سب سے اہم پہلو احتجاج کی کال دینے والوں کی عدم موجودگی تھی

سب سے اہم پہلو احتجاج کی کال دینے والوں کی عدم موجودگی تھی
 سب سے اہم پہلو احتجاج کی کال دینے والوں کی عدم موجودگی تھی

  


وفاقی حکومت کی اپیل پر جمعہ کو پورے ملک میں ” یوم عشق رسول“ جہاں پوری عقیدت و احترام سے منایا اور توہین آمیز فلم کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا وہاں شرپسند عناصر نے پشاور ، اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں بہت زیادہ ہنگامہ آرائی کی اور پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے سرکاری اور نجی املاک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا اور پوری دنیا میں بدنامی کا باعث بنے، ان حضرات نے لوٹ مار بھی کی ، اے ٹی ایم اور بینک بھی لوٹے جبکہ پولیس پر فائرنگ تک کی ، اب حالات بہتر ہوئے ہیں تو حکومت نے ان عناصر کے خلاف دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا اور گرفتاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

بدبخت فلمساز نے تو اپنی خباثت کا ثبوت دیا ، رسول کے پروانوں کے دل مجروح کئے جس کے خلاف احتجاج تو واجب تھا اور یہ احتجاج پوری دنیا میں کیا گیا، نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ غیر مسلم ملکوں میں بھی مسلمانوں نے احتجاجی مارچ اور مظاہرے کئے لیکن یہ سب بہت ہی مہذب اور پرامن تھے کسی بھی ملک سے ایک پتے کے خراب ہونے کی اطلاع نہیں ملی، یہ نہیں کہ ان مسلمانوں کو غصہ نہیں تھا یا وہ پرجوش نہیں تھے، یہ سب تھا لیکن وہ ہوش میں تھے، اس لئے ہر ایک ملک میں مظاہرین کو امریکی اور فرانسیسی سفارت خانوں کے باہر جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا موقع ملا لیکن پاکستان میں کیا ہوا یہاں مجموعی اور اجتماعی طور پر غم و غصہ کا اظہار کرنے کے لئے جانے وائے مظاہرے اور جلوس پر امن تھے اور ان کی طرف سے شدید جذباتی نعرہ بازی کے سوا کچھ نہیں ہوا، پاکستان کے تمام شہروں اور قصبات تک میں رسول کی عقیدت اور ان کے ساتھ عشق کے اظہار کا دن بڑے ہی اچھے انداز میں منا لیا گیا لیکن ان چار بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی جانی اور مالی نقصان ہوا، اکادکا واقعات ملتان اور فیصل آباد جیسے شہروں میں ہوئے لیکن یہ ٹائر اور جھنڈے جلانے تک محدود رہے تھے۔

جہاں تک پشاور، اسلام آباد، لاہور اور کراچی کا تعلق ہے تو ان چاروں شہروں میں تشدد اور لوٹ مار کی کارروائیاں خاص حد تک منظم طور پر ہوئیں کہ ایسا کرنے والے مظاہرین کے خلیے بھی ایک جیسے تھے اور ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے جو ان کے ارادوں کی عکاس تھی اور پھر ان حضرات نے جس انداز اور دلیری سے پولیس کا مقابلہ کیا، کنٹینر الٹے، گاڑیوں کو آگ لگائی، بینک اور سینما جلائے اور چاروں شہروں میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں پر حملہ آور ہونے کی بھرپور سعی کی اس سے بھیا ن کے ارادوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

کسی بھی ملک میں کسی دوسرے ملک کا سفارت خانہ اپنی حدود میں اپنا ملک ہوتا ہے، یوں بھی سفارت خانوں اور سفارت کاروں کی حفاظت اس ملک کی ذمہ داری ہوتی ہے جس میں یہ سفارت خانے ہوں یوں پاکستان میں بھی سفارت کاروں اور سفارت خانوں کے تحفظ کی ذمہ دار پاکستان حکومت ہے، جہاں تک اسلام آباد کا تعلق ہے تو وہاں سفارتی علاقہ ہی الگ بنایا گیا ہوا ہے، اس ” ڈپلومیٹک انکلیو“ میں صرف امریکی سفارت خانہ نہیں مسلمان اور دوسرے ممالک کے سفارت خانے اور سفارتی عملہ بھی رہے اگر یہ بے قابو ہجوم ادھر داخل ہو جاتا تو صورت حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اسی لئے تو رینجرز اور فوج بھی بلانا پڑی تھی ۔

اب حکومت نے باقاعدہ مقدمات درج کر کے ان شرپسندوں کی گرفتاریاں شروع کی ہیں، جہاں تک شناخت کا تعلق ہے تو وہ سی سی ٹی وی اور مقامی چینلوں کی فوٹیج سے بھی ممکن ہے تا ہم انتظامیہ اور پولیس کو اس میں احتیاط کرنا ہو گی جو حضرات ٹی وی پر نظر آئے وہ تو زیادہ تردینی مدارس کے طالب علم لگتے تھے لیکن ان کا انگیخت کرنے اور توڑ پھوڑ کی ابتداءکرنے والے حضرات تربیت یافتہ محسوس ہوئے یقینا یہ کالعدم تنظیموں کے لوگ بھی ہو سکتے ہیں، اس لئے گرفتاریاں، تفتیش اور پھر چالان بہت تحقیق سے بننا چاہئیں اور کوشش حقیقی ملزموں تک پہنچنے کی ہو، اس سارے واقعے میں افسوسناک پہلو احتجاج کی کال دینے والوں اور علماءکرام کی غیر حاضری کا ہے، اگر قیادت ہو تو مجمع کو سنبھالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، جہاں جہاں سیاسی یا دینی سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا وہاں ایسی پرتشدد کارروائیاں نہیں ہوئیں، ماسوائے لاہور کے جہاں ایک دینی سیاسی جماعت کے نوجوان و تگ اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔

حکومت نے اگر راست اقدام کا فیصلہ کیا ہے تو ہماری تجویز پر بھی غور کرنے اور تمام سیاسی جماعتوں، دینی تنظیموں اور دینی سیاسی جماعتوں کے عمائدین سے سلسلہ مذاکرات شروع کئے جائیں، شرپسندوں کی نشان دہی ہی نہیں ان کے پس پشت قوتوں کا بھی سراغ لگایا جائے اور پھر یہ بات طے کی جائے کہ اختلاف اور احتجاج اپنی جگہ تشدد کہیں نہیں ہونے دیا جائے گا حکمران اور حزب اختلاف سے گزارش ہے کہ وہ بھی الزام تراشی سے گریز کریں اور ملکی سالمیت کے لئے باہمی تعاون سے پالیسیاں بنائیں، اس سلسلے میں دینی تنظیموں اور جماعتوں کے فرائض بہت زیادہ ہیں کہ تشدد میں ملوث شر پسندوں کا تعلق مدارس سے ظاہر ہوتا ہے، اس لیے ان علماءکو اپنا احتساب خود کرنا چاہیے اور جگ ہنسائی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے، آخر میں ایک بات عرض کریں کہ تحقیق کرنے والے ذرا فرزند راولپنڈی سے بھی رجوع کریں، جنہوں نے دھمکی دی تھی ”ہم ہر چوک کو تحریر چوک بنا دیں گے“

مزید : تجزیہ