اعلیٰ حکام سے مذاکرات کامیاب ، انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اساتذہ نے پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج ملتوی کردیا

اعلیٰ حکام سے مذاکرات کامیاب ، انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اساتذہ نے پنجاب ...
اعلیٰ حکام سے مذاکرات کامیاب ، انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اساتذہ نے پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج ملتوی کردیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) اعلی حکام کی طرف سے مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی کے بعد ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن یوای ٹی نے کل 24 اکتوبر کوپنجاب اسمبلی کے سامنے ہونے والے احتجاج کی کال واپس لے لی۔

تفصیل کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے ساتھ دوروز سے جاری مذاکرات کے بعد ٹی ایس اے یوای ٹی نے احتجاج کی کال واپس لے لی ہے ۔اعلی حکا م کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر شالیمار مہدی مالوف اور ایس پی سٹی صفدر کاظمی نے یوای ٹی میں ٹی ایس ے کے صدر ڈاکٹر فہیم گوہر اعوان،جنرل سیکرٹری ڈاکٹر تنویرقاسم اور ایگزیکٹو ممبر ڈاکٹر اویس رشید کے ساتھ تفصیلی مذاکرات ہو ئے۔ ضلعی حکومت کے طرف سے اعلی حکام کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر شالیمار مہدی مالوف اور ایس پی سٹی صفدرکاظمی نےیوای ٹی کا دور کیااور ٹی ایس اے کی قیادت سے مذکرات کیے اور ان کے مطالبات سنےاور انہیں یقین دہانی کرائی کہ ہم آپ کی جلد وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کرائیں گے، آپ کے مطالبات بالکل جائز ہیں،ہمیں امید ہے کہ بات چیت سے آپ کے مسائل حل ہو جائیں گے اور آپ کو احتجاج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

مذاکرات کے بعد ٹی ایس اے کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ٹی ایس اے کے صدر ڈاکٹر فہیم گوہر کا کہنا تھا کہ ہمیں بھرپور یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آپ کے مطالبات پورے ہوں گے، اس مقصد کے لیے وزیر اعلی پنجاب کے ساتھ ہماری ملاقات کرائی جائے گی۔ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر تنویرقاسم کاکا کہنا تھا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، ہمیں احتجاج کا کوئی شوق نہیں مگر ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کردیا گیا ہے تاہم ہم نے اعلی حکام کی یقین دہانی کے بعد احتجاج کی کال واپس لی ہے، ہمار ا احتجاج موخر ہوا ہے اور یہ مطالبات کی منظوری سے مشرو ط ہے، اگر ہمارے مطالبات نہ تسلیم کیے گئے تو احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر شالیمار مہدی مالوف اور ایس پی سٹی صفدر کاظمی نے ٹی ایس اے کی قیادت کا احتجاج موخر کرنے کے فیصلے کو سراہا اوران کا شکریہ ادا کیا۔

یاد رہے کہ ٹی ایس اے نے اپنے درج ذیل مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کی کال دی تھی۔پنجاب حکومت یوای ٹی کے ایک ارب روپے واپس کرے۔(جو محمد نوازشریف یوای ٹی ملتان اور رچنا انجینئرنگ کالج کی مد میں استعمال کیے گئے۔)تیس کروڑ کی بطور قرض ادائیگی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔یہ عارضی ریلیف ہے۔پنجاب حکومت یوای ٹی کو بحرا ن سے نکالنے کے لیے بیل آؤٹ پیکج دے۔دیگر محکمہ جات کی طرح یوای ٹی اساتذہ کو ٹیکنیکل الاؤنس دیا جائے۔ یوای ٹی کا گزشتہ دس سالوں کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔یوای ٹی کے کنٹریکٹ اساتذہ کو مستقل کیا جائے۔ریشنلائزیشن پالیسی تبدیل کی جائے۔ایچ ای سی کے معیار پر پورے اترنے والے اساتذہ کی اگلے گریڈ میں ترقی دی جائے۔ ٹائم سکیل پرومشن پالیسی کا یوای ٹی میں بھی اطلاق کیا جائے۔ٹیکنیکل الاؤنس کے لیے وزیر اعلی کی قائم کردہ کمیٹی عملا غیر فعال ہے اس کمیٹی کو فعال کیا جائے۔یوای ٹی کو اس کے کیلنڈر کے مطابق چلایا جائے۔وائس چانسلر اپنے آفس کے دروازے کھولیں۔سینڈیکیٹ اور سینٹ کے اجلاس کلینڈر کے مطابق ریگولر کرائے جائیں۔یوای ٹی کو انڈسٹریز کے ساتھ انٹر لنک کیا جائے۔حکومت انفراسٹریکچر اور دیگر پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے یوای ٹی کی سروسز حاصل کرے۔یونیورسٹی میں 1437ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کی نشستوں کے خاتمے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -