آستانہ عالیہ دھار شریف کھرل عباسیاں باغ آزادکشمیر

آستانہ عالیہ دھار شریف کھرل عباسیاں باغ آزادکشمیر

                                            اللہ کے ولی اسوئہ رسول ﷺ کے نور سے اپنی زندگی کی راہوں کو منور کھتے ہیں اور اس سے ان کی سیرت میں وہ پختگی اور شخصیت میں وہ دلآویزی پیدا ہوتی ہے کہ وہ جہاں میں اپنے رفقا اپنے ملنے جلنے والوں کی محبتوں کا مرکز ومحور بن جاتے ہیں ۔

اللہ کے یہ نیک بندے ا للہ کے حبیب ﷺ کی اطاعت میں اس طرح اپنی زندگی کو گزارتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنا محبوب بنالیتا ہے ان سے پیار کرتا ہے اور اپنی مخلوق کے دل ان کی طرف پھیر دیتاہے کیوں کہ ان کے دل اللہ اور اسکے حبیب کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں۔

اللہ تعالی کے انہی نیک بندوں میں ہمارے ممدوح حضور قبلہءعالم فخرالمشائخ صاحب علوم لدنی جناب قبلہ پیر سائیں نواب صاحب باجی حضور ی نقشبندی مجددی نواللہ مرقدہ کی ذات والا برکات بھی ہے کہ جن کے رخ انورکی زیات کر کے ہزاروں راہ گم کردہ نشانِ منزل کو پاکر مراد پاگئے آپ ؒ 1857ءکوٹھیری شریف کھرل عباسیاں ضلع باغ آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے آپ اپنے آقا ﷺ کے عم محترم جناب حضرت عباس ؓکی اولاد سے ہیں آپ ؒنے اپنی زندگی کے ستر برس پوشیدہ رہ کراللہ کی مخلوق کی خدمت کرتے رہے اور اسکے بعد 20سال ظاہر ی طور پر شجر اسلام کی آبیاری فرماتے رہے حضور قبلہ عالم جس دور میں پیدا ہوئے وہ راجاﺅں اور مہاراجوںکادور تھا ہر طرف کفر وشرک کی یلغار تھی لوگ راہ حق کو چھوڑ کر کفر وشرک ،جہالت وظلمت کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے تو ایسے میں اللہ تعالی نے ان لوگوں کی راہ حق کی طرف راہنمائی کے لئے انکا پیشوا بنایا تو آپ کی نگاہ کیمیا کی برکت سے ہزاروں راہ گم کردہ راہ حق کے راہی بن گے جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل کر نور معرفت سے اپنے دلوں کو روشن کرنے لگے آپ مادر زاد ولی تھے لیکن اپنے آپ کو مخلوق سے اوجھل رکھا اور پھر وقت آنے پر ظاہر ہو کر ان کی خدمت فرمائی اور ان کی راہ حق کی طرف راہنمائی فرمائی ۔

آپؒ نے پہلے سلسلہ عالیہ چشتیہ کے نامور بزرگ حضرت شیخ پیر سید انور شاہ صاحب آف ندول شریف ضلع ھٹیاں بالا سے سلسلہ عالیہ چشتیہ میں اجازت وخلافت حاصل کی اور اسکے بعد سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے مشہور بزرگ والئی کیاں شریف حضرت خواجہ پیر شیخ میاں نظام الدینؒسے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی اجازت وخلافت لی اور اسی سلسلہ شریف میں بیعت فرمانے لگے آپ ؒنے اپنی ساری زندگی اعلائے کلمةالحق میں گزار ی اور اسلامی تعلیمات کو اسطرح پھیلایا کہ ہند ﺅں اور سکھوں کی اکثریت ہونے کے باوجود آپ کی سیرت اور اخلاق سے متاثرہوکر وہ بھی آپ کو اپنا پیشوا ماننے لگے اور بہت سے آپ کے دست حق پرست پر کفر وشرک سے تائب ہوکر آغوش اسلام میں آگئے اور دائمی زندگی کا سراغ پاگئے آپؒ نے ساری زندگی سنت نبوی ﷺ کے تابع رہ کر گزاری اور اپنے مریدین ومعتقدین متوسلین کو بھی یہی نصیحت فرماتے رہے کہ اگر تم چاہتے ہوکہ اللہ کے حضور کامیابی تمہارا مقدر بنے تو اپنے آپکو اسوئہ رسول ﷺ کے تابع کر لو اپنی زندگی کا اصل مقصد حاصل کرلوگے عشق رسول ﷺ آپکی زندگی کا اوڑھنا بچھونا تھا۔

یہ ہی وجہ ہے آپ ؒہر وقت کثرت سے اپنے آقاو مولیٰ ﷺ پر درود شریف پڑھتے رہتے اور اپنے مریدین کو بھی یہی تلقین فرماتے اور ساتھ فرماتے کہ یہ ہی ایک عمل ہے جسکی قبولیت میں شک نہیں ۔

آپ ؒکی بے شمار کرامات ہیں جن میں سے زندہ کرامت آپ کا لاٹھی کی نوک مار کرنکالا ہوا پانی کا وہ چشمہ ہے جس سے آج بھی ہزاروںلوگ فیضیاب ہورہے ہیں اور طرح طرح کی موذی امراض سے صحت یاب ہورہے ہیں ۔آپ ؒکو تقریباً13مرتبہ لیلةالقدر نصیب ہوئی ۔

آپ کا سالانہ عرس مبارک ہر سال 15ذوالقعدہ کو آستانہ عالیہ دھار شریف کھرل عباسیاںضلع باغ آزاد کشمیر میں نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوتاہے جہاں دور نزدیک سے بے شمار زائرین حاضر ہوکر اپنے دامن کوچشمہ فیض سے فیضیاب کرتے ہیں۔  ٭

مزید : کالم