نیلامی میں کرڑوں کے گھپلے،37 افسران کے خلاف مقدمات کا حکم

نیلامی میں کرڑوں کے گھپلے،37 افسران کے خلاف مقدمات کا حکم

لاہور( جاوید اقبال)سروسز ہسپتال کے باہر جیل روڈ پر تعمیر کئے گئے سب وے کی دوکانوں کی نیلامی میں 17کروڑو روپے کی خردبرد کا انکشاف ہوا ہے جس پر وزیر اعلی پنجاب کی معائنہ ٹیم نے ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے 13 سال کے دوران تعینات رہنے والے ڈی سی اوز، ڈی او فنانس، ڈی او اسٹیٹ سمیت 37 افسروں اور ملازمین کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج کروانے کا حکم دیا ستم بالائے ستم یہ کہ بااثر افسروں نے سی ایم آئی ٹی کی وہ فائل ہی ریکارڈ سے غائب کرادی جس میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی تھی۔ٹیم نے وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر ان اراکین اسمبلی کے خلاف بھی کارروائی کی ہدایت کی جو 6 ماہ قبل ہونے والی نیلامی کے دوران غلط بیانی اور حقائق چھپانے کے مرتکب پائے گئے۔ اگر ریکارڈ کا معائنہ کیا جائے تو یہ نیلامی سابق ڈی سی او اور موجودہ ڈی جی ایل ڈی اے لاہور احد خان چیمہ کی زیر قیادت ہوئی، جس میں دیگر افسروں کے علاوہ چار اراکین اسمبلی جن میںخواجہ عمران نذیر، چوہدری شہباز، آجاسم شریف اور میاں نوید انجم بھی بطور ممبر شریک تھے۔مذکورہ اراکین اسمبلی پر اتنا چارج ہے کہ انہوںنے اپنی نگرانی میں 6ماہ قبل جب نیلامی کروائی تو انہیں معلوم ہونے کے باوجود کے 1999ءمیں ہونے والی نیلامی میں غلط طریقے سے دوکانیں حاصل کرنے والے ضلعی حکومت کے کروڑوں روپے کے ڈیفالٹر ہیں انہیں بھی 11 دوکانیں پہلے وصول کرنے کے بغیر دوبارہ الاٹ کردی گئی اور دوکانیں لینے والے پرانے ڈیفالٹرز کو واجبات جمع کروانے کے لئے 45 دن کا وقت دیا گیا، مگر ان سے 6ماہ میں بھی ریکوری کی گئی نہ ان سے دوکانوں کے قبضے واپس لئے گئے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس رپورٹ کی فائل ہی گم کردی گئی ہے یا کوئی چوری کرکے لے گیا ہے۔ وزیراعلی کی معائنہ ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مافیا کو غلط طریقے سے نیلامی کے نام پر دوکانیں دینے والوں نے غلط راستہ اپنایا موقع پر ایک دوکان تھی مگر دو خریداروں کو دوکان نمبر 1کی بجائے دو تین بھی دے دی گئی اور ریٹ صرف ایک کا وصول کیاگیا۔ ان دوکانوں کی فی کس قیمت 3سے 4کروڑ تھی مگر 3دوکانیں صرف 30لاکھ میں دے دی گئیں، مگر 13سال تک ان سے وصولی نہ کی گئی۔ اس طرح سب وے کے دوسری طرف جس کی مارکیٹ قیمت4سے 5 کروڑ ہے اس کو بھی 33 لاکھ میں دیاگیا اور وصولی 11سال تک نہ کی گئی۔ اس شخص نے بھی ایک دوکان لے کر دو دکانوں کی دیواریں توڑ کر ساتھ ملا لیا اور ساتھ میں سب وے کھڑی عمارت کو کاٹ کر دروازہ نکال لیا گیا، جس سے انڈر پاس کا ڈھانچہ انتہائی کمزور ہوچکا ہے اور کسی وقت بھی بڑے حادثہ کا سبب بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مافیا نے تمام دوکانوں پر ناجائز قبضے کررکھے ہیں اور 3سے36 لاکھ سالانہ کرایہ پر دے رکھی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی چھان بین 1999ءسے 2012ءتک رہنے والے ضلعی حکومت لاہور کے ڈی سی اوز کی ذمہ داری تھی انہوںنے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہ کی اس دوران تعینات رہنے والے سابق ڈی او فنانس میاں وحید سمیت 4 ڈسٹرکٹ آفیسر فنانس، ڈسٹرکٹ آفیسر اسٹیٹ سمیت متعلقہ 37 افسران اور ملازمین ملوث پائے جاتے ہیں، جن کی ملی بھگت سے سب وے کے ڈھانچہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا اور کم و بیش 17کروڑ روپے کا قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ رپورٹ دو ماہ قبل ایوان وزیر اعلی کو بجھوادی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ لوگوں کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج کیا جائے اور کیس اینٹی کرپشن کو بھیج دیا جائے۔ مگر دو ماہ گزرنے کے باوجود اس کیس کی فائل منظر عام پر نہیں آسکی۔ اس حوالے سے پرنسپل سیکرٹری ندیم حسن آصف سے بات کی گئی تو انہوںنے بتایا کہ وزیر اعلی کے حکم پر وزیراعلی معائنہ ٹیم سے اس کی انکوائری کروائی گئی تھی آج کل یہ معلوم کریں گے کہ اس فائل کا کیا بنا، اس حوالے سے رکن پنجاب اسمبلی آجاسم شریف سے بات کی گئی تو انہوںنے کہا کہ مجھے یاد نہیں ہے کئی نیلامی کمیٹیوں میں ہم ممبران رہے، کیس کی فائل دیکھ کر بتا سکتا سکتا ہوں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1