انتظارختم

انتظارختم
انتظارختم

  


انتظارختم ، وہ دن جس کا پاکستانی شائقین کرکٹ بے صبری سے انتظار کررہے تھے آج آہی گیا۔بے صبری سے انتظاراس لئے تھا کیونکہ پاکستانی ٹیم کا ٹی20کرکٹ ورلڈ کپ میں آج نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا امتحان ہے۔ٹیم اپنے پہلے پرچے میں کیا گُل کھلاتی ہے اس سے بے نیاز شائقین کو بس انتظار میچ کا تھا ۔نتیجہ کیا نکلے کا اس کی کسی کو پرواہ نہیں کیونکہ شائقین اپنے دفاتر، کارروباری مراکز، گلی ،محلوں اور تھڑوں پر بیٹھے پاکستانی ٹیم پربحث کرتے ہیںلیکن اس کی فتح کی بات پر سب کی زبان یہ کہہ کربند ہوجاتی ہے کہ اس کا کوئی اعتبار نہیں یہ کمزور ٹیموں کو بھی کبھی کبھی خوش کردیتی ہے اور مضبوط حریفوں کو ناکوں چنے بھی چبوادیتی ہے۔آج بھی پاکستان کا ایونٹ کی مضبوط کیوی ٹیم سے سامنا ہے۔یہ وہی کیویز ہیںاور وہی گراﺅنڈجہاں انہوں نے آخری بار ورلڈ کپ 2011ءمیں پاکستان کو 110 رنزکے بڑے مارجن سے زیر کیاتھا۔روز ٹیلر نے 131رنز کی اننگز کھیلی تھی اور وہ اسی خوش فہمی کو لئے پاکستان کے خلاف میچ کا انتظارکررہے تھے کہ وہ آج بھی کچھ کردکھائیں گے۔کیوی ٹیم پالے کیلی کے میدان میں ایک میچ کھیل چکی ہے جس کا ایڈاونٹیج اس کو حاصل ہے ۔پاکستان نے پہلا میچ کھیلنا ہے۔پالے کیلی کی پچ سپن دوست نہیں ہاں لیف آرم سپنرکیلئے اچھی ہے۔گو کہ پاکستان کے پاس سعید اجمل ،محمدحفیظ،شعیب ملک اور شاہدآفریدی جیسے اچھے سپنرز ہیں یہی سپنروں نے اگر گیند کو ہوا میں سوئنگ کرادیا تو کامیاب ہونگے ورنہ پچ ایسی کم بخت ہے کہ گیند گرتے ہی سپنر کاساتھ چھوڑکر بلے باز کی ساتھی بن جاتی ہے۔کیونکہ کیویز نے بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں سپنرز کے 12اوورز میں 117رنز بنائے تھے۔اس پچ پر فاسٹ باﺅلرز زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ پاکستان کو سخت گروپ میں رکھا گیا ہے اور اس کا پہلا امتحان ہی ٹف کیوی ٹیم سے ہے۔اگر جیتا تو سیدھا سپرایٹ میں ورنہ بنگلہ دیش کے خلاف میچ زندگی اور موت بن جائے گا۔پاکستانی ٹیم کا ٹی 20ورلڈ کپ میں شجرہ نسب بہت عمدہ ہے 2007ءکے پہلے ورلڈکپ میں فائنلسٹ رہی،2009ءکی فاتح اور 2010میں آسٹریلیا کے مائیکل ہسی کی اندھی بیٹنگ کی وجہ سے سیمی فائنل ہارگئی۔باﺅلرز نے اگرنیوزی لینڈ کے برینڈن میکولم اور روز ٹیلر کو جلدی دبوچ لیاتو فتح آسان ہوجائے گی۔ریکارڈ دیکھ کالگتا ہے ٹاس اور میچ پاکستان کی جھولی میں ہی گریں گے۔

مزید : کالم