آبی وسائل کے تحفظ کی اہمیت

آبی وسائل کے تحفظ کی اہمیت
آبی وسائل کے تحفظ کی اہمیت

  

چین میں رہتے ہوئے اس حقیقت کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ یہاں لوگ فطرت سے بہت محبت کرتے ہیں۔فطرت کا ہر رنگ چاہے وہ درختوں ،پھولوں ،دریاوں یا پھر حیاتیاتی تنوع کی کوئی بھی صورت ہو ،چینی لوگوں کی طرزفکر اور طرزعمل دونوں ہی فطرت کے تحفظ پر مرکوز ہوں گے۔آبی وسائل کی بات کی جائے تو  چین کے مختلف ساحلی علاقوں اور دریاوں کی سیاحت کے بعد آپ لازماً چینی حکومت اور چینی عوام کو داد دیں گے کہ کیسے انہوں نے ان دلکش فطری رنگوں کو  محفوظ کیا ہے۔نہ تو آپ کو ان آبی وسائل کے پاس کوئی تجاوزات نظر آئیں گی ،نہ ہی کوئی کوڑا کرکٹ ملے گا ،نہ ہی یہاں کسی فیکٹری کا آلودہ پانی خارج کیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی انسانی سرگرمی دیکھی جا سکتی ہے جو  ان وسائل کے لیے نقصان دہ ہے۔

اس کی ایک بنیادی وجہ چین کی اعلیٰ قیادت کے رویے ہیں جو عوام کو باور کرواتے ہیں کہ ہم نے فطرت کی قیمت پر ترقی نہیں کرنی ہے بلکہ ایسی اقتصادی سماجی ترقی کو پروان چڑھانا ہے جو فطرت سے ہم آہنگ ہو ۔ چین کے اعلیٰ رہنما تواتر سے ان آبی وسائل کے حیاتیاتی ماحول کا جائزہ لیتے ہیں اور موقع پر ہی احکامات صادر کیے جاتے ہیں۔اس طرح متعلقہ حکام بھی آبی زخیروں بالخصوص دریاوں کے تحفظ کے لیے ہمیشہ چوکس رہتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ کسی بھی وقت ان سے بازپرس کی جا سکتی ہے اور غفلت کا کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں ہے۔اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ابھی حال ہی میں چینی صدر شی جن پھنگ نے چین کے مشرقی صوبہ شانگ دونگ کے شہر دونگ ینگ میں دریائے زرد کے دہانےکے اُس حصے کا دورہ کیا جہاں دریائے زرد سمندر سے ملتا ہے ۔ انہوں نے اس مقام پر واقع گھاٹ، دریائے زرد کے ڈیلٹا کی حیاتیاتی نگرانی کےمرکز اور یہاں  قائم  قومی سطح کی قدرتی حفاظتی زون میں دریائے زرد کے ماحول کا جائزہ لیا ۔ انہیں مقامی تحفظِ ماحول اور اعلیٰ معیاری ترقی کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی ۔

دریائے زرد ڈیلٹا کی قومی قدرتی حفاظتی زون اکتوبر 1992 میں قائم کی گئی تھی۔ تیس سال قبل آس پاس کےعلاقے ویران تھے۔ لیکن اب یہاں کےماحول میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے بعدنمایاں بہتری آئی ہے۔ چین کا "مادر دریا" اور "چینی تہذیب کا گہوارہ" سمجھے جانے والے دریائے زرد کے طاس نے گزشتہ چند سالوں کے دوران اپنے حیاتیاتی ماحول میں غیر معمولی بہتری دیکھی ہے کیونکہ چینی حکومت ملک  کی دوسری طویل ترین آبی گزرگاہ کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔چینی صدر شی جن پھنگ بھی دریائے زرد کے ماحولیاتی تحفظ اور اعلیٰ معیاری ترقی کو کلیدی سمجھتے  ہیں اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18 ویں قومی کانگریس کے بعد سے متعدد بار دریائے زرد کے آس پاس کے نو صوبوں کے دورے کیے ہیں۔

صدر شی کے نزدیک  دریائے زرد کا تحفظ چینی قوم کی عظیم اور پائیدار ترقی کے لیے اہم ہے۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ چین نے ماحولیاتی تحفظ اور  دریائے  زرد کے طاس کے اعلیٰ معیار کی ترقی کو ایک اہم قومی حکمت عملی قرار دیا ہے۔صوبہ چنگھائی سے شروع ہونے والا دریائے زرد نو صوبوں اور خود اختیار علاقوں سے گزرتا ہے اور شانگ دونگ میں بحیرہ بوہائی میں جا گرتا ہے۔ دریائے زرد ایک "ماحولیاتی راہداری" کے طور پر،  چنگھائی۔تبت سطح مرتفع، لوس مرتفع اور شمالی چین کے میدانی علاقوں میں پانی کی شدید قلت کو حل کرتا ہے، حیاتیاتی ماحول کو بہتر بنانے، صحرا زدگی سے نمٹنے اور پانی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ امر قابل زکر ہے کہ 5464 کلومیٹر طویل آبی گزرگاہ چین کی 12 فیصد آبادی کو خوراک فراہم کرتی ہے، تقریباً 15 فیصد قابل کاشت زمین کو سیراب کرتی ہے، قومی جی ڈی پی کے 14 فیصد کو مضبوط حمایت فراہم کرتی ہے، اور 60 سے زائد شہروں کو پانی فراہم کرتی ہے۔

اسی اہمیت کے پیش نظر  چینی صدر نے اپنے دوروں کے دوران دریائے زرد کے تحفظ میں مشکلات اور مسائل کی نشاندہی کی ہے مثلاً نازک حیاتیاتی ماحول، آبی وسائل کے تحفظ کی سنگین صورتحال اور ترقیاتی معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت وغیرہ۔شی جن پھنگ کے مطابق دریائے زرد کا امن و سکون چین کے استحکام کے لیے اہم ہے۔ اگرچہ دریا کے فطری ماحول نے  گزشتہ کئی سالوں سے بڑے خطرات نہیں دیکھے ہیں مگر اس کے باوجود صدر شی نے بارہا قوم سے کہا ہے کہ وہ اپنی چوکسی میں نرمی نہ برتیں۔

چین نے حالیہ برسوں میں دریائے زدر کی ترقی کے لیے اہم اقدامات اٹھائے ہیں جس میں سیلاب کنٹرول بھی شامل ہے ۔ 2019 تک دریائے زرد میں مٹی اور ریت کی جمع ہونے والی مقدار میں تقریباً 30 بلین ٹن کی کمی واقع ہوئی ہے۔دریائے زرد کے طاس کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دیتے ہوئے اناج پیدا کرنے والے بڑے علاقوں میں جدید زراعت کو آگے بڑھایا گیا ہے اور دریا کے کنارے بسنے والے باشندوں کی مختلف منصوبوں سے امداد کی گئی ہے ۔طاس کے علاقے میں 400 سے زائد ویٹ لینڈ نیچر ریزروز اور قومی پارکس بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ ابھی حال ہی میں چین نے 2030 تک دریائے زرد طاس کے تحفظ اور ترقی کے لیے ایک خاکہ جاری کیا ہے  جبکہ مختلف چیلنجز سے نمٹنے اور ماحولیاتی تحفظ اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے  قانون سازی میں بھی تیز ی لائی جا رہی ہے جو اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ چین فطرت اور مادی ترقی میں ہم آہنگی کے تصور پر عمل پیرا ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -