آسٹریلوی بھیڑوں سے پاکستانی ’ کالی بھیڑیں ‘باہر آنے لگیں

آسٹریلوی بھیڑوں سے پاکستانی ’ کالی بھیڑیں ‘باہر آنے لگیں
 آسٹریلوی بھیڑوں سے پاکستانی ’ کالی بھیڑیں ‘باہر آنے لگیں

  


 کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)آسٹریلیا سے بھیڑوں کی درآمد میں ملوث کئی’ کالی بھیڑیں ‘ آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہیں اور اب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پورٹ قاسم پر بھی حکام میں ’کالی بھیڑیں ‘ موجود تھیں ۔ جیو نیوز کے مطابق پورٹ قاسم پر اعلیٰ افسران نے کورنٹائن انچار ج کو بھیڑوںکی آمد سے آگاہ نہیں کیا اور کورنٹائن عملے کو اطلاع دیئے بغیر خود ہی غیر قانونی طورپر بھیڑوں کامعائنہ کر لیا ۔ جب بحری جہاز آسٹریلوی بھیڑیں لے کر چار ستمبر کو پورٹ قاسم پر پہنچا تو کورنٹائن انچار ج کو قانونی طور پر بھیڑوںکی آمد سے متعلق اطلاع دی جانی چاہیے تھی لیکن انہیں اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا ۔پورٹ قاسم کے کورنٹائن انچارج کو چھ ستمبر کے روز بحر ی جہاز کی روانگی کے بعد بھیڑوںکی آمدسے متعلق آگاہ کیا گیا۔ کو رنٹائن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احسان نے خودہی غیر قانونی طور پر بھیڑوں کامعائنہ کیاجبکہ کورنٹائن کے عملے کو بھیڑوں کے معائنے کے لیے استعمال نہیںکیا گیا ۔کورنٹائن عملے کو سات ستمبر کو بھیڑوں کی آمد سے آگاہ کیا اور مجبور کیا گیا کہ وہ بھیڑوں کی آمد سے متعلق چار ستمبر کی تاریخ کے ریسونگ لیٹر پر دستخط کر یں۔کورنٹائن کے عملے نے اس غیر قانونی اقدام سے انکار کر دیا جس پر کورنٹائن انچارج سے چارج واپس لے کر کراچی ائیر پورٹ کے کورنٹائن انچارج کو اضافی چارج دے دیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس