پاک امریکہ تعلقات معمول پر آگئے،دہشتگردی کے ٹھکانوں کا خاتمہ ترجیحات میں شامل ہے :حنا ربانی کھر

پاک امریکہ تعلقات معمول پر آگئے،دہشتگردی کے ٹھکانوں کا خاتمہ ترجیحات میں ...

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی نسبت پاکستان کی اپنی ترجیحات میں یہ بات شامل ہے کہ ملک سے دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے ختم کئے جائیں اور دہشت گردی کا مکمل سدباب کیا جائے۔ امریکی حکام اور قانون ساز اداروں کے اہم ارکان سے واشنگٹن میں اہم ملاقاتوں کے چار مصروف دن گزارنے کے بعد وہ جمعہ کی شام پاکستانی سفارت خانے میں پاکستانی میڈیا کو خصوصی بریفنگ دے رہی تھیں۔ پاکستانی سفیر شیری رحمان اور سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیر خارجہ کا مجموعی تاثر بہت مثبت اور حوصلہ افزاءتھا اور ان کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے تمام پہلوﺅں پر بحث ہوئی جس سے یقینا باہمی اعتماد سازی کی فضا بہتر ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ خاص طور پر ستمبر 2011ءسے اب تک کے ایک سال کے دوران دونوں ممالک کے اختلافات میں خاصی کمی آنے کے بعد اہم معاملات پر کافی حد تک اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے ۔ وزیر خارجہ نے پاکستان کی سفارتی کامیابیاں گنواتے ہوئے خاص طور پر اس بات کا کریڈٹ لیا کہ امریکہ پاکستان کی مشکلات اور چیلنجز کا احساس کرتے ہوئے اپنے قوانین میں رد و بدل کرکے پاکستان کے ساتھ تجارت میں ترجیحی سلوک کرنے پر رضامند ہو گیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں اس سلسلے میں امریکہ کی طرف سے متعدد رعایتوں کا اعلان ہو گا۔

حنا ربانی کھر نے بتایا کہ انرجی کے شعبے میں پاکستان کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے امریکہ پاکستان کے ان منصوبوں میں کافی امداد فراہم کر رہا ہے جس میں مزید اضافے کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ امریکی امداد کے نتیجے میں آئندہ ایک سال کے اندر کئی سو میگاواٹ انرجی کا اضافہ ہو گا اور اس وقت پہلے ہی چند سو میگاواٹ ہمارے سسٹم میں آ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے انرجی کے بحران کے خاتمے کے لئے مستقبل کے منصوبوں میں بھاشا ڈیم بہت اہم ہے اور یہاں مذاکرات کے دوران اس پر بھی بات چیت ہوئی۔ امریکہ نے اس منصوبے کی تکمیل کے لئے وسیع امداد دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ ہیلری کلنٹن نے ان سے ملاقات میں انہیں یقین دلایا کہ امریکہ پشاور سے طورخم تک کی سڑک کی تعمیر نو کے لئے امداد جلد جاری کر دے گا جس کا نیٹو سپلائی کی بحالی کے وقت وعدہ کیا گیا تھا۔

قانون ساز اداروں کے اہم ارکان سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اس میں ہمیں آپس کی بہت سی غلط فہمیاں دور کرنے کا موقع ملا جس کے بعد خاص طور پر جان کیری نے پاکستان کے حق میں بہت مثبت بیان جاری کیا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی تازہ ترین صورت حال بیان کرتے ہوئے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے پراعتماد لہجے میں بتایا کہ یہ تعلقات نارمل ٹریک پر آ چکے ہیں اور ہم باہمی تعاون پر مبنی پارٹنر شپ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی دعوت پر ہونے والا ان کا امریکہ کا دورہ بہت مفید اور کامیاب رہا ہے اور انہوں نے محسوس کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد پیدا ہونے کا آغاز ہو گیا ہے ۔

ربانی کھر نے بتایا کہ ہیلری کلنٹن کے ساتھ ملاقات میں جو سب سے اہم بات طے ہوئی وہ یہ تھی کہ آئندہ تین ماہ کے دوران تعاون کے روڈ میپ کے مطابق دونوں ممالک کے پانچ ورکنگ گروپس کے اجلاس ہوں گے۔ ایک گروپ سیکیورٹی سٹرٹیجی اور ایٹمی عدم پھیلاﺅ اور دوسرا دہشت گردی کے سدباب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہو گا۔ تیسرا گروپ انرجی اور پانی کا اور چوتھا اکنامک، فنانس اینڈ ٹریڈ گروپ ہو گا اور پانچواں گروپ دفاعی مشاورت کا ہو گا۔ اس طرح ان گروپوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے سارے پہلوﺅں کا احاطہ ہو جائے گا۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بتایا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور اس سلسلے میں مستقبل کے چیلنجز کا بھرپور جائزہ لیا گیا ہے اور اعتماد سازی میں بہتری کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اب کافی عرصے سے امریکی حکام اور کمانڈروں کی طرف سے پاکستان سے سخت تقاضوں پر مبنی بیانات نہیں آ رہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ امریکہ کا معاملہ بعد میں آتا ہے ۔ پاکستان کی اس وقت اپنی ترجیحات میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنا شامل ہیں۔ ہماری دوسری اہم ترجیحات میں انرجی اور تجارت کا فروغ ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکہ اور پاکستان دونوں چاہتے ہیں کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ تو چلا جائے گا اور اگر دہشت گردی کے ہمارے ہاں مراکز قائم رہے تو یہ سب سے زیادہ نقصان پاکستان اور افغانستان کو ہی پہنچائیں گے۔

مزید : صفحہ اول