القدس میں اسلامی نشانات مٹانے کے لیے اسرائیل نے پل کی تعمیر شروع کر دی

القدس میں اسلامی نشانات مٹانے کے لیے اسرائیل نے پل کی تعمیر شروع کر دی

مقبوضہ بیت المقدس ( اے این این )اسرائیلی حکومت طرح طرح کے حیلوں اور بہانوں سے بیت المقدس کی اسلامی شناخت ختم کرنے اورشہرمیں موجود اسلامی نشانات کو مٹانے کے لیے مہمات چلائے ہوئے ہے۔تازہ مہم کے تحت صہیونی حکومت بیت المقدس میں گنجان آباد علاقے سلوان میں ایک پل کی تعمیر شروع کی جا رہی ہے۔ چھوٹی گاڑیوں اور پیادہ شہریوں کے لیے پل کی تعمیر کا ٹھیکہ بیت المقدس میں ڈویلپمنٹ کے کاموں کی ایک بڑی یہودی فرم موریا کو دیا گیا ہے۔ یہ پل ایک جانب نیو داد سٹی سے شروع ہوگا اورایک دائرے کی شکل میں مسجد اقصی کے جنوب میں بلدہ سلوان کے داخلی راستے، مقام براق اور وادی حلو میں جفعاتی پارکنگ اسٹینڈ کو آپس میں ملائے گا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سلوان میں وادی حلوہ کے شہریوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں کہ وہ پل کی زد میں آنے والے مکانات اور دکانیں گرادیں کیونکہ حکومت یہاں پر شہریوں کی آمد ورفت کو آسان بنانے کے لیے ایک پل کی تعمیر کی تیاری کر رہی ہے۔ انفارمیشن سینٹر کا کہنا ہے کہ یہ پل دراصل بیت المقدس میں مسجد اقصی کے قریب واقع یہودی کالونی کے یہودیوں کی براہ راست مسجد اقصی تک رسائی کو آسان بنانے کی ایک شرمناک سازش ہے۔ پل کی تعمیرکے لیے یہاں پر رات گیارہ سے صبح پانچ بجے تک کھدائیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ وادی حلوہ مرکزاطلاعات کے مطابق صہیونی پولیس کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ پل کی زد میں آنے والے مکانات اور دکانیں خالی کرائے اور پل کی جگہ پہلے سے موجود سڑک پر ٹریفک بند کردے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ وادی حلوہ اور مقام براق کے درمیان تعمیر کیا جانے والا یہ رابطہ پل صہیوبی بلدیہ،پولیس، محکمہ آثار قدیمہ اور موریا کمپنی کا مشترکہ منصوبہ ہے اور یہ تمام ادارے مل کر اس پرسرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ پولیس کے ذمہ پل کی تعمیرکے دوران معماروں اور مزدوں کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانا ہے۔انفارمیشن سنٹیر کا کہنا ہے کہ جس جگہ یہودی حکومت پل کی تعمیر کا ارادہ رکھتی ہے، یہاں پرکسی قسم کے پل کی قطعی طورپر کوئی ضرورت نہیں ہے۔ صہیونی حکومت محض اسلامی نشانات کو مٹانے اور شہربالخصوص وادی حلوہ کو یہودی رنگ میں رنگنے کی اپنی توسیع پسندی کی سازش کو آگے بڑھانا ہے۔ صہیونی حکومت کی طرف سے جن فلسطینیوں کو مکانات اور دکانیں خالی کرانے کو کہا گیا ہے انہیں مکانات کے متبادل جگہیں یا معاوضہ بھی نہیں دیا جا رہا ہے۔ پل کی تعمیر کے نتیجے میں جہاں درجنوںفلسطینی علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوں گے وہیں انتہا پسند یہودیوں کی مسجد اقصی تک رسائی مزید آسان ہوجائے گی۔ اس پل کی تعمیر کے بعد وادی حلوہ سے مسجد اقصی تک پیدل چل کرآنے والے یہودیوں کو ایک پل کے ذریعے مقام براق تک پہنچایا جائے گا۔دوسری جانب فلسطین کی مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں نے وادی حلوہ اور مقام براق کے درمیان پل کی تعمیر کے صہیونی منصوبے کی شدید مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے اسے شہر کو یہودیانے کی اسرائیلی سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس کےخلاف ہرسطح پراحتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید : عالمی منظر