سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کو غذائی قلت، وبائی بیماریوں کا سامنا

سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کو غذائی قلت، وبائی بیماریوں کا سامنا

اسلام آباد /لاہور /کوئٹہ (این این آئی)پنجاب ، سندھ اور بلوچستان میں بارشیں تھم گئیں تاہم متاثرین کو غذائی قلت، وبائی بیماریوں سمیت دیگرمسائل کا سامنا ہے ¾پاک فوج کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں میڈیا رپورٹ کے مطابق جیکب آباد میں پندرہ روز گزرنے کے باوجود امدادی سامان تقسیم نہ ہوسکا۔ تحصیل تھل اور گھڑی خیرو سمیت ضلع بھر کے چھوٹے ، بڑے شہروں میں متاثرین سیلاب سڑکوں پر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شہر اور ملحقہ اضلاع میں اب تک چار سے پانچ فٹ پانی موجود ہے۔ شکار پور میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے جہاں سیکڑوں دیہات زیر آب ہیں۔ خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور متاثرین کی اکثریت راشن اور صاف پانی کو ترس رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں چار چار فٹ پانی کھڑا ہے جس سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ادھر بلوچستان کے علاقے جعفر آباد میں بھی انتظامیہ کی جانب سے ریلیف نہ دینے، غذائی اجناس کی شدید قلت پر سیلاب متاثرین نے احتجاج کیا نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی اور جل مگسی میں جا بجا سیلاب کی تباہ کاریاں نظر آتی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پانی کی نکاسی نہ ہونے پر تعفن اٹھ رہا ہے۔ وبائی بیماریاں پھیلنے کا قوی خدشہ ہے۔پاک فوج کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقلی کے لئے ہیلی کا پٹر اور کشتیوں سے مدد لی جا رہی ہے۔نصیر آ باد ڈویژن میں پاک فوج کے جوان ریلیف اورریسکیو آ پریشن کے دوران ہیلی کاپٹر کی مدد سے لوگوں کو محفوط مقامات پرمنتقل کر نے میں سرگرم ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطا بق ہیلی کاپٹر کی سو پر وازوں کے ذریعے تین ہزار چار سو افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچا یا گیا جبکہ کشتیوں کی مدد سے بھی کئی افراد کی زندگیاں بچا ئی گئیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے اکثر حصوں میں موسم خشک رہے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق رواں ہفتے کے دوران ملک بھر میں کہیں بارش کا امکان نہیں اور ملک کے زیادہ تر حصوں میں موسم گرم اور خشک رہے گا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور خشک رہا۔ سب سے زیادہ درجہ حرارت تربت میں 41 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ملک کے دیگر شہروں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کچھ اس طرح سے ریکارڈ کئے گئے۔

مزید : صفحہ آخر