وزیراعظم کی نوجوان سکیمیں

وزیراعظم کی نوجوان سکیمیں

                                                                                موجودہ حکومت پر بہت سے لوگوں کو طرح طرح کے اعتراضات ہیں،شائد اس لئے کہ ہم سب ایک پنجابی اکھان کے مطابق ”تتا تتا“ یعنی گرم گرم کھانے کے عادی ہیں، لیکن سیانے کہتے ہیں کہ سہج پکے سو میٹھا، مگرہمارے ہاں کون سہج پکنے کا انتظار کرتا ہے؟ جمہوریت کی خوبی ہی یہ ہے کہ اس کے ثمرات فوری نہیں، آہستہ آہستہ ملتے ہیں، بالکل ایسے جیسے کوئی بڑا ناول آہستہ آہستہ شروع ہوتا ہے اور آگے بڑھتے بڑھتے شاہکار ناول کا رنگ اختیار کر جاتا ہے۔ ادبی دنیا میں ایسے شاہکار ناولوں اور کہانیوں پر بحث کرتے ہوئے دانشور کہتے ہیں کہ دیکھو کیسے دھیرے دھیرے کہانی آگے بڑھی اور لازوال ہوتی چلی گئی۔جمہوریت کی کہانی بالکل ایسی ہی ہے،ہولے ہولے بڑھتی ہے اور پھر ایسے کارنامے ہو جاتے ہیں، جو تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہمسایہ ملک بھارت میں ایسا ہی ہوا،کرپٹ سیاست دانوں اور بیورو کریٹس کے ہوتے ہوئے جمہوریت نے آہستہ آہستہ پاﺅں جمائے اور پھر ایسے ثمرات دیئے کہ ان کے اپنے سیاست دان، بیورو کریٹس اور دانشور حیران ہوتے چلے گئے۔

 کوئی شک نہیں، غربت، مہنگائی، لاقانونیت ،بد امنی بھارت میں بھی بہت زیادہ ہے، اس کے باوجود جمہوریت نے نہ صرف بھارت کی اکانومی کو بوم دیا، بلکہ وہاں کی نوجوان نسل آگے بڑھ کر ملکی مسائل پر قابو پانے کے قابل ہو گئی۔ بھارتی کلچر، میڈیا اور فلم کی ترقی ہم سب کے سامنے ہے ۔ وہاں کی فیشن اندسٹری اور آئی ٹی شعبے نے جو کمال حاصل کیا۔ وہ بھی ہم سب دیکھ رہے ہیں ۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ بھارتی کرنسی ہمارے روپے کے سامنے بہت چھوٹی تھی، لیکن آج وہاںکا روپیہ ہمارے دو روپے کے برابر ہوا چاہتا ہے۔ بھارت نے زراعت کے شعبے میں بھی بے مثال ترقی کی۔ اس ترقی کے پیچھے وہاں کی پارلیمنٹ ہے، جس نے ایسی اصلاحات کیں، جو براہ راست زراعت کے شعبے پر اثر انداز ہوئیں، یوں بھارت کے وارے نیارے ہوتے چلے گئے۔

دوسری طرف ہم ہیں کہ آزادی کے بعد پاکستان کی آدھی عمر آمریت چٹ کر گئی، کچھ سال سیاست دانوں کی لڑائیوں ،ایجنسیوں اور بیورو کریسی کی ہٹ دھرمیوں نے نگل لئے، مستحکم جمہوری حکومتوں کا خواب صر ف خواب ہی رہا، لیکن شکر ہے کہ اب اس خواب کی تعبیر پانے میں ہم کچھ کچھ کامیاب ہو رہے ہیں۔ ایک جمہوری حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد دوسری جمہوری حکومت سہجے سہجے عوام کو ثمرات دینے لگی ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے نوجوانوں کے لئے میگا پراجیکٹ کا اعلان بھی انہی ثمرات میں سے ایک ہے، جن کا ذکر ہم بار بار اپنے کالموں میں کرتے رہتے ہیں ۔ ہمیں عام انتخابات کی وہ رات اچھی طرح یاد ہے، جب ابتدائی نتائج آرہے تھے اور میاں نواز شریف گھر کی چھت پر کھڑے نوجوانوں سے مخاطب تھے اور کہہ رہے تھے: ”میرے بچو، بھائیو! بہنو ، بیٹیو ! آپ قوم کا اثاثہ ہیں ، ہمارے بعد آپ نے ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھالنی ہے،خدارا !دُعا کریں کہ مسلم لیگ (ن)کو دو تہائی اکثریت ملے،ہماری حکومت کو کسی سیڑھی کی ضرورت نہ ہو،کوئی سیاسی بلیک میلنگ ہمیں کام کرنے سے نہ روک سکے، دُعا کریں کہ ہم ایسی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں جو آپ نوجوانوں کے لئے کچھ کر سکے“۔

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ میاں نوازشریف کی حکومت نے اپنے ملک کے شاہینوں اور شہبازوں کے لئے واقعی کچھ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نوجوانوں کے لئے ایسا پراجیکٹ اور سکیم اناﺅنس کی ہے جو پاکستان کی تقدیر بدلنے کی طرف پہلا، مگر بھرپور قدم ہے۔ وزیراعظم نے غریب، بے روزگار نوجوانوں اور طالب علموں کے لئے 6بڑے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جن میں ذاتی کاروبار کے لئے 20لاکھ تک بلاسود قرضے دینا ، چھوٹے کاروباری قرضوں کی ادائیگی، تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے تربیتی سکیم، نوجوانوں کی ہنر مندی سکیم، پسماندہ علاقوں کے طلبہ و طالبات کی فیس کی ادائیگی اور ذہین طلبہ میں لیپ ٹاپ کی تقسیم شامل ہے۔

وزیراعظم نے پراجیکٹس کا اعلان کرتے ہوئے نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ” آپ جانتے ہیں ،ملکی معیشت اور دیگر مسائل میں گھرے پاکستان میں سُکھ کی بانسری بجانا کتنا مشکل ہے، مگر ابتر حالات کے باوجود حکومت وعدے کے مطابق کمزور اور پسے طبقات کے لئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہے“۔ وزیراعظم کا یہ کہنا بھی بجا کہ سفارشی بھرتیوں اور بے جا اخراجات نے بڑے بڑے اداروں کو کھوکھلا کر دیا ہے ،اس لئے نوکریوں کی بجائے آج کے نوجوان کو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونا ہو گا اور کاروباری دُنیا میں کچھ کر کے دکھانا ہو گا۔ وزیراعظم نے خواہش ظاہر کی کہ وہ ایسا نظام چاہتے ہیں، جس میں ہمارا نوجوان خود کمائے اور دوسروں کی مدد کا باعث بھی بنے۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کی ہمت بڑھاتے کہا کہ ”اُٹھئے! کمر باندھئے،ملک و قوم کی ڈولتی کشتی منزل تک لے جانے کے لئے ہر اول دستہ بن جائیے، پاکستان کو خود دار، خوشحال ، خود مختار ملک بنانے کے لئے کمر باندھ لیجئے ،انشااللہ!وطن عزیز کے عظیم الشان مستقبل کا سورج آپ ہی کی تقدیر کے افق پر طلوع ہوگا“۔

صاحبو! یقین کیجئے! یہ سورج تب ہی طلوع ہو سکتا ہے، جب ابراہیم موچی کا پڑھا لکھا بیٹا باپ کی طرح جوتے سینے کی بجائے شوز فیکٹری لگائے ،جب تانگہ چلانے والے رحمت رحمانی کا بیٹا ٹرانسپورٹر کہلائے ، جب غریب کاشتکار کا بیٹا جدید ترین زرعی فارم ہاﺅس چلائے، جب پسے طبقے پوری شان کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آج کے ترقی یافتہ دور کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل سکیں اور کہہ سکیں کہ یہ ملک صرف فیوڈل سسٹم یا امیرزادوں کی عیاشی کے لئے نہیں بنا، بلکہ ہم جیسوں کے آگے بڑھنے ،ترقی کرنے اور وسائل میں سے حصہ لینے کے لئے آزاد ہوا ہے،کوئی شک نہیں کہ جب ملک و قوم کا اربوں روپیہ قرضے کے نام پر بڑی بڑی توندوں والے سیٹھوں اور ملز مالکان کی تجوریوں میں جانے کی بجائے عام لوگوں کی رسائی میں ہو گا، تو نتیجہ انقلاب کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ غربت ، بے روزگاری ، مہنگائی اور دہشت گردی کی ماری پاکستانی نوجوان نسل کے لئے وزیراعظم کی یہ سکیمیں ڈوبتوں کو تنکے کا سہارا ہی نہیں، بلکہ آگے بڑھنے اور اپنے آپ کو منوانے کا بہترین ذریعہ ہیں ،یقینا جو نوجوان حالات ، غربت، بے روزگاری سے تنگ خود کشیوں ،خود سوزیوں پر مجبور نظر آتے ہیں یا پاکستان سے باہر بھاگ جانے کے لئے بے تاب ہیں وہ اب اپنے تمام مایوس کن منصوبوں کو خاک میں ملا تے ہوئے ان بنکوں کا رُخ کریں گے، جن میں ان کے مستقبل کے لئے وزیراعظم کی جمہوری حکومت نے پیسے رکھے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کی یہ سکیمیں صرف سکیمیں ہی نہیں، بلکہ ایسے خواب ہیں، جن کی تعبیر اب دور نہیں، یقینا اس تعبیر کا نام خوشحال پاکستان ہے، جس میں ہر نوجوان سر اُٹھا کر چلتا نظر آتا ہے اور کسی نوجوان کی زبان پر یہ گلہ نہیں کہ لاکھوں قربانیوں سے حاصل کئے گئے پاکستان نے انہیں کیا دیا؟  ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...