جائے آپ تو ٹھیک نہیں ہیں آپ کا بیٹا بیٹی بڑے اچھے ہیں۔

دوسری بات جس نے پریشان کر رکھا ہے وہ سوشل میڈیا پر ہر آدھے گھنٹے بعد بریکنگ نیوز کا ہے۔ یہ صورتِ حال اُس وقت بھی تھی جب چینل کے درمیان مقابلہ کی دوڑ تھی، اب سوشل میڈیا کی ریٹنگ کے مقابلے نے افواہوں اور سازشوں کا بازار گرم کر رکھا ہے، کہتے ہیں، میڈیا آزاد نہیں ہے، یو ٹیوب پر ہر آدھے گھنٹے بعد ایک اینکر آ رہا ہے، اہم استعفیٰ آرہا ہے، نیا آرمی چیف آ رہا ہے، فیصلہ ہو گیا، عمران جا رہا ہے، فیصلہ ہو گیا یہ سب کیا ہے، کیا عالمی طاغوتی طاقتیں کامیاب ہو گئیں ہیں؟ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، جھوٹا ثابت کرنے، عرصہ پہلے کی گئی باتوں کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کی کردار کشی کی مہم خوفناک ہی نہیں، خطرناک بھی ہے۔

سرخ، سبز، نیلی، پیلی، مسلکی دائیں بائیں صوبائیت کی سیاست کرنے والوں کے نئے پی ڈی ایم کی شکل میں چوں چوں کے مربے نے تو ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ عوام کی حالت ِ زار دیکھنے کا وقت نہ حکمرانوں کے پاس ہے، نہ اپوزیشن کے پاس، ملک بھر کی جماعتوں میں ایک جماعت اسلامی اکیلی رہ گئی ہے، اسے بھی بہودہ انداز میں طعنہ زنی کی زد میں لانے کی مہم جاری ہے،وہ اس گروہ میں کیوں شامل نہیں ہو رہی،عام آدمی تو عام آدمی متوسط طبقہ تو پس کے رہ گیا ہے، اِن حالات میں جب ایک ہفتہ میں بیس بیس نوجوان سرحدوں پر قربان ہو رہے ہیں پارہ پارہ ہوتی ملک کی یکجہتی کے حوالے سے سوچنے،بات کرنے کا کسی کے پاس وقت نہیں،مَیں ان مشکل ترین حالات میں حب الوطنی کا پیغام لے کر میدان میں آنے والے آئی بی ایل کے چیئرمین میجر سعید راجپوت اور ان کے ساتھیوں کو  سلام پیش کرتا ہوں،جب پوری قوم ایک دوسرے کی غلطیاں نکالنے، ایک دوسرے کو جھوٹا قرار دینے کی سازشوں میں مصروف ہے۔

میجر سعید نے آئی بی ایل کی روایت کو سامنے رکھتے ہوئے وطن ِ عزیز کو ”عظیم الشان پاکستان بنانے کی مہم کا آغاز کیا ہے، اس کو باقاعدہ فورم کی شکل دی ہے۔ میجر محمد سعید، بریگیڈیئر(ر) ظفر، بریگیڈیئر طور صاحب سے مختصر نشست میں اندرونی حالات اور بیرونی سازشوں کا علم ہونے کے بعد عظیم الشان پاکستان بنانے کی مہم کا دست ِ بازو بننے کی ضرورت ہے۔ عظیم الشان پاکستان فورم میں صرف ریٹائر فوجی نہیں،بلکہ چاروں صوبوں میں تمام جماعتوں اور تنظیموں کے محب ِ وطن افراد بلا تفریق حصہ بن کر وطن ِ عزیز کا تحفظ کرنے اور اس کو عظیم الشان بنانے کے لئے عزم کر رہے ہیں۔دُنیا بھر میں پاکستان کو تماشا بنانے کی مہم جوئی میں مصروف طاقتوں کو پیغام دینے کے لئے ضروری ہے۔ عظیم الشان پاکستان فورم کا دست ِ بازو بنا جائے، یہ سیاسی جماعت نہیں، وطن ِ عزیز کی خاطر جان قربان کرنے اور اس کی اقدار کو بچانے کی مہم ہے، جس میں ہم سب کو حصہ ڈالنا چاہئے۔ اگر کوئی محب وطن شخصیت رابطہ کرنا چاہے تو براہِ راست عظیم الشان پاکستان کا حصہ بننے کے لئے میجر(ر) محمد سعید سے فون نمبر 0321-4342121 پر رابطہ کر سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -