کیوبیک صوبے میں علیحدگی کی تحریک

کیوبیک صوبے میں علیحدگی کی تحریک
کیوبیک صوبے میں علیحدگی کی تحریک

  


کینیڈا میں پچھلی بار جب انتخابات ہوئے تو ہمیں معلوم ہوا صوبہ کیوبیک والے بے آپے ہورہے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ کینیڈا سے الگ ہو جائیں، بعض کا خیال تھا فرانس سے الحاق کرلیں، لیکن زیادہ تر الگ ملک بنانا چاہتے تھے،ہمارے گھر سے کیوبیک صوبے کا شہر مانٹریال چار گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ہم فوراً وہاں پہنچے اور ان لوگوں کو سمجھایا بجھایا،بُرے نتائج سے آگاہ کیا، مل کر رہنے کی اہمیت پر قائل کیا۔انجام یہ ہوا کہ انتخابات میں علیحدگی پسند کامیاب نہ ہو سکے اور کیوبیک کینیڈا کا ہی حصہ رہا۔اس بار ہم مصروف تھے اور کسی نے ہم سے درخواست بھی نہیں کی کہ وہاں جا کر کیوبیک کے لوگوں کو سنبھالیں، ہم نہیں گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ صوبہ کیوبیک کے انتخابات میں علیحدگی پسند جماعت نے اکثریت حاصل کرلی اور مانٹرپال میں پارٹی کے حامیوں نے جشن منایا۔ابتدائی نتائج کے مطابق ساٹھ سے زائد نشستوں پر علیحدگی پسند جماعت کیوبیکسٹ کو برتری حاصل ہے اور وہ دوسری چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتی ہیں۔

کینیڈا کی حکمران جماعت لبرل پارٹی کے نو سالہ کیوبیک میں اقتدار کے جانے کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں، جن میں طلباءکی تعلیمی فیس کا بڑھنا اور لوگوں کی علیحدگی پسند سوچ ہے۔ کیوبیک صوبے کی سرکاری زبان فرنیچ ہے اور مانٹریال میں ہر بورڈ پر پہلے فرینچ اور کچھ انگلش ہوتی ہے۔مانٹریال سے ذرا باہر نکلیں تو انگریزی وہیں رہ جاتی ہے اور صرف فرینچ رہ جاتی ہے۔ ہم مانٹریال کے مضافاتی علاقے ہل میں گئے، وہاں میکڈانلڈ کو بھی ان کے نشان ”M“ کی وجہ سے پہچانے ، سڑکوں کے نام،عمارتوں پر لگے بورڈ اور لوگوں کی زبان سے یوں محسوس ہوتا ہے،جیسے فرانس میں آ گئے ہیں۔وہ انگریزی جاننے کے باوجود کسی بات کا جواب انگریزی میں نہیں دیتے۔صرف فرینچ بولتے ہیں۔فرانس میں بھی یہی حال ہے۔پیرس تک میں لوگ سیاحوں سے انگریزی نہیں بولتے،وہی بے چارے ٹوٹی پھوٹی فرینچ بول کر کام نکالتے ہیں۔

کیوبیک “ کے لفظی معنی ہیں: ”جہاں دریا تنگ ہوجاتا ہے“.... کیوبیک میں سینٹ لارنس دریا بہتا ہے،جو ایک جگہ بالکل پتلا ہوکر ایک نالہ سا بن جاتا ہے۔اس مناسبت سے اس شہر کو ” کیوبیک “ کہتے ہیں۔ کینیڈاکی حکومت کے لئے یہ علاقہ ہمیشہ سیاسی مسئلہ رہا ہے ،اس لئے حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ انگریزی بولنے والے اس صوبے میں بسائے جائیں، جن لوگوں کو امیگریشن ملتا ہے، انہیں زیادہ تر اسی علاقے میں بھیجا جاتا ہے،جہاں انہیں فرانسیسی زبان سیکھنے کے لئے باقاعدہ ماہانہ وظیفہ ملتا ہے۔آدمی اگر کوئی دوسرا کام نہ کرے تو اس رقم سے بھی گزر بسر ہو سکتی ہے۔ کیوبیک صوبے میں ملازمت کے لئے فرینچ جاننا لازمی شرط ہے۔وہاں رہنے والے تمام امیگرنٹس کے بچے بہترین انگریزی بولتے ہیں، اس علاقے میں کئی موسم ایک ساتھ ملتے ہیں، رقبہ بھی بہت ہے ،قدرتی وسائل بھی ہیں، لیکن وہاں کے مقامی لوگوں کو سکون نہیں، وہ علیحدہ ہونا چاہتے ہیں،یہ سب تو اپنی جگہ، لیکن اس بات پر حیرت ہے کہ وہاں مارپیٹ نہیں، مقامی، غیر مقامی کا مسئلہ نہیں، کوئی کسی کو اس بات پر نہیں مارتاکہ وہ اس کے علاقے میں کیوں رہتے ہیں، ہر شخص اطمینان سے ملازمت یا کاروبار میں مصروف ہے۔ہم دس سال سے اس انتظار میں ہیں کہ کوئی تو خبر ملے ۔کہیں سے کوئی اطلاع بھیجے کہ ”مقامی نے غیر مقامی پر حملہ کردیا، علیحدگی پسند پارٹی نے برسراقتدار پارٹی پر ایسے ایسے الزام لگائے کہ وہ منہ چھپائے پھرتے ہیں“....لیکن افسوس یہ لوگ ووٹ سے پارلیمنٹ میں لڑتے ہیں،قراردادیں پاس کرتے ہیں اورپُرامن طریقے سے تبدیلی چاہتے ہیں....کمال ہے کبھی ایسا ہوا ہے،جب تک ہنگامہ نہ ہو، توڑ پھور نہ کی جائے، اپنے بجلی کے کھمبے نہ توڑے جائیں،بسیں نہ جلائی جائیں اور بے گناہوں کومارا نہ جائے ، بات نہیں بنتی۔

خیال یہ ہے کہ کیوبیک والے کینیڈا سے فوراً علیحدگی نہیں لیں گے اور کبھی ایسا ہوا تو ہم ہیں نا چار گھنٹے کی مسافت ہے۔گھر سے نکلیں گے ،مانٹریال پہنچیں گے اور سینٹ پیٹر گرجا کی سیڑھیاں چڑھ کر سمجھائیں گے کہ مل کر رہو، بانٹ کر کھاﺅ اور پاکستان کی مثال دیں گے، جہاں کتنا اتحاد ہے،زبانیں الگ رسم و رواج علیحدہ، خیالات جدا آپس میں دست و گریبان پھر بھی ایک ہوتے ہیں۔کینیڈا کی لبرل پارٹی مطمئن رہے، ہم کیوبیک کو علیحدہ ہونے نہیں دیں گے۔   ٭

مزید : کالم