سیاسی ڈکشنری!

سیاسی ڈکشنری!
سیاسی ڈکشنری!

                                            خواتین و حضرات! زبان کے بہت سے کرشمے ہوتے ہیں۔ ہماری مُراد منہ کے اندر رکھی گئی زبان نہیں، بلکہ بولی جانے والی زبان سے ہے۔ پھر اُس میں الفاظ کا چُناو¿ اور استعمال اس سے بھی زیادہ اہم اور دلچسپ ہے، بلکہ اگر خطرناک کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ اس کی ایک تازہ مثال جناب عمران خان کا لفظ ”شرمناک“ بولنا اور پھر ملک بھر میں شور مچنا ہے۔ اس کی گونج اعلیٰ ترین عدالت تک سُنی گئی اور پھر آخرکار ہفتوں کی بحث کے بعد عمران خان اس لفظ کے استعمال کے بوجھ سے آزاد ہوئے۔ الفاظ سوچ سمجھ کر لکھنے اور بولنے چاہئیں۔ ذرا سی غلطی یا بھول چُوک پریشان کر سکتی ہے۔ سیاستدانوں کو بالخصوص الفاظ کے استعمال میں بہت محتاط ہونا چاہتے۔ دعا اور دغا، محرم اور مجرم کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اسی طرح حکمرانوں کو بھی الفاظ کے استعمال میں خبردار رہنا پڑتا ہے کہ اُن کی ایک ایک بات حکم اور قانون کا درجہ رکھتی ہے۔ سیاست دانوں، حکمرانوں، اعلیٰ سرکاری حکام اور دیگر ذمہ دار افراد کے لئے آج ہم اس کالم کے ذریعے ایسے الفاظ بتا رہے ہیں، جن کے معنی کئی طرح سے لئے جاسکتے ہیں اور وہ اپنی تقریر میں یہ الفاظ آزادانہ بول سکتے ہیں، کیونکہ اس سے نہ تو اُن کی پکڑ ہوگی اور نہ ہی پشیمانی۔ ہر شخص اُس کا مطلب اپنی توفیق کے مطابق نکال سکتا ہے اور خود ان کے لئے بھی اپنی بات کے مفہوم سے مکر جانا اور مختلف جگہ پر مختلف مطالب نکالنا آسان ہو جائے گا۔ وہ جو غالب کے شعر کا مصرع ہے:

خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

خواتین و حضرات! آپ نے اکثر خبروں، تبصروں اور بیانات میں ایک لفظ ”عندیہ“ سنا ہوگا جو اکثر بی بی سی کی اُردو سروس سے بولا جاتا ہے۔ اس کا مطلب رائے،ارادہ، منشا اور منصوبہ ہے۔ اکثر سیاستدانوں اور حکمرانوں کے بیان کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ: ”صدر نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پانچ سال تک حکومت کو اپنا کام جاری رکھنے کا موقع دیں گے“۔ اب اگر کل کو صدرِ محترم پر، جو اب سابق صدر ہیں، اپنے اس بیان سے منحرف ہونا چاہیں تو اُن پر کوئی قدغن نہیں لگے گی۔ وہ بآسانی کہہ سکتے ہیں کہ مَیں نے عندیہ دیا تھا، وعدہ نہیں کیا تھا۔ یوں بھی اگر ہم ماضی قریب میں دیکھیں تو اُن کی ”کہہ مکرنیاں“ امیر خسرو کی کہہ مُکرنیوں کے بعد سب سے زیادہ مقبول ہوئی ہیں۔ یہ لفظ ”عندیہ“ سیاست دانوں کو بہت سوٹ کرتا ہے۔ عندیہ، اطلاع بھی ہو سکتا ہے اور دھمکی بھی، خوشخبری بھی ہے اور پیغام بھی:

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی

ہم نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا

اسی طرح ایک لفظ ”مبینہ“ ہے۔ مبینہ کا مفہوم بیان کرنا یا بیان کیا جاتا ہے۔ اس لفظ کا استعمال ہم نے اُسامہ بن لادن کے پکڑے جانے، مار دئیے جانے اور سپردِ سمندر کئے جانے کی خبروں میں بہت سُنا۔ یوں بھی وہ سارا قصہ ”مبینہ“ پر ہی منحصر تھا۔ کسی قسم کے حقائق اور ثبوت کسی کے پاس نہیں تھے۔ ہر خبر کا انداز کچھ یوں تھا....مبینہ طور پر امریکی فوجی ایبٹ آباد میں اُن کی مبینہ رہائش گاہ، جو چھ سال سے زیر استعمال بیان کی جاتی ہے، پر مبینہ طور پر رات کے اندھیرے میں آئے، جہاں اُسامہ بن لادن اور اُن کے مبینہ اٹھائیس ساتھی موجود تھے۔ امریکی فوجی مبینہ طور پر ہیلی کاپٹروں سے اُترے اور مبینہ طور پر اُسے ہلاک کر کے ساتھ لے گئے۔ اُنہوں نے مبینہ طور پر سعودی عرب کو اُن کی لاش وصول کرنے کا کہا، جس پر اُنہوں نے مبینہ طور پر انکار کر دیا ، پھر امریکی فوجیوں نے اُسامہ کی لاش کو مبینہ طور پر سمندر میں پھینک دیا۔ مبینہ کا لفظ استعمال کر کے آپ تمام ذمہ داریوں سے آزاد ہو جاتے ہیں.... ”دروغ گوئی برگردن راوی“ والی بات ہوتی ہے۔

اسی طرح ایک محفوظ اور خاصا سیاسی لفظ”متعدد“ ہے، جسے اکثر پولیس والے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا بظاہر مطلب تو کثرت، بہت سے، تعداد میں زیادہ اور کئی وغیرہ ہے، مگر اسے واردات اور جلسے میں اصل لوگوں کی تعداد چھپانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ متعدد جب زیادہ کہنا ہو، تب بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے اور کم ظاہر کرنے کے لئے بھی۔ آپ نے اکثر پڑھا اور سُنا ہوگا کہ حادثے یا دہشت گردی میں چار افراد قتل اور متعدد زخمی ہوگئے۔ یا یہ کہ سیاسی جلسے میں متعدد افراد نے بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کی حمایت کی.... ایک لفظ ”امکان“ بھی خاصا ڈھکا چھپا لفظ ہے۔ اس کے سہارے آپ اپنے آپ پر لگنے والے ہر قسم کے الزام سے بری ہو جاتے ہیں۔

یہ لفظ ”امکان“ محکمہ موسمیات کا پسندیدہ لفظ ہے۔ آج بارش کا امکان ہے۔ آج موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔ بارش کا کوئی امکان نہیں۔ یہ ایک لفظ امکان محکمہ موسمیات کی عزت بچائے رکھتا ہے، کیونکہ یقین کا تو اُنہیں یقین نہیں ہوتا۔ یوں سارا محکمہ امکان کے سر پر ہی چل رہا ہے۔ اس لفظ کو ہمارے سیاست دان بھی آزادانہ استعمال کر سکتے ہیں، بلکہ اسے ”قوی امکان ہے“ کہ بھی بیان کر سکتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے پانچ سال پورے ہونے کا قومی امکان ہے۔ اس سال کے آخر تک لوڈشیڈنگ ختم ہونے کا قوی امکان ہے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان معاہدہ طے پائے جانے کا امکان ہے....”نامعلوم“ کا لفظ بھی خوب چلتا ہے۔ اکثر پولیس رپورٹ میں لکھا جاتا ہے کہ نامعلوم قاتل، نامعلوم سمت سے آئے، نامعلوم وجوہات کی بناءپر نامعلوم شخص کو قتل کیا اور نامعلوم جگہ پر فرار ہوگئے۔ یوں بھی ہمیں معلوم نہیں ہوتا، کب لوڈشیڈنگ ختم ہوگی، کب مہنگائی کم ہوگی،کب دہشت گردی کا سدِ باب ہوگا اور کب ہر ماہ پٹرول کی قیمتیں بڑھنا ختم ہوں گی۔ کسے معلوم تھا کہ شیر کی حکومت آنے سے بھی عوام کا حال بکری جیسا ہی رہے گا۔ نامعلوم یہ شبِ تاریک کب ختم ہوگی:

کسے معلوم تھا یا رب کہ ہوگی دشمنِ جاں بھی!

وہ حسرت خونِ دل پی پی کے جو پلتی ہے سینے میں

سیاسی ڈکشنری میں سب سے زیادہ اہمیت کا لفظ ”گا، گے، گی“ ہے۔ اس لفظ کے سہارے آپ پوری قوم کو پُر اُمید بنا کر پیچھے لگا سکتے ہیں۔ معصوم عوام کئی برسوں سے انہی الفاظ گا گے گی، کے سہارے پر زندہ ہیں کہ شاید کوئی نجات دہندہ آئے گا، شاید اُن کے حالات بدلیں گے اور شاید مہنگائی ختم ہوگی۔ پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ حکومت تو گا گے گی کا راگ الاپ کر ختم ہوئی۔ اب نواز شریف کی باری ہے، تیسری باری، اب اُن کا گا، گے، گی شروع ہو چُکا ہے۔ الیکشن کے دنوں میں استعمال ہونے والا یہ مستقبل کا صیغہ خوب کمال کرتا ہے اور خوب تالیاں اور نعرے لگواتا ہے۔ ہم اسی سہانے مستقبل کی اُمید پر پرچیوں پر کھٹاکھٹ مُہریں لگاتے ہیں، الیکشن گزر جاتے ہیں۔ حکومت بدل جاتی ہے، لیکن عوام کی تقدیر نہیں بدلتی:

کارواں گزر گیا غبار دیکھتے رہے

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...