بینکوں کے کھیڑے اور بکھیڑے

بینکوں کے کھیڑے اور بکھیڑے
 بینکوں کے کھیڑے اور بکھیڑے

  


بزرگ صحافی اعجاز رضوی کے پسندیدہ محاورے کے مطابق ، آپ چاہیں تو مجھے ضدی یا ”کھڑپیچا“ ہونے کا طعنہ دے سکتے ہیں ، اس لئے کہ مَیں ان دنوں ایک ایسے ادارے کے ساتھ سینگ پھنسا ئے بیٹھا ہوں، جس سے میری پیشہ ورانہ وابستگی کی تیسویں سالگرہ چند ہی ہفتوں بعد منائی جانے والی ہے ۔ یہ اختلاف نہ تو کام کی نوعیت اور انجام دہی کے بارے میں ہے ، نہ کوئی شخصی ، سیاسی یا کاروباری گروہ بندی بیچ میں حائل ہے ۔ بس میرے لئے ان کے اس تازہ انتظامی مطالبے کو ماننا ممکن نہیں کہ تم بھی ہمارے پسندیدہ بینک میں اکاﺅنٹ کھلواﺅ اور اس ذریعے سے مشاہرہ وصول کرتے جاﺅ ۔ بلھے کو ”بہنا ں تے بھرجائیاں‘ ‘.... یہ بھی سمجھا رہی ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی چال یا ذاتی منفعت ہرگز نہیں ، بلکہ یہ ماہانہ ادائیگیوں کا محفوظ تر اور مستعد طریقہ ہے ۔ پھر بھی میرا جواب ایک ہی ہے کہ ”مَیں نئیں جاناں کھیڑیاں دے نال“ ۔

 اگر میرے اس انکار کو تحریک پاکستان کی طرح ایک ”دستوری جنگ“ خیال کر لیا جائے تو میری دلیل یہ ہوگی کہ کسی مخصوص بینک میں حساب کھولنے کی کوئی شق ہماری طے شدہ ”شرائط خدمت“ میں شامل ہی نہیں ، سو مطالبہ بنیادی طور پر غلط ہے ۔ کون کہاں پیسے جمع کراتا ہے اور کتنے ، یا پھر کراتا بھی ہے کہ نہیں ؟ سچ پوچھیں تو یہ سوال اسی طرح لگتا ہے، جیسے کسی نے ٹھنڈے پانی کا تالاب بنوایا تھا۔ گرمیوں میں نہانے کے لئے اور گرم پانی کا سردیوں میں نہانے کے لئے ۔ جب پوچھا گیا کہ آخر یہ تیسرا تالاب کیوں ، تو کہنے لگے: ’ ’کبھی کبھار نہانے کو دل نہیں بھی چاہتا“ ۔ یہ ’ ’تھرڈ آپشن“ ایک ایسی امکانی منطق کی طرف اشارہ ہے، جس پہ غور کئے بغیر میری صورت حال کو سمجھا ہی نہیں جا سکتا ۔

 مَیں نے زندگی کے کس کس مرحلے پر کہاں کہاں تالاب کھودے ، جن میں گرمیوں میں گرم اور سردیوں میں یخ بستہ پانی سے نہانا پڑا ؟ ”گلزار نسیم‘ ‘ کی طرح یہ مثنوی بھی طویل ہے ، لیکن حاصل غزل دنیا کے دو بر اعظموں میں بینکاری کی تین الگ الگ شاہراہوں پر وہ نصف درجن باﺅلیاں ہیں، جن پر شیر شاہ سوری کی بجائے آپ کو میرے نام کی چھوٹی سی پلیٹ دکھائی دے گی ۔ فرق یہ ہے کہ شیرشاہ کا چشمہءفیض آج بھی جاری و ساری ہے، جبکہ میرے ہاتھوں کا کھدا ہوا ہر کنواں ایسے ”ڈہٹھے کھو“ میں بدل چکا ہے، جہاں ایک ہی آپشن باقی ہے کہ ”نہانے کو دل نہیں چاہتا“ ۔ اب دفتر والوں کے اصرار پر ایک اور آبی ذخیرہ کھود بھی لیا تو آب زر کا وہ تموج کہاں سے لاﺅں گا، جس کی مطلوبہ سطح ایک ”بیدار بینک‘ ‘ اکاﺅنٹ کو تین ماہ سے زیادہ عرصے تک ”خفتہ“ ہو جانے سے بچائے رکھتی ہے۔

 دانش مند لوگ کہتے ہیں کہ آدمی کی سوچ عام طور پر اس کے حالات کی پیداوار ہوا کرتی ہے ۔ اس لحاظ سے بینکوں کی افادیت کے بارے میں شبے کا رویہ میرے بچپن کی اس تربیت کے تابع ہے ،جس میں روپے پیسے کی ”مابعدالطبیعات“ ٹھیک سے سمجھ میں نہ آ سکی ۔ معلوم نہیں کیا کامپلیکس تھا کہ میرے سیالکوٹی بزرگ کم وسیلہ ہونے کے باوجود سوچ سمجھ کر خرچ کرنے کو شیوہءمردانگی، بلکہ اسلامی تمدنی روایت کے منافی تصور کرتے ۔ اس کے برعکس ، ایسے شیر دل مومنوں کو بہت پسند کیا جاتا جو چادر دیکھے بغیر پاﺅں پھیلائیں اور پھر رات بھیگنے کے بعد ”وجود پر تریل پڑنے“ کی شکایت کرتے رہیں ۔ میرے والد نے دوران ملازمت موٹر کار کی خریداری اور زیر کفالت بہنوں کی شادی کے لئے اپنے محکمے سے اتنی بار قرضہ لیا کہ گینز بک آف ریکارڈز میں ان کا تعارف جنوبی ایشیا میں سب سے بڑی تعداد میں گاڑیاں خریدنے والے اور سب سے زیادہ بہنوں کے بڑے بھائی کے طور پر ہونا چاہئے ۔

”مالی اولوالعزمی“ کے اس تابناک پس منظر کے ساتھ خود مجھے عملی زندگی کی ابتدا میں افراط و تفریط سے بچنے میں دشواری پیش آئی ۔ چینیز لنچ ہوم میں دوستوں کی صبح و شام کی محفلیں ، لنچ میں فکسڈ مینو کے ساتھ شامی کباب ، آملیٹ اور دال ماش کے ذیلی آرڈر اور چائے کی لامتناہی چینیکیں ۔ ایک سہ پہر جب ہرے ہرے صوفوں پر ہر طرف رونقیں لگی ہوئی تھیں ، مَیں کاﺅنٹر پر فون سننے گیا ۔ ریستوراں کے مالک حاجی حمید کچھ دیر تک تو مجھے غور سے دیکھتے رہے ،پھر حیرت زدہ سے ہو کر بول اٹھے: ”شاہد صاحب! آپ کریں گے کیا ؟ چودہ سو روپے آپ کی کل تنخواہ ہے اور بارہ سو روپے مہینے کا بل آپ نے دینا ہے“ ۔ مَیں نے یہ بتانے کے لئے کہ شاہد صاحب کیا کریں گے ، اسی لمحے اگلے دن کی تاریخ ڈال کر چودہ سو کا چیک حاجی صاحب کو دے دیا ، انہوں نے بل کے بارہ سو کاٹے اور بقیہ دو سو روپے کے نوٹ مسکراتے ہوئے مجھے تھما دئے ۔

 ان کی مسکراہٹ کے پیچھے پیدائشی انسان دوستی کے علاوہ اس شعور کو بھی دخل تھا کہ بل ادا کرنے والا نوجوان عادی ڈیفالٹر نہیں اور تاخیر اس لئے ہے کہ ”اصلی تے وڈے“ گورنمنٹ کالج کا بینک اساتذہ کرام کو ادائیگی کرنے سے پہلے ایک دو روز لگا کر اس کا اطمینان کر لیتا ہے کہ تنخواہ کا چیک پاکستان کی بجائے کہیں ٹانگا نیکا کے سٹیٹ بینک نے تو جاری نہیں کیا ۔ اس وقت بھی بلھے کو ”بہناں اور بھر جائیاں“ کچھ سمجھاتی رہیں ، مگر وہ اس گتھی کو سلجھا نہ سکا کہ بینک کی وجہ سے عام آدمی کو کیا فائدہ پہنچتا ہے ، سوائے اس کے کہ اپنی ہی حق حلال کی کمائی وصول کرنے کے لئے خوامخواہ انتظار کرتا پھرے ۔ حقیقت تک رسائی تو سٹی آف لندن پہنچ کر ہوئی، جہاں سینٹ پال کیتھیڈرل کے پچھواڑے لومبارڈ سٹریٹ میں ”سرمایہ پرستی کا سفینہ“ دیکھ کر انسان پر اقبالؒ کے اس شعر کا مفہوم کھلنے لگتا ہے کہ ”گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات ‘ ‘۔

 ان عمارتوں کے سائے میں ایک اور وبا سے پالا پڑ ا اور وہ تھی ’ ’پلاسٹک منی“ ۔ اس سے چند سال پہلے نارتھ ویلز میں تعلیم کے دوران ”کیش کارڈ“ سے تعارف ہو چکا تھا کہ اس تعویز نما چیز کے ذریعے بینک کے اندر جائے بغیر آپ ایک روزن دیوار سے پیسے نکال لیتے ہیں ۔ یہ پتا نہیں تھا کہ اس دوران زبر دست تہذیبی ترقی کی بدولت کئی طرح کے چیک گارنٹی ، چارج کارڈ ، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ بھی وجود میں آ چکے ہیں ، اور مالی حفظ مراتب کے لحاظ سے اوپر نیچے ان کے کئی کئی درجے ہیں ، جیسے آرڈنری ، سلور ، گولڈ ، پلاٹینم اور خدا جانے اس سے آگے کیا کیا ۔ یوں اپنی ہی نظروں میں اپنا رتبہ بڑھاتے جائیں اور خوش ہوتے رہیں ، لیکن اکثر حالتوں میں یہ خوشی پائیدار نہیں ، عارضی ثابت ہوتی ہے ، کیونکہ ”لاتے ہیں سرور اول ، دیتے ہیں شراب آخر“ ۔

 مَیں اوروں کی بات نہیں کرتا ، لیکن اٹھائیس سال پہلے میرے ساتھ تو یہی ہوا ۔ بی بی سی کی عالمی سروس کے اس وقت کے صدر دفتر بش ہاﺅس کے عین سامنے واقع ایک بڑے بینک میں حساب کھولنے سے پہلے تو تنخواہ جاری و ساری ہوئی اور پھر کچھ ہی روزبعد بغیر مانگے ایک کارڈ بھی موصول ہو گیا ۔ طالب علمی کے تجربے کی روشنی میں یہ اپنے پیسے نکالنے کے لئے ایک کیش کارڈ تھا ، چنانچہ ہم اپنی ضرورتوں کا ایک اندازہ سا قائم کر کے تھوڑی تھوڑی رقم نکلواتے رہے ۔ گڑبڑ کا احساس اس وقت ہوا، جب مہینہ ختم ہوتے ہی ایک تحریری سٹیٹمنٹ وصول ہوئی ، جس میں کچھ سود اور اصل زر ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ موقع محل کی مناسبت سے یہ اصطلاحات سمجھ سے بالاتر لگیں اور طبیعت پر بوجھ سا پڑنے لگا ۔

 معاملہ طے کرنے کے لئے خود بینک میں جائے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا ۔ اب وہاں جو ڈائیلاگ ہوا ، وہ کمال کی چیز تھی ۔ نہائت صاف ستھری انگریزی بولنے کے باوجود ، پہلے تو کافی دیر تک متعلقہ افسر اور مَیں ایک دوسرے کی بات سمجھ ہی نہ پائے ۔ بینک والا حیران تھا کہ یہ آدمی پوچھنا کیا چاہتا ہے ۔ میرا سوال تھا کہ تم کون سے پیسے واپس مانگ رہے ہو ؟ اس نے کہا: ”وہی جو تم نے خرچ کئے ہیں ، ساتھ انہی پیسوں کا سود بھی دو‘ ‘....مگر مَیں تو اپنی تنخواہ کے پیسے خرچ کرتا رہا ہوں ۔ یہ سنتے ہی افسر سمجھ گیا کہ اکاﺅنٹ ہولڈر جھکی ہے اور اس نے وضاحت کی کہ تم نے اپنے پیسے نہیں نکلوائے، بلکہ اس کریڈٹ کارڈ کے ذریعے قرضہ لے لے کر کھاتے رہے ہو ۔ عرض کیا: ”اس قسم کا کارڈ تو مَیں نے مانگا ہی نہیں تھا ، آپ نے کیوں بھیج دیا‘ ‘ ۔ فرمایا: ”یہ کمپنی پالیسی ہے“ ۔

 اب سے دو سال پہلے لاہور کے ایک نئے فیشن ایبل بازار کے ایک گوشے میں جو انگلش میڈیم ڈاکو پستول دکھا کر چپکے سے میرا بٹوہ لے گیا، اس کی ”کمپنی پالیسی‘ ‘ذرا مختلف لگتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وقوعہ کی ”فوریت“ میرے لئے سراسیمگی کا باعث تو بنی ، لیکن زیادہ پریشانی تو اسے ہوئی ہوگی کہ اس نے شکل سے مجھے امیر آدمی سمجھ لیا اور گھر جا کر سر پیٹتا رہا کہ بیس، بیس کے چار نوٹوں کے سوا نکلا ہی کیا ہے۔ واردات سے ”سرخرو“ ہونے کے بعد مَیں نے کئی بار سوچا کہ اگر ”صاحب واردات“ مجھے اپنی تحویل میں کیش ڈسپنسر تک لے جاتا اور کہتا کہ اپنا اکلوتا کریڈٹ کارڈ استعمال کر کے رقم ہمارے حوالے کرو تو دونوں فریقوں کے لئے بس ندامت ہی کا سامان تھا ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر یہ کارڈ میرے دفتر کے پسندیدہ بینک کا ہوتا تو بھی یہ شرمساری کم نہ ہو سکتی ۔      ٭

مزید : کالم