"اللہ مجھ سے محبت کرتا ہے "

"اللہ مجھ سے محبت کرتا ہے "

  

ایک دن میں نے اپنے پروفیسر سے پوچھا کہ  ؛ اگر انسان مایوسی کے دروازے پر کھڑا ہو ، مقدر اُسے گمراہ دیکھائی دے رہا ہو ، نا امیدی اس کے گوشے گوشے میں بکھری ہوئی ہو۔ تو ان حالات میں کیا کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ہر انسان کی زندگی میں ایسے دن آتے جاتے رہتے ہیں۔ آپ کا کیا ردعمل ہوتا ہے ؟ اُس وقت آپ خود کو کیسے مضبوط کرتے ہیں؟ بکھرنے سے خود کو کیسے بچاتے ہیں ؟  اس پر وہ بولے کہ میں یہ سوچتا ہوں  " اللہ تعالیٰ مجھ سے محبت کرتا ہے" اور بس یہ سوچنا ہی کافی ہوتا ہے کہ سب اندھیروں کو پار کرتے ہوئے ۔ میں واپس لوٹ آتا ہوں ۔ ان کی بات سننے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ شاید ان کو یہ سوچ  اس لیے اتنی تقویت بخشتی ہے کیوں کہ ان کہ پاس دنیا کی ہر وہ چیز موجود ہے جس کی ایک عام انسان کو خواہش اور ضرورت ہوتی ہے۔  واقعتاً اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے ۔ تبھی تو ہر چیز سے نوازا ہے۔ پھر مجھے یہی بات رات و دن تنگ کرنے لگی کے کیا حقیقتاً اللہ ہم سے محبت نہیں کرتے ؟  کیا ہم اس کے بندے نہیں ہیں؟ 

کچھ دن انہیں الجھنوں کا شکار رہی ۔ پھر ایک دن اچانک میں نے ایک ٹیگ لگا دیکھا جس پر یہ لکھا تھا کہ "2020 میں لوگ سب سے ذیادہ ڈیپریشن کا شکار ہوئے ہیں" یہ پڑھنے کے بعد آپ یہ سوچیں گے کہ اس کی وجہ بھوک ہے تو ایسا بلکل غلط ہے ۔ کیوں کے باخدا !ایسے ایسے لوگوں نے موت کو گلے لگایا ہے کہ : بھوک جن کی اگلی نسلوں کو بھی شاید نہ چھُو سکتی ۔درحقیقت  ڈیپریشن کی اصل وجہ فارغ پن ہے جو اس وقت ہمارے پڑھے لکھے نوجوان طبقے کو لاحق ہے۔ بے شک مصروفیت اللہ کے عطاء کردہ انعاموں میں سے ایک انعام ہے ۔ ایک فارغ انسان سوچوں کا مرکز ہوتا ہے ۔ سوچیں بہت آسانی سے شیطان کے ہاتھوں ہلاک کروا دیتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ لوگ موت کو ترجیح دیتے ہوئے اس دنیا فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔ مگر یہاں ان سوچوں میں اکتر اوقات مجھے ایک شعر یاد آتا ہے کہ ،

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائینگے

مر کے  بھی چین نہ پایا  تو کدھر جائینگے

مگر یہ سب تو ہمارے سوچنے کی باتیں ہیں ۔ زندگی سے بیزار انسان کو یہ سوچنے کی فرصت ہی کہاں۔ وہ سوچے گا تو یہ کہ ، میرے پاس پیسے نہیں ہیں ،  گھر نہیں  ہے ، اچھے کپڑے نہیں ، اچھی گاڑی نہیں ہے ، علم نہیں ،میں ذہین نہیں ، میرے پاس اچھے نمبر نہیں ہیں ، میرے پاس نوکری نہیں ، سفارش نہیں ، میرے اچھے میلاپ نہیں ہیں ، میں زندگی کا ہارا ہؤا ہوں، میں ایک ناکامی کی مثال ہوں ، میں ناکام انسان ہوں۔ میرے پاس شہرت نہیں ہے ،میری معاشرے میں عزت نہیں ہے اور امیر خاندانوں کے سپرد جن کی پیدائش سونے کے چمچ لیے ہوتی ہے وہ یہ سب ہونے کی وجہ سے ان کا گلہ تو نہیں کرپاتے لحاظہ وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کے پاس زندگی میں سکون نہیں ہے ۔۔۔۔ گویا ناشکری کی انتہا کرتے چلے جاتے ہیں اور کسی نہ کسی پہلو سے مایوسی کو نکال کر خود پر مسلط کر لیتے ہیں ۔ اور نا اُمیدی کو خود پر سوار کرنا اپنا فرضِ اولین سمجھتے ہیں۔ حیرت تو تب ہوتی ہے جب یہ بات علم میں آتی ہے کہ اس ڈیپریشن کا شکار زیادہ تر پڑھا لکھا طبقہ ہے ۔ غریب تو آج بھی اپنی دال روٹی پر خدا کا شکر گزار رہتا ہے ۔ مگر ناجانے اس تعلیم نے نوجوان نسل کو خود سے بغاوت پر کیوں مجبور کر دیا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے ۔ جس کو تسلیم کر کہ اس کا حل ڈھونڈنا بہت ضروری ہے۔ کیوں کہ اگر ایسے ہی چلتا رہا تو ہم سب اندھیروں میں لوٹ جائیں گے ۔ اندھیرا ہمارا منتظر ہوگا ۔ ایسا اندھیرا جہاں خود کا وجود تلاش کرنا ناممکن ہو جائے گا ۔ 

اب یہاں وہ بات سوچنے کی ضرورت ہے جس کا ذکر شروع میں کیا مجھے اور آپ کو اس بات کی اہمیت کا یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ اس تاریکی سے اگر کوئی سوچ نکال سکتی ہے تو وہ صرف یہ کہ ایک ذات ہے جو ہم سے محبت کرتی ہے ۔ ہر قدم پر ہمیں اُس کی سپورٹ حاصل ہے ۔ وہ جس نے اس مقام تک پہنچایا وہ آگے منزل تک بھی لے جائے گا۔  اس کے علاؤہ اور کوئی سہرا نہیں ہے ، نہ کبھی ہوگا ۔ صرف وہی ہے جو بے لوث محبت کرتا ہے ، بغیر کسی غرض کہ  کرتا ہے ۔وہ رات کی تاریکی میں بھی سنتا ہے ، اور دن کے اُجالے میں بھی ہمارے ہمراہ ہوتا ہے۔ وہی ہے جو ہر وقت  ہمارا مددگار ہے ۔

۔

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

 ۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -