نوازشریف کی حوالگی کے لیے برطانیہ کو لکھے گئے خط میں بڑی خامی سامنے آگئی

نوازشریف کی حوالگی کے لیے برطانیہ کو لکھے گئے خط میں بڑی خامی سامنے آگئی
 نوازشریف کی حوالگی کے لیے برطانیہ کو لکھے گئے خط میں بڑی خامی سامنے آگئی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت پاکستان نے برطانیہ سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کا مطالبہ کردیا اور اس حوالے سے رواں ماہ کے شروع میں برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل کو ایک خط لکھا تھا، خط میں کہاگیاہے کہ برطانو ی وزیر داخلہ کا فرض ہے کہ وہ کرپشن کیس میں سزایافتہ مجرم سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ملک بدر کریں تاکہ وہ بدعنوانی کے الزام میں اپنی قید کی سزا بھگت سکیں‘خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی ایک عدالت نے نواز شریف کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں لیکن اب اس خط میں بڑی خامی سامنے آگئی ہے ۔ 

سماجی کارکن، کالم نگار، اداکارہ اور مصنفہ شمع جونیجو نے  لکھا کہ " حکومت پاکستان نے نواز شریف کو "ڈی پورٹ" کرانے کیلئے برطانیہ کو خط لکھا جس میں دو بڑی غلطیاں ہیں، ایک یہ کہ لفظ ڈی پورٹیشن اور ریموول کی تعریف میں فرق ہے ، آپ کسی کی بھی ریموول کی درخواست کرسکتے ہیں لیکن ڈی پورٹیشن ان غیرملکی مجرموں کی ہوتی ہے جنہوں نے برطانیہ میں سنجیدہ نوعیت کا جرم کیا ہو"

انہوں نے مزید بتایا کہ نوازشریف کو برطانیہ میں کبھی بھی ایک سال کی جیل نہیں ہوئی ، اس کے باعث ایک سادہ سی بات یہ ہے کہ وہ برطانوی امیگریشن قوانین کے مطابق لازمی ڈیپورٹیشن کے حقدار نہیں ہیں ۔ 

ان کا مزید کہناتھاکہ اگر برطانیہ نوازشریف کو ریموو کرنا بھی چاہے تو اس خط کو بھیج کر ممکنہ ریموول مزید مشکل بنادی گئی ہے ، عمران خان کو فعال وکلاء کی ضرورت ہے ۔ 

مزید :

اہم خبریں -برطانیہ -