شیر جوان، کارکردگی اور ناکے!

شیر جوان، کارکردگی اور ناکے!

                                                                                                                مری، بارہ کہو اسلام آباد اور لاہور کو شامل کر لیا جائے، تو گزشتہ دِنوں یہاں سے تین درجن سے زیادہ مشتبہ اور مطلوب افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔ان میں کراچی سے فرار ہو کر مری اور لاہور میں چھپنے والوں کے علاوہ انسداد دہشت گردی عدالت کے پراسیکیوٹر جنرل کے قتل سمیت خود کش دھماکے کے ملزم بھی شامل ہیں۔ لاہور سے بھی اب تک متعدد نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان سے اسلحہ کے علاوہ جہادی لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے، اس لئے اب تفتیش کے بعد ہی یہ پتہ چلے گا کہ یہ نوجوان دہشت گردی میں ملوث ہیں یا پھر افغانستان میں نیٹو کے خلاف برسر پیکار طالبان سے متاثر ہو کر اُن کے لئے انہی کے نظریات کے مطابق اپنے طور پر تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ ان سب کو جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سپرد کیا گیا ہے، جو ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ ان گرفتاریوں میں پنجاب پولیس شامل ہے کہ یہ ضروری تھا ،ورنہ یہ سب کارروائی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اطلاع پر ہوئی، جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم اور پولیس نے مشترکہ طور پر چھاپے مارے تھے۔

یہ بڑی کامیابیاں ہیں جو پنجاب پولیس نے سمیٹیں اور اس کا کریڈٹ بھی لیا جا رہا ہے، تاہم اس امر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ فوری کارروائیاں جو کامیاب ہوئیں، ماضی میں کیوں نہ ہو سکیں۔ یہ جائنٹ انوسٹی گیشن فورس پہلے بھی تھی اور اِکا دُکا لوگ پکڑے بھی جاتے تھے۔ یہ دراصل انٹیلی جنس اداروں اور تفتیشی ٹیموں کے تعاون کا نتیجہ ہے۔ ایسا احساس ہوا کہ اب ان اداروں کے درمیان تعاون ہو رہا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ پہلے اعتماد کا فقدان تھا اور اب یہ پیدا ہو گیا ہے۔

بہرحال یہ کامیابیاں مبارک! اب اتنی گرفتاریوں کے بعد ان اداروں کو آرام نہیں کرنا چاہئے، بلکہ مزید محنت سے اور بھی ملزم قانون کے کٹہرے میں لانے چاہئیں، اس کے بعد کا بہتر عمل یہ ہے کہ ان گرفتار لوگوں سے کی گئی تفتیش اور تحقیق کے نتائج سے عوام کو آگاہ کیا جائے اور ان سب کو عدالتوں میں پیش کیا جائے، جو سزا اور جزا کے فیصلے کا اصل فورم ہے۔ اگر کچھ لوگ بے گناہ ہوںتو بھی ان کو خاموشی سے فارغ نہ کیا جائے، اس طریق کار سے قانون کی عمل داری پختہ ہو گی۔

یہ تو تازہ تر حقائق ہیں جو قارئین کی خدمت میں پیش کر دیئے گئے ہیں اور یقینا یہ قابل تعریف ہیں،تاہم اب ذرا گلہ بھی تو سن لیا جائے۔ امن و امان کے حوالے سے ہی یہاں ہائی الرٹ کی کال دی گئی ہے اور ہماری پولیس انتظامیہ نے اس کا جواب اپنے روایتی انداز سے دیا اور لاہور میں جگہ جگہ ناکے لگا دیئے ہیں۔ابھی تک تو ان ناکوں کی وجہ سے کوئی بڑا ملزم پکڑا نہیں گیا اور نہ ہی کسی واردات کے رکنے کی اطلاع ملی ہے۔ شہر میں چوریاں، راہزنی اور ڈاکوں کی وارداتیں بدستور جاری ہیں،ابھی کل ہی جوہر ٹاﺅن میں ایک جنرل سٹور لوٹا گیا ہے اور یہ واردات ملزموں کی دیدہ دلیری کی مظہر ہے۔ بتایا گیا ہے کہ تین یا چار نوجوان ایک بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور میں گھسے اور اندر موجود سب حاضرین پر اسلحہ تان لیا، کافی گاہک موجود تھے جو سودا سلف لینے آئے تھے۔ ان ڈاکوﺅں کی حوصلہ مندی اور دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے سٹور کے کیشئر سے ساری رقم نکلوانے کے علاوہ دکان میں موجود تمام گاہکوں کی جیبیں بھی خالی کر دیں اور اکثر سے اُن کے موبائل بھی لے لئے، ایسے میں دو افراد باہر سے اندر داخل ہوئے تو وہ بھی زد میں آ کر جیبیں خالی کروا بیٹھے، ڈاکو بھائی اطمینان سے تین ساڑھے تین لاکھ روپے سمیٹ کر چلتے بنے، سٹور والوں نے ایمرجنسی پولیس سے رابطہ کر کے آگاہ کیا تو قارئین! جان گئے ہوں گے کہ کتنی دیر بعد پولیس کی گاڑی آئی ہو گی اور یہ گاڑی وہ تھی، جو جوہر ٹاﺅن ہی میں گشت کر رہی تھی، اس کے بعد جو ہوا وہ ہوا، کیا ہوا، وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا ہے۔ دکاندار سے پوچھ گچھ اور بعض گاہکوں کی جھاڑ پونچھ بھی ہو گئی ،نتیجہ صفر!

یہ تو صرف ایک واردات کا حال ہے۔ ایسی وارداتیں تو شہر کے ہر حصے میں ہو رہی ہیں۔ کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ ادھر ہمارے ان شیر جوانوں نے ناکوں کا سلسلہ بھی شروع کر رکھاہے۔ صرف وحدت روڈ پر ہی پانچ جگہ ناکے لگتے ہیں۔ جمعہ کی شام جب ہم دفتر سے گھر جا رہے تھے تو دیکھا کہ ایک شیر جوان ایک ہاتھ میں موبائل کان سے لگائے باتیں کرتا چلا جا رہا ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں کرسی ہے، یہ جوان وحدت روڈ پر یونیورسٹی والے امتحانی مرکز کے پاس پہنچا اور وہاں یہ کرسی بچھائی۔ اس کے دو ساتھی پہلے سے موجود تھے، تینوں نے لوہے کا جنگلا پکڑ کر سڑک پر رکھ دیا اور آدھی سڑک روک دی، یہ ناکہ لگ گیا۔ ہم نے اس شام اسی سڑک کے کم از کم چار ناکوں کا حال جاننے کی کوشش کی۔ اس ناکے کی کارکردگی کے لئے کچھ دور رکے تو آگے ممتاز بختاور ہسپتال کو جانے والی سڑک کے کنارے والے ناکے کو دیکھا اور پلٹ کر مسلم ٹاﺅن موڑ کے قریب آبپارہ چوک پر دونوں اطراف لگے ناکوں کی کارکردگی بھی ملاحظہ کی۔

دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی اور گرفتاریوں کے لئے متعین ان حضرات میں مجاہد فورس والے، ایک ٹریفک وارڈن اور دو تین مقامی پولیس تھانے والے تھے۔یہ حضرات بڑے ہی ڈھیلے ڈھالے انداز میں کھڑے ٹریفک گزرتے دیکھ رہے تھے جو لوہے کے جنگلے کی وجہ سے آدھی سڑک سے گزر رہی تھی اور ہم شہری بھی اپنی روایتی جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیدھ میں ایک دوسرے کے پیچھے چل کر گزر جانے کی بجائے دائیں بائیں سے آگے گزرنے کی کوشش فرما رہے تھے۔ ڈیوٹی پر موجود جوانوں میں سے ایک آدھ فون پر بات کر رہا تھا تو باقی لاتعلق انداز سے گپیں ہانک رہے تھے، البتہ دو جوانوں کی پھرتی قابل دید تھی جو لپک کر موٹر سائیکل سوار یا رکشا کو روکتے اور پھر ان کی تلاشی لے کر فرض ادا کرتے۔ جب مایوسی ہوتی تو موٹر سائیکل والوں سے کاغذات طلب کئے جاتے، عموماً یہ مکمل نہیں ہوتے۔ خصوصاً نوجوانوں کے پاس لائسنس نہیں ہوتا، یہ جرم ناقابل معافی، تھانے چلو کی تان آتی اور پھر تھوڑی دیر بعد ہی سمجھوتہ ہو جاتا اور رکشا یا موٹر سائیکل والے اپنی منزل کو روانہ ہو جاتے۔ اس عرصے میں کاریں گزرتی چلی جاتی رہیں، ان کو کسی نے نہیں پوچھا۔ یہ عمل کسی ایک جگہ یا صرف وحدت روڈ پر ہی نہیں ہوتا، بلکہ ہر ناکے پر یہی کچھ ہوتا ہے۔ ابھی تک ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی کوئی خبر نظر سے گزری کہ ان ناکے والوں نے کسی بڑے مجرم کو پکڑا ہو، یوں یہ ناکے جرائم کے لحاظ سے نمائشی اور جوانوں کے لحاظ سے منافع بخش ثابت ہو رہے ہیں۔

یہ تو ناکوں پر مقامی پولیس اور مجاہد فورس والوں کا حال ہے۔ ہماری ایلیٹ فورس کے جوان ان سے بھی زیادہ چوکس ہیں۔ جب کوئی گاڑی ایسی گزرتی ہے، جس پر یہ جوان رائفلیں تھامے چوکس بیٹھے ہوں، تو طبیعت خوش ہوتی اور ایک اعتماد سا پیدا ہوتا ہے، لیکن ان کا بھی اکثر یہ حال ہوتا ہے کہ کسی موٹر پر گاڑی کھڑی کر کے لا تعلقی سے گپ شپ کرتے پائے جاتے ہیں یا پھر آتی جاتی کسی ایسی کار کو تاڑتے اور روکتے ہیں، جس کے بارے میں شائبہ ہو کہ ڈرائیور کے پاس لائسنس تو یقینا نہیں ہو گا اور پھر وہی کچھ ہوتا ہے جو ناکوں والے کرتے ہیں۔

ان حالات سے احساس ہوتا ہے کہ ہماری اس فورس کی تربیت ہونا ضروری ہے اور ہمارے وزیراعلیٰ نے یہ اعلان بھی کر رکھا ہے، لیکن کیا کِیا جائے وہ ان دِنوں قومی اہمیت کے بڑے کاموں میں الجھے ہوئے ہیں اور توانائی کا مسئلہ حل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں، اس لئے تربیتی پروگرام والی تجویز پر عمل کی نوبت نہیں آ رہی، اللہ کرے وہ جلد یہ کا م مکمل کر لیں تو دوسرے امور کی طرف بھی توجہ دیں۔

چلتے چلتے یہ بھی بتا دیں کہ پو لیس کی حالت اور کارکردگی یہ ہے اور ان کو گالی بھی پڑتی ہے۔ اس کے باوجود لاہورکےلئے 900سپاہی بھرتی ہونا ہیں۔ درخواستیں40ہزار سے زیادہ آ گئیں، تعلیمی حیثیت کے بارے میں بتا کر قومی شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ملے گا....اللہ! رے یہ بے روز گاری....!    ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...