سی سی پی او لاہور کی تبدیلی کی خبریں ، اصل حقیقت سامنے آگئی

سی سی پی او لاہور کی تبدیلی کی خبریں ، اصل حقیقت سامنے آگئی
سی سی پی او لاہور کی تبدیلی کی خبریں ، اصل حقیقت سامنے آگئی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)سی سی پی او لاہور محمد عمر شیخ کی تبدیلی کی خبروں پر آئی جی پنجاب خود میدان میں آگئے ،ایسی بات کہہ دی کہ لاہور پولیس کے سربراہ کی تبدیلی کی خواہش رکھنے والےعناصر مایوس ہو جائیں گے ۔

تفصیلات کے مطابق سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تبدیلی سےمتعلق سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلی ہوئی ہیں جبکہ ایک نجی ٹی وی"92 نیوز" نے بھی خبر دی تھی کہ عمر شیخ کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ سابق آر پی او گوجرانوالہ طارق عباس قریشی کو لاہور کا نیا سی سی پی او تعینات کر دیا گیا ہے تاہم ان خبروں کے بعد آئی جی پنجاب انعام غنی نے  سی سی پی او لاہورکی تبدیلی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ  عمر شیخ کو تبدیل نہیں کیا گیا،سی سی پی او عمر شیخ کی تبدیلی سے متعلق چلنے والی افواہیں بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔

دوسری طرف پولیس ذرائع نےبھی تصدیق کرتے ہوئےکہاہےکہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تبدیلی کی خبریں بے بنیاد ہیں،وہ تین روز کی چھٹی پر ہیں اور انکی بیٹی کی شادی جاری ہے، واپس آ کر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

خیال رہے کہ عمر شیخ کو کچھ عرصہ پہلے ہی سی سی پی او لاہور کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا،وہ اس عہدے پر آتے ہی تنازعات کا شکار ہوگئے اور آئےروزان کےخلاف شکایت دیکھنے میں آرہی ہیں۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ نےعہدے کا چارج سنبھالا تو اس وقت کے آئی جی شعیب دستگیر کے ساتھ ان کا اختلاف ہوگیا جس کے نتیجے میں آئی جی کو عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ان کے بارے میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ انہیں ایک انتہائی طاقتور حکومتی شخصیت کی پشت پناہی حاصل ہے جس کے باعث ان کی بجائے ان کے سینئر کو عہدے سے ہٹایا گیا۔ 

9 ستمبر کو موٹروے زیادتی کیس پیش آیا تو عمر شیخ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے بھی کافی ہنگامہ برپا کیا۔ گزشتہ دنوں ان کی ایک خاتون کو گالیاں دینے کی آڈیو لیک ہوئی جس کے بعد ان کی اپنے کاروباری پارٹنرز کو دھمکیاں دینے کی آڈیو کال بھی لیک ہوئی تھی۔پنجاب حکومت کی جانب سے کئی معاملات پر سی سی پی او کا کھل کر دفاع کیا گیا جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی ان کی تعیناتی سے خوش نہیں ہیں۔

مزید :

Breaking News -علاقائی -پنجاب -لاہور -