عدالت کا 30 دنوں میں فیصلہ ، سات سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے سفاک ملزم کو پھانسی کی سزا سنا دی

عدالت کا 30 دنوں میں فیصلہ ، سات سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے سفاک ...
عدالت کا 30 دنوں میں فیصلہ ، سات سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے سفاک ملزم کو پھانسی کی سزا سنا دی

  

ناگور (ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع ناگور  کی خصوصی عدالت نے سات سالہ معصوم بچی کے ریپ اور قتل کے الزام میں جرم ثابت ہونےپر سفاک ملزم کو پھانسی کی سزا سنا دی ہے ۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق خصوصی عدالت کے جج نے سات سالہ معصوم بچی کے ریپ اور قتل کے کیس کا فیصلہ 30 دنوں میں سناتے ہوئے کہا کہ ملزم دنیش جاٹ نےانتہائی سفاکانہ قدم اٹھاتےہوئےمعصوم کلی کو اپنی شیطانی ہوس کوپورا کرنےکےبعدقتل کیا ،مجرم معاشرےکےلئےایک’کلنک‘ہے ، اگر اسے زندہ رکھا گیاتو اس کےمستقبل میں جرائم کرنےکاخدشہ رہےگاجبکہ دیگرمجرموں کاحوصلہ بھی بڑھے گا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مجرم دنیش جاٹ کا یہ سفاکانہ اقدام شیطانی نظریے کو ظاہر کرتا ہے، بچوں کو بغیر خوف اور عدم تحفظ کے معاشرے میں خوشی کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے،آج والدین کے لئے اپنے بچوں کا تحفظ ایک چیلنج بن چکا ہے،اگر بچے گھر کے باہر محفوظ نہیں ہیں تو یہ پورے معاشرے کے لئے باعث تشویش  ہے۔

یاد رہے کہ کیس کی خاص بات یہ ہے کہ اس سنگین جرم کا فیصلہ ایک ماہ کے کم ترین وقت میں سنایا گیا ہے،کیس کی 11 دن سماعت ہوئی،  اس دوران متاثرہ فریق کی جانب سے عدالت میں29 گواہان پیش کئے گئے جبکہ ملزم نے اپنی صفائی میں ایک گواہ پیش کیا ،جج نے تمام گواہوں اور ثبوتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جرم ثابت ہونے پر سفاک ملزم کو پھانسی کی سزا سنا دی ہے ۔

واضح رہےکہ ضلع ناگورکےپادو کلاں پولیس سٹیشن کی حدودمیں گذشتہ ماہ 20ستمبر کو ملزم دنیش جاٹ نےسات سالہ بچی کو کھیتوں میں لے جا کر  زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعدراز فاش ہونے پکڑے جانے کے خوف سےقتل کردیا تھا ،سفاک قاتل معصوم بچی کی والدہ کا منہ بولا بھائی بنا ہوا تھا۔بچی کی لاش کھیتوں سے ملنے کے فوری بعد شک کی بنیاد پر پولیس نے 21 ستمبر کو ملزم دنیش کو گرفتار کرتے ہوئےچھ دنوں میں تمام تفتیش مکمل کرتے ہوئے 27 ستمبر کو چالان کورٹ میں پیش کردیا تھا ۔

مزید :

جرم و انصاف -