تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو!

تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو!
 تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو!

  


خواتین و حضرات! آپ نے یہ محاورہ پڑھا اور سنا ہو گا کہ ” تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو....“ یہ بہت پرانا محاورہ ہے، تاہم تیل کی دریافت اور استعمال کے بعد ہی وجود میں آیا ہو گا۔ ہم اس محاورے کے نامعلوم موجد اور بنانے والے کی عقل و دانش اور دور اندیشی کی تعریف کرتے ہیں۔ اندازہ لگائیں اس نامعلوم شخص نے سینکڑوں سال پہلے اندازہ لگا لیا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا، جب لوگ تیل دیکھنے کو ترس جائیں گے اور اس کی اس قدر قلت ہو گی کہ تیل کی دھار ، یعنی ریل پیل کو بھی دیکھنے کو ترس جائیں گے۔ اگر آپ کے ذہن میں تیل سے مراد یہاں پٹرول نہیں ہے، بلکہ پکانے کا تیل ، یعنی ککنگ آئل ہے یا مٹی کا تیل ہے، تب بھی یہ محاورہ ان پر صادق آتا ہے۔ یوں بھی مٹی کے تیل اور پٹرول کی قیمتوں میں دوڑ لگی ہوئی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے مقابلے میں آگے پیچھے ہوتی رہتی ہیں۔ تازہ ترین اطلاع ہے کہ اب پٹرول 107 روپے لٹر ہو گیا ہے۔آپ کو یاد ہو گا، بلکہ آپ لوگوں کے سامنے کی بات ہے، جب قیمتوں میں اضافہ سال کے سال یکم جولائی کو بجٹ آنے پر ہوتا، باقی سارا سال قیمتیں مستحکم رہتی تھیں، پھر جب عوامی دور آیا تو اشیاءو خدمات کی قیمتیں بھی آزاد ہو گئیں۔ پہلے منی بجٹ، پھر بالکل اوپن ہو گئیں۔ اب حال یہ ہے کہ دکاندار، کار خانہ دار، رشوت لینے والے، بھتہ لینے والے اور پھیری والے، سب اپنا ریٹ اپنی مرضی اور منشاءسے بڑھا دیتے ہیں۔ ان حضرات نے معاشیات کے اصول اور قوانین، طلب اور رسد کا قانون، قیمتوں کے تعین کا قانون، مارکیٹ، پروڈکشن، درآمد برآمد، سرمایہ کاری، منافع اور منافع خوری، تجارت وغیرہ تمام قوانین کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ نجانے اب ماہرین معیشت اور معاشیات کا مضمون پڑھانے والے طلباءکو کون سی معیشت کے اصول اور قوانین پڑھاتے ہوں گے، تاہم تیل کا معاملہ ان سب پر بھاری ہے، چاہے وہ کھانا پکانے کا تیل ہو، گاڑی، موٹر سائیکل میں پھونکنے کا تیل ہو یا وہ تیل ہو جو بیگار کی محنت پر مزدور کے جسم سے بہہ نکلتا ہے۔

پٹرول، بمعنی تیل کو دیکھنے، خریدنے اور استعمال کرنے کی ہمت اور استطاعت اب کسی میں نہیں رہی۔ تیل کی قیمتیں بھی چڑھ رہی ہیں اور یہ نایاب بھی ہوتا جا رہا ہے۔ پٹرول اب ڈرموں، بیرل، پٹرول پمپوں اور معیشت سے نکل کر سیاست میں آگیا ہے، بلکہ عالمی سیاست کی بساط تک پھیل گیا ہے۔ اپنا امریکہ بہادر بھی جس ملک یا علاقے میں تیل کی بُو سونگھتا ہے، اس علاقے اور ملک پر چڑھ دوڑتا ہے یا اسے طاقت کے زور پر زیر کر لیتا ہے یا سیاسی چال بازیوں سے ہم نوا بنا لیتا ہے۔ عراق، لیبیا، شام اور سعودی عرب کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اب یہ آپ کی صوابدید پر منحصر ہے کہ آپ کسے طاقت اور کسے سیاسی چالبازی کے زمرے میں ڈالتے ہیں۔ یہاں بھی اس معصوم اور نامعلوم موجد کا محاورہ فٹ بیٹھتا ہے کہ ” تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو....“ بمعنی امریکہ کو دیکھو ، امریکہ کی چالیں دیکھو ۔ اسی بات سے علامہ اقبال نے بھی خبردار کیا تھا:

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

خواتین و حضرات! پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاو¿ کی داستان بھی بڑی عجیب ہے۔ پہلے سال بعد قیمتیں بڑھتی تھیں، پھر ماہانہ کی بنیادوں پر یہ کھیل شروع ہو گیا۔ اس کے بعد پندرہ روزہ تماشا، اب ہر ہفتے اس میں اتار چڑھاو¿ ہوتا ہے، جب حکومت نے قیمتیں کم کرنا ہوں تو خوشی خوشی اور فخر سے خبر آتی ہے کہ ”کل سے پٹرول کی قیمتوں میں کمی ہوگی“ اور جب قیمتیں بڑھانا مقصود ہو تو خبر آتی ہے ”کل سے پٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل ہو گا“۔

جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

ایک ہفتے عوام خوش ہوتے ہےں تو اگلے ہفتے ان پر پھر بجلی گر جاتی ہے۔ اتار چڑھاو¿ کا یہ کھیل عوام کے بلڈ پریشر کو براہ راست متاثر کرتا ہے، جو اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے۔ یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ اس اتار چڑھاو¿ کا تعلق تیل کی عالمی منڈی کے اتار چڑھاو¿ سے ہوتا ہے، جبکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ تعلق صرف چڑھاو¿ سے تعلق رکھتا ہے، اتار سے نہیں، یوں بھی حکومت کو کوئی نہ کوئی بہانہ چاہیے کہ وہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دے۔ اس کی مثال حال ہی میں ایک خبر پڑھتے ہوئے سامنے آئی کہ ”وینزویلا میں تیل کے ٹینک کو آگ لگ گئی۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھنے کا خدشہ“.... کل کو ہمیں کچھ ایسی خبریں بھی پڑھنے کو مل سکتی ہیں: ”لیبیا میں امریکی سفارت خانے پر حملہ، پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا اندیشہ“۔ ”مصر کی نہر سونیر میں مسافر کشتی ڈوب گئی، ایک سو سے زیادہ افراد کے ڈوبنے کا خطرہ، پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا امکان“۔ ”عام انتخابات سے پہلے بلدیاتی انتخابات ہوں گے، گورنر سندھ۔ ملک میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا احتمال“ ۔ ”پاکستان، آسٹریلیا سے آخری میچ ہار گیا، ملک میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا عندیہ“۔

اس کے علاوہ خواتین و حضرات جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ جب پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو ہر شے کی قیمت بڑھ جاتی ہے، حتیٰ کہ منڈی سے گدھا گاڑی اور ریڑھے پر سبزی پھل لانے والے بھی کرائے میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ درزی، حجام، دیگیں پکانے والے، سکولوں کی فیس، سینما اور تھیٹر کی ٹکٹ کے ریٹ بھی بڑھ جاتے ہیں۔ بچوں کے جیب خرچ اور بیوی کے ماہانہ بجٹ میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہرین معیشت چند سال پہلے یہ بھی کہتے سنے گئے کہ پٹرول کی قیمت کا براہ راست تعلق ڈالر کی قیمت سے ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت ڈالر سے آگے نکل گئی ہے۔ لگتا ہے اب ماہرین معیشت یہ کہتے سنے جائیں گے کہ پٹرول کی قیمت کا تعلق سونے کی قیمت کے اتار چڑھاو¿ سے ہوتا ہے۔

پٹرول کے ساتھ گیس، یعنی سی این جی کی قیمتیں بھی بڑھتی جا رہی ہےں۔ لوگ، دوست کہتے ہیں کہ اب یہ قیمت پٹرول کے برابر ہو جائے گی اور دونوں میں فرق مٹ جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی امیر غریب کا فرق بھی مٹ جائے گا اور کاروں والے موٹر سائیکل اور موٹر سائیکل والے سائیکل پر آجائیں گے۔ ہم اپنے پڑوسی ملک بھارت کی طرف دیکھیں تو وہاں پٹرول کی قیمت اتنی تیزی سے نہیں بڑھتی اور نہ ہی وہاں کے عوام اسے اپنی حد سے بڑھنے دیتے ہیں۔ یہاں چونکہ گاڑیوں والے سی این جی اور پٹرول پمپ پر طویل لائنوں میں گھنٹوں لگے رہتے ہیں، لہٰذا ان کے پاس نہ تو وقت ہوتا ہے نہ ہمت رہ جاتی ہے کہ کس طرح احتجاج میں حصہ لے سکیں۔ اکثر یہ خبر بھی آتی ہے کہ ملک کے فلاں حصے میں پٹرول نکل آیا اور پاکستان اب اس میں خود کفیل ہو جائے گا، پھر خبر آتی ہے کہ ایران سے گیس کی لائن پاکستان سے ہو کر بھارت جائے گی، پھر ایسی خبریں اچانک کہیں کھو جاتی ہیں اور ہم تیل کی دھار ہی دیکھتے رہتے ہیں، لگتا ہے ان تلوں میں تیل نہیں۔خواتین و حضرات! تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں زندگی مزید مشکل ہو جانے سے یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ ہم سب پیدل ہو جائیں گے۔ پٹرول اور تیل ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، جس کا اثر ہماری تمام سرگرمیوں، کام، کارروائیوں، کھانے پینے، سونے جاگنے اور روٹی کپڑے اور مکان سے ہے۔ ہماری معیشت، معاشرت، سیاست، صنعت، سرکار اور زندگی کی گاڑی کو تیل چلا رہا ہے اور یہ ایسے تلوں سے نکل رہا ہے، جن میں تیل نہیں اور عوام کو اب ہر ہفتے ایک نئی آزمائش سے نکل کر نئے امتحان کا سامنا کرنا ہوتا ہے:

اِک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو!

مَیں ایک دریا کے پار اترا تو مَیں نے دیکھا

مزید : کالم