فاسٹ فوڈ والے جارہے ہیں؟

فاسٹ فوڈ والے جارہے ہیں؟
فاسٹ فوڈ والے جارہے ہیں؟

  


جو کوئی بھی اہل ایمان مغرب کا سفر کرتا ہے، اسے سب سے پہلی فکر خوراک کی ہوتی ہے، اب تو امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ”حلال فوڈ “ کا رواج عام ہے۔غیر مسلم کمپنیاں بھی اپنے کاروبار کے لئے یہ اہتمام کرتی ہیں کہ مسلمانوں کے لئے حلال فوڈ مہیا کیا جائے۔اس مقصد کے لئے باقاعدہ تحریر کیا جاتا ہے ، اگر کوئی یورپی یا امریکی ہوائی کمپنی کا سفر کرے تو اس مسافر سے ترجیح لی جاتی ہے۔وہ حلال فوڈ لکھوا دے تو اس کی تواضع حلال اشیاءخوردنی ہی سے کی جاتی ہے۔ہم نے جب پہلی مرتبہ برطانیہ اور امریکہ کا سفر کیا تو ان دنوں یہ سہولت بہت عام نہیں تھی،اگرچہ لندن اور واشنگٹن میں بعض پاکستانیوں اور بنگلہ دیشی مسلمانوں نے ریسٹورنٹ بھی بنا رکھے تھے،تاہم ان سے کھانے کے لئے پہلے میزبانوں سے مقام اور نام معلوم کرنا ضروری ہوتا تھا یا پھر میزبان خود ہی کسی ریسٹورنٹ کا رخ کرتے تھے۔ہم 1998ءمیں اپنے دوست نصراللہ خان کے مہمان ہوئے تو رات کا پہلا کھانا ہی ایک خوبصورت بنگلہ دیشی ریسٹورنٹ میں کھایا اور پھر یہیں پتہ چلا کہ یہاں حلال گوشت بھی ملتا ہے۔بہرحال ہمیں پریشانی اس لئے نہ ہوئی کہ ہمراز احسن اور مشتاق لاشاری سے لے کر خود ہمارے دوست کے حصہ دار سرجیت سنگھ سگو ہمارا بہت خیال رکھتے تھے، چنانچہ ہمیں لندن میں کبھی کوئی پریشانی نہ ہوئی۔بولٹن میں اپنی سالی صاحبہ کے مہمان تھے تو ایڈنبرا میں ہمارا بچپن کا دوست حفیظ موجود تھا۔یوں یہاں امریکہ جانے سے پہلے اور پھر واپسی پر بڑا اچھا وقت گزارا ،چار ماہ کا عرصہ پر لگا کر اُڑ گیا۔

لندن سے امریکہ روانگی ہوئی تو ہوائی سفر ہی کے دوران پریشانی نے آ لیا جب سٹیورڈ خاتون نے کھانے کے لئے پوچھا تو ہم نے حلال فوڈ کی درخواست کی۔ خاتون نے دریافت کیا۔کیا بورڈنگ کے وقت ہم نے یہ فرمائش نوٹ کرائی تھی، جواب نفی میں دیا تو میزبان خاتون نے معذرت کرلی۔اب ہماری باری تھی، بہرحال ہم نے راہ نکالی اور پوچھا کہ کیا”ویجیٹیرین“(سبزی خور) کے لئے کوئی گنجائش ہے تو پتہ چلا سبزی مل سکتی ہے تو ہمیں سبزی اور فروٹ پر گزارا کرنا پڑا۔واشنگٹن ایئرپورٹ (ڈلس) سے ہمارے محترم استاد اور دوست سید اکمل علیمی نے ساتھ لیا تو بعد میں کوئی پریشانی نہ ہوئی۔وہ ہمیں گھر لے جانے سے پہلے ہی ایک متشرع مسلمان کی دکان پر لے گئے اور وہاں سے بکرے کا گوشت اور چاول خرید لئے، پھر ہم گھر میں خود ہی پکاتے اور کھاتے بھی رہے کہ بھابی تو لاہور آئی ہوئی تھیں، اکمل علیمی نے ہمارے پندرہ روزہ قیام کے دوران ہمیں خوب سیر کرائی۔روزانہ دو ڈھائی سو میل سفر کرتے تھے، ایسے ہی ایک روز گھومتے ہوئے ہم ”کینٹکی“ پہنچے، جو ورجینیا ہی کے بازو میں ایک خوبصورت شہر ہے۔یہاں اکمل صاحب نے ہمیں”فرائیڈچکن“ کھلانے کی پیشکش کی اور بتایا کہ ”کینٹکی فرائیڈچکن“ بہت مشہور ہے اور پاکستان سے آنے والے اسے بہت پسند کرتے ہیں،جب ہم نے حلال گوشت کا مسئلہ پیش کیا تو انہوں نے بتایا یہ چین امریکیوں کی ہے۔ظاہر ہے کہ وہ مرغ شرعی طور پر تو ذبح نہیں کرتے، تاہم حفظان صحت کے اصولوں کوبہت مدنظر رکھا جاتا ہے۔ہم نے معذرت کرلی کہ ہم چند روزہ قیام کے دوران یہ غلطی نہیں کرنا چاہتے۔

قارئین! حیران نہ ہوں یہ بات بہت پرانی سہی،لیکن یاد اس لئے آ گئی کہ جمعرات اور جمعہ کے پُرتشدد واقعات کی وجہ سے فاسٹ فوڈ کمپنی نے پاکستان میں اپنا تام جھام اٹھانے کا اعلان کردیا ہے۔کے ایف سی کی انتظامیہ نے اپنا کاروبار ختم کرکے واپس جانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔اب تو پتہ چل گیا کہ اتنی تمہید کی ضرورت کیوں پیش آئی۔دراصل یہ کے ایف سی وہی”کینٹکی فرائیڈچکن“ ہے،جو کینٹکی سے مرکزی کاروبار شروع کرنے کی وجہ سے کے ایف سی کہلایا۔امریکہ سے واپسی پر یہاں کوئی ذکر تک نہیں تھا اور پھر ایسا ہوا کہ پاکستان پر فاسٹ فوڈ کی یلغار ہوگئی۔”میکڈونلڈ“ اور کے ایف سی دونوں کمپنیاں آ گئیں اور پاکستان میں مقبول بھی ہوگئیں، اور پھر برانچوں پر برانچیں کھلنے لگیں۔آج یہ صورت حال ہے کہ ہماری نئی نسل فاسٹ فوڈ کی شوقین ہوچکی، یہاں ان دو غیر ملکی کمپنیوں کے علاوہ کئی اور کمپنیاں بھی اپنے پیر جما چکی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کمپنیاں یہاں سے کما کر ہی لے جارہی ہیں، ویسے یہاں فرنچائزڈ بھی ہے اور بہت سے شہروں میں مقامی حضرات نے کمپنی سے معاہدہ کرکے نام لیا ہوا ہے۔

یہ کے ایف سی شروع میں پاکستان آئی تو حلال گوشت کے حوالے سے بہت شور ہوا تھا۔کمپنی چکن اور دوسری اشیائے خوردنی درآمد کرتی تھی۔وضاحتیں ہوئیں کہ حلال گوشت اور اشیاءاستعمال کی جاتی ہیں اور پھر وقت آیا کہ یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ مرغی نہ صرف ملک کے اندر سے خریدی جانے لگی، بلکہ ذبح بھی یہیں ہو کر گوشت مہیا ہوتا چلا آرہا ہے۔

جمعہ کے روز بعض مقامات پر کے ایف سی کے ریسٹورنٹ پر بھی توڑ پھوڑ ہوئی اور اسی کی وجہ سے کاروبار بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ مختلف شہروں میں کے ایف سی کے اپنے ساٹھ ریسٹورنٹ ہیں اور یہ سب بند کردیئے گئے ہیں، مالکان کی طرف سے مکمل تحفظ اور سیکیورٹی کا مطالبہ کیا گیاہے۔کے ایف سی بند ہونے اور چلے جانے سے یہاں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، البتہ ان 60ریستورانوں سے وابستہ سینکڑوں کارکن ضرور بے روزگار ہو جائیں گے۔اس کے علاوہ دوسرے غیر ملکی سرمایہ کار بھی متاثر ہوں گے۔پہلے ہی دہشت گردی کی وجہ سے حالات اچھے نہیں ہیں اور بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہورہی، اب اگر پہلے سے جمے ہوئے کاروبار بھی ختم کرکے سرمایہ نکال لیا گیا تو یقینا مارکیٹ پر برااثر پڑے گا۔کہنے کو تو یہ آسان بات ہے کہ چلیں فاسٹ فوڈ کی کمپنی کے چلے جانے سے یہاں کوئی کمی نہیں آئے گی، لیکن تجارتی نقطہ ءنظر سے اگر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو وہ اچھے نہیں ہوں گے یا تو ایسی کمپنیوں کو پہلے ہی کاروبار کی اجازت نہ دی جاتی، جن کے نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اب جانے سے بھی کچھ نہیں بگڑے گا، لیکن یہ ساکھ کا سوال ہے جو پہلے ہی بہتر نہیں، یوں بھی ہماری نوجوان نسل اب ایسے ہی کھانوں کی عادی ہوچکی ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ تحفظ ہی کے انتظامات کرکے یقین دلا دیا جائے، تاکہ یہ کاروبار بھی چلتا رہے۔جن حضرات نے یہ سب کیا ان کو بھی غور کرنا چاہیے کہ اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں؟  ٭

مزید : کالم


loading...