افسوس ناک پُرتشدّد واقعات

افسوس ناک پُرتشدّد واقعات

جمعہ کے روز گستاخانہ فلم اور خاکوں کے خلاف ملک بھر میں یوم عشق رسولﷺ منایا گیا۔ تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج ہوا،تاہم افسوس یہ پرامن نہ رہ سکا۔بڑے شہروں میں تشدد کے واقعات ہوئے ، پتھراﺅ ،شیلنگ اور فائرنگ ہوئی ۔29 افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے۔ سات بینک ، نو سینما گھر، ایک پٹرول پمپ ، دو غیر ملکی ریسٹو رنٹس اور متعدد گاڑیاں جلا دی گئیں، مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں۔ کراچی میں سب سے زیادہ نقصان ہوا جہاں 22 انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ بینکوں اور متعدد عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔ پشاور میں بھی سات جانیں فائرنگ سے ضائع ہوئیں، متعدد عمارتوں کو آگ لگائی گئی اور دکانوں کو لوٹا گیا۔ اسلام آباد میں پولیس اور ان مظاہرین کے درمیان سارا دن جھڑپیں ہوتی رہیں جو امریکی سفارت خانے کی طرف جانے کی کوشش میں تھے ۔ اسی طرح لاہور میں بھی امریکی قونصل خانے کی طرف جانے کی کوشش میں مظاہرین پولیس سے جھڑپیں کرتے رہے ۔گیس سٹیشن اور دوسری املاک کو نقصان پہنچانے کے علاوہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ اہم راستے بند کئے گئے اور لاہور کراچی سمیت15شہروں میں موبائل فون کی سروس بند رہی۔

ہمارے مذہبی رہنماﺅں، حکومتی اور سیاسی قیادت کی طرف سے بدطینت افراد کی گستاخانہ حرکت کے خلاف احتجاج کے پُرامن اور با وقار رکھنے کی ہزار تلقین کے باوجود اِس احتجاج کے موقع پر یہ جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک اور اسلامی اقدار اور نبی کریمﷺ کی تعلیمات کے منافی ہے اور اس سے غیروں کے سامنے اسلام اور اہل اسلام کے متعلق اچھی مثال پیش نہیں کی گئی ۔ اِس سلسلے میں کم از کم یہی کہا جاسکتا ہے کہ ایک بدطینت شخص اپنی غلیظ حرکت کے ذریعے مسلمانوں کے سلسلے میں جو مذموم مقاصد رکھتا تھا ہم نے خود اس کی توقعات سے کہیں بڑھ کر پورے کردئیے ۔

خود حکومت کی طرف سے یوم عشق ر سول منانے، سیمینارز منعقد کرنے، امریکی سفیر کو بلاکر احتجاج رجسٹر کرانے اور معاملے کو او۔آئی ۔ سی اور اقوام متحدہ تک لے جانے کے عزائم کا اظہار اور پھر امریکی حکومت کی طرف سے ملعون شخص کے خیالات کو رد کرنے اور افسوس کے اظہار کے بعد بھی اپنے ہی ملک میں احتجاج کے وقت املاک کو نقصان پہنچانے اور انسانی جانوں کا اتنا بڑا نقصان کرگزرنے کی صورت حال ہماری جگ ہنسائی کا باعث ہوئی ۔ افسوس تو اِس بات کا ہے کہ نبی کریمﷺ جن کے حسن اخلاق ، صبر اور تحمل کی مثال دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے ان کے نام پر ہم نے یہ سب کچھ کیا ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کون لوگ تھے جو سفارت خانوں یا قونصل خانوں پر یلغار کے لئے پرجوش اور غم و غصے میں اندھے ہوجانے والے نوجوانوں کو بھڑکا رہے تھے؟ کیا ہمارے نوجوان اس عالمی روایت اور اصول سے اتنے ہی غافل ہیں کہ اپنے اخراجات سے کسی ملک کا ہمارے ملک میں سفارت خانہ قائم کرنا اس ملک اور اس قوم کی طرف سے ہمارے ملک کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا عملی اظہار ہوتا ہے ۔ یہ ہماری عزت افزائی ہوتی ہے ، ورنہ بے شمار چھوٹے موٹے ملکوں میں بہت سے ممالک اپنے سفارت خانے اور قونصل خانے قائم ہی نہیں کرتے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی بھی ملک کے سفارت خانے کو خواہ وہ جس ملک میں بھی ہو اسی ملک کا علاقہ تصور کیا جاتا ہے جس ملک کا وہ سفارت خانہ ہو۔ اس طرح کسی سفارت خانے پر حملے کے نتائج اورنازک مضمرات کو سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جہاں سفارت خانے پر حملے کی آڑمیں سفارتخانے والے ملک نے اپنی فوجیں دوسرے ملک میں اتاردیں۔ اگر سفارت خانوں کے تحفظ کے لئے ان کے راستوں کو بلاک کیا جاتا ہے توایسا اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے اور ناخوشگوار واقعات کو روکنے کے لئے کیاجاتا ہے۔ ہم ترقی یافتہ مغربی ممالک کے سفارت خانوں کی حفاظت کی ذمہ داری سے اسی وقت دستبردار ہوسکتے ہیں اگر ہمیں عالمی برادری سے کٹ جانے کی کوئی پرواہ نہ ہو یا ہم دوسرے ممالک میں باعزت روزگار کمانے اور وہاں وظائف پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کے لئے مسائل پیدا کرنے اور ان کے مستقبل کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اگر ایسا نہیں تو پھر سفارت خانوں پر ہلہ بولنے کے لئے اُکسانے والی بعض مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں کے اس رویئے کو کیا نام دیا جاسکتا ہے؟

جہاں تک باوقار اور پرامن احتجاجی ریلیوں کی صفوں میں شرپسند اور توڑ پھوڑ کرنے والے عناصر کے شامل ہوجانے کا تعلق ہے ، اِس سلسلے میں سب سے پہلی ذمہ داری تو خود ان تنظیموں کے کرتا دھرتا لوگوں کی تھی کہ وہ اپنی صفوں میں ایسے لوگوں کو داخل نہ ہونے دیتے اور ایسے شرپسندوں کو ان کی حرکات سے روک کر اپنے احتجاج کوباوقار اور اپنے مقصد کو پاک ثابت کرتے۔ جلوسوں سے نکل کر لوگوں نے توڑ پھوڑ شروع کی تو باقی سب تماشائی بن گئے ۔کوئی ہاتھ ان کو روکنے کے لئے آگے نہ بڑھا۔ اس صورت حال نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ ہماری قوم میں ابھی تک اپنے عقل و ذہن کو استعمال کرکے کسی معاملے میں دخل دینے کے بجائے بھیڑ چال کا مرض موجود ہے۔ کچھ لوگوں کو توڑ پھوڑ کرتے دیکھا تو دوسرے لوگ بھی روکنے یا منع کرنے کے بجائے اس میں شامل گئے ۔ اپنے جذبات ایمانی اور نبی کریمﷺ سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرنے کے لئے گھروں سے نکلنے والے ان لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہوگئے جو ملک کی بگڑی ہوئی فضا کو مزید بگاڑنے اور اسلام اور مسلمانوں کو مزید بدنام اور دہشت گرد ثابت کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔

کیا کسی ایک شخص کے توہین رسالت کرنے کی صورت میں ہمارا یہی رد عمل ہونا چاہئے کہ ہم ڈیڑھ ارب مسلمان اپنے احتجاج میں بھی اسی کے بھائی بندوں کے ہاتھوں استعمال ہوکر اپنے بگڑے ہوئے حالات کو مزید بگاڑتے رہیں؟ کیا اِس سلسلے میں ایسے لعین کے اپنے ملک میں ضروری قوانین بنوا کر اور متعلقہ حکومتوں سے روابط کے بعد ایسے معاملات کو آئند ہ کے لئے رکوانے کا اہتمام کرنا اور ہر ہر مسلمان کا اپنی اپنی جگہ رسول اللہ کی تعلیمات پر مزید عمل کرنا اور آپ کے اسوہ ¿حسنہ کو اور زیادہ اپنانا ہمارا بہترین رد عمل نہیں ہو سکتا؟

کیا ہمارے سیاسی رہنما اور سادہ دل مذہبی عمائدین قوم میں معاملات کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کبھی کریں گے ۔ ؟یا اسی طرح جذبات کے کھیل میں ہم اپنے وقار اور مفاد کا خودجنازہ نکالتے رہیں گے؟ یہ کہاں کے جذبات ہیں کہ جن کے اظہار سے ہمارے سامنے درپیش مسائل او ر بھی زیادہ شدت اور سنگینی اختیار کرلیتے ہیں؟

مزید : اداریہ