فون ماسکنگ ٹیکنالوجی سے پاکستانیوں کو لوٹنے کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ لیکن یہ ماسکنگ ٹیکنالوجی دراصل کس طرح کام کرتی ہے؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں

فون ماسکنگ ٹیکنالوجی سے پاکستانیوں کو لوٹنے کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ ...
فون ماسکنگ ٹیکنالوجی سے پاکستانیوں کو لوٹنے کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ لیکن یہ ماسکنگ ٹیکنالوجی دراصل کس طرح کام کرتی ہے؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں
سورس: Pixabay.com (creative commons license)

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں فون نمبر ماسکنگ ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو لوٹنے کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا۔ ویب سائٹ ’پرو پاکستانی‘ کے مطابق نوسرباز اب تک اس طریقے سے لوگوں کو کروڑوں روپے لوٹ چکے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نوسربازوں کا فون نمبر کال ریسیو کرنے والے شخص کو سکرین پر نظر نہیں آتا۔ 

آن لائن کئی ایسی ایپلی کیشنز موجود ہیں جو فون نمبر مخفی رکھنے کا کام کرتی ہیں۔ یہ ایپلی کیشنز محض 20ڈالر تک میں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی طرف سے فراڈ کے اس طریقے کے متعلق بتایا گیا ہے کہ نوسرباز ان ایپلی کیشنز کے ذریعے اپنافون نمبر مخفی رکھ کر جعلی شناخت سے لوگوں کو کال کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں کال موصول کرنے والے شخص کی سکرین پر کسی سرکاری ادارے کا نام ظاہر ہوتا ہے۔

نوسرباز عام طور پر ایف بی آر، سٹیٹ بینک آف پاکستان یا دیگر کسی بینک کا نام استعمال کرتے ہیں اور خود کو اس بینک یا ادارے کا نمائندہ بتا کر صارف سے اس کی بینکنگ تفصیلات، شناختی کارڈ، ایڈریس اورتاریخ پیدائش وغیرہ پوچھتے ہیں اور پھر ان معلومات کے ذریعے ان کے بینک اکاﺅنٹ سے رقم نکال لیتے ہیں۔

ایف آئی اے کو اب تک اس نوعیت کے فراڈ کی 7ہزار 600سے زائد شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ فراڈ کے اس طریقے کے شکار ہونے والے لوگوں میں ہر شعبہ زندگی کے لوگ ہیں۔ایک کاروباری شخص کے اکاﺅنٹ سے نوسربازوں نے اس طریقے سے 12لاکھ روپے اور ایک اور کاروباری شخص کے اکاﺅنٹ سے 37لاکھ روپے نکالے۔ایف آئی اے کی طرف سے لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ انہیں ایسی کوئی بھی فون کال آئے تو اپنی نجی نوعیت کی معلومات ہرگز مت دیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -