” ماما والا منجن مت بیچیں بلکہ ۔۔“شہباز گل کا بھانجی کہنا شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب کو پسند نہ آیا ،نوکھ جھوک شروع ہو گئی 

” ماما والا منجن مت بیچیں بلکہ ۔۔“شہباز گل کا بھانجی کہنا شیریں مزاری کی ...
” ماما والا منجن مت بیچیں بلکہ ۔۔“شہباز گل کا بھانجی کہنا شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب کو پسند نہ آیا ،نوکھ جھوک شروع ہو گئی 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بیٹی ایمان زینب کو ٹویٹر پر حکومت پر شدید تنقید کرنے پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جواب دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا تاہم اب اس نوک جھوک میں حکومتی ترجمان شہباز گل بھی شامل ہو گئے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ایمان زینب نے ٹویٹر پر شہباز گل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر حکومت چلانے کے قابل ہوتے تو عوام کو ہر وقت مذہب کا درس نہ دے رہے ہوتے بلکہ اپنی کارکردگی دکھا رہے ہوتے۔جن لوگوں نے ملک کی معیشت تباہ کر دی، میڈیا پر بے شمار قدغنیں لگائیں اور اپوزیشن کو ہراساں کیا ان کے پاس مذہب کے پیچھے چھپنے کے سوا اور کیا راستہ رہ گیا ہے..“

ایمان زینب کے ٹویٹ پر شہباز گل بھی میدان میں آئے اور انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”آپ ہیں تو ہماری بھانجی لیکن آپکا منجن بکتا ہے اپنی والدہ کے ارد گرد موجود لوگوں کو برا بھلا کہنے پر۔ آپ سے رشتہ ایسا ہے کہ آپکو کیا جواب دیا جائے۔ بیٹا دبا کے رکھیں۔“

شہباز گل کی جانب سے بھانجی کہنے پر ایمان زنیب ایک مرتبہ پھر میدان میں آئیں اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ”میری والدہ کے ارد گرد جو لوگ ہیں وہ ان کا انتخاب ہے۔ اس کا مطلب ہر گز نہیں کے میں آپ کی بھانجی ہوں۔اگر میری بات کا آپ کے پاس کوئی جواب ہے تو ضرور دیجئے۔۔۔ اپنے ٹرولز کی طرح "ماما ماما" والا منجن مت بیچیں۔“

یاد رہے کہ ایمان مزاری نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اگر ملک کو جادو ٹونے سے ہی چلانا تھا تو پھر اس قوم کا پیسہ اتنی بڑی کابینہ پر کیوں ضائع ہو رہا ہے۔ ملک کا مذاق جادو ٹونے سے اڑایا جا رہا ہے اور آپ چاہتے ہیں کے جادو کرنے والوں پر بات بھی نا ہو۔۔۔ ایسا تو ہر گز نہیں ہو گا۔“

ایمان مزاری کے اس پیغام پر جواب دیتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا تھا کہ  ”میں شرمندہ ہوں کہ تم اتنے ذاتی نوعیت کے بے بنیاد حملوں کا سہارا لو گی ، خصوصی طور پر جب بطور وکیل آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بغیرثبوت اس طرح کے الزامات بدنامی ہے ،جب تمام بنیادی مسائل پر مبنی تنقید ناکام ہو جاتی ہے تو ذاتی نوعیت کے حملے کرنا سیدھ سیدھا شرمناک ہے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -