جب اصل کی جگہ نقل آ جاتی ہے

جب اصل کی جگہ نقل آ جاتی ہے
 جب اصل کی جگہ نقل آ جاتی ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

                                                                                    مذاہب اور تحریکوں میں بعض باتیں مشترک ہوتی ہیں، مثلاً ہمیشہ ایسے ہوتا ہے کہ ہر مذہب اور ہر تحریک کو پہلے پہل قبول کرنے والے عام طور پر بے حد مخلص اور ایثار پیشہ ہوتے ہیں۔ انہیں ظاہر سے زیادہ اپنے باطن کی فکر ہوتی ہے، ریا کاری سے دُور بھاگتے ہیں، اپنے رہبر سے دل و جان سے محبت کرتے ہیں۔ معاشرے کی غالب طاقتیں ایسے لوگوں کے وجود کو اپنے لئے خطرہ سمجھتی ہیں۔ وجہ یہ ہوتی ہے کہ نئے مذہب یا نئی تحریک کے پیرو کار موجود نظام زندگی سے مطمئن نہیں ہوتے،وہ تبدیلی چاہتے ہیں، چنانچہ کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ نئے مذہب یا نئی تحریک پر آزمائش کے کئی دور آتے ہیں، لیکن ان کے داعی ثابت قدمی اور حوصلے کے ساتھ تمام مزاحمتوں کا سامنا کرتے ہیں، غالب قوتوں سے سمجھوتہ نہیںکرتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مزاحم قوتیں پسپا ہوتی چلی جاتی ہیں اور نئے مذہب یا نئی تحریک کو غلبہ حاصل ہو جاتا ہے۔ شرکی طاقتیں پسپا ضرور ہو جاتی ہیں لیکن بالکل دب نہیں جاتیں۔ آہستہ آہستہ خیر کی سوسائٹی میں بدطینت، حریص اور استحصالی لوگ غالب آنا شروع ہو جاتے ہیں اور زوال کا عمل آگے بڑھنے لگتا ہے۔

یہودیوں کی ہوس زر کے ردعمل کے طور پر عیسائیت فروغ پذیر ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام یہودی عالموں کی ریا کاریوں اور کاروباری طبقے کی حرام خوریوں کو برسر عام ہدف تنقید بناتے توانہیں بڑی تکلیف ہوتی، چنانچہ انہوں نے اس و قت کی رومن حکومت کو حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف بھڑکانے کی بہت کوششیں کیں۔ ایک بار پوچھنے آئے کہ یہ بتایئے، اس حکومت کو ٹیکس دینا جائز ہے؟ ان کا خیال تھا کہ مسیح علیہ السلام اگر کہیں گے دینا چاہئے تو ہم اعتراض کریں گے کہ تم کیسے نبی ؑ ہو کہ بُت پرست حکومت کو ٹیکس دینا جائز بتاتے ہو اور اگر کہیں گے کہ نہیں دینا چاہئے تو ہم حکومت سے کہیں گے کہ یہ شخص تمہارے خلاف بغاوت پھیلا رہا ہے، لیکن حضرت مسیح علیہ السلام نے کمال حکمت سے سوال انہی پر پلٹ دیا۔ آپ نے سکے کا ایک رُخ دکھایا اور پوچھا یہ کس کی صورت ہے؟ وہ کہنے لگے، قیصر روم کی۔ آپ علیہ السلام نے سکے کا دوسرا رُخ سامنے کیا اور پوچھا: یہ کس کا نام لکھا ہوا ہے؟ وہ کہنے لگے خدا کا۔ آپ نے فرمایا: تو پھر جو حصہ قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو اور جو حصہ خدا کا ہے، وہ خدا کو دو۔ یہودی مزید بھڑک اٹھے، گورنر سے حضرت مسیح علیہ السلام کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ وہ گورنر یہودیوں کی چالوں کو سمجھتا تھا، وہ جانتا تھا کہ مسیح بے گناہ ہیں، چنانچہ جب مطالبہ زور پکڑ گیا تو گورنر نے اپنے دونوں ہاتھ پانی سے لبریز پیالے میں ڈبوئے اور اپنے دربار کے لوگوں کے سامنے بلند کرتے ہوئے کہا: دیکھ لو اس شخص کے خون سے میرے ہاتھ صاف ہیں۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکار چھوٹے چھوٹے پیشوں سے تعلق رکھنے والے غریب لوگ تھے، انہیں قرآن مجید میں حواری کہا گیا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد وہ بستی بستی پھیل گئے اور دین خداوندی کو پیش کرنے لگے۔ انہیں کافر حکومت کی طرف سے کافی مدت تک شدائد کا مقابلہ بھی کرنا پڑا، لیکن آخر کامیابی اس طرح ملی کہ رومن بادشاہ کانسٹینٹائن نے دین ِ مسیح کو قبول کر لیا۔ پھر یہ ہوا کہ دینی لوگوں کو سلطنت میں بڑے بڑے عہدے ملنے لگے اور وہ عیش و عشرت میں ڈوبتے چلے گئے۔ کچھ لوگوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی درویشی سے متاثر ہو کر راہب بننا شروع کر دیا، یعنی دُنیا سے مکمل طور پر تعلق توڑ لیا۔ مذہبی لوگوں نے گرجوں کو قحبہ خانوں میں بدل دیا۔ وہاں روپیہ پیسہ بھی خوب جمع ہونے لگا۔ جب یورپی اقوام نے سمندری راستوں سے تجارت کوبڑھایا تو بتایا جاتا ہے کہ اس تجارت میں زیادہ حصہ پادریوں کا شامل ہوتا تھا۔ وقت ایک جگہ نہیں ٹھہرتا، مارٹن لوتھر نامی ایک ایسا جرمن پادری اُٹھا، اس نے تحریک اصلاح کلیسا شروع کی، جس کے نتیجے میں اسے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بالآخر مذہبی لوگوں کو صرف چرچ تک محدود کر دیا گیا۔

ہندوستان میں کوئی ساڑھے تین ہزار سال پہلے آریہ قوم وارد ہوئی۔ اس نے مقامی اقوام پر غلبہ پا لیا اور انہیں سوسائٹی کا سب سے نچلا درجہ دے دیا۔ انہیں شودر کا نام دیا اور کہا یہ برہما دیوتا کے پاﺅں سے پیدا ہوئے تھے۔ باقی آریہ قوم تین طبقوں میں بٹ گئی۔ سب سے اعلیٰ مقام برہمن کو دیا گیا کہ وہ برہما دیوتا کے سر سے پیدا ہوئے۔ تمام مذہبی رسوم کی ادائیگی ان کے سپرد ہوئی۔ کشتریوں کو راج پاٹ سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی گئی، کیونکہ وہ برہما دیوتا کے بازوﺅں سے پیدا ہوئے تھے۔ کھیتی باڑی کا کام ویشوں کو سونپا گیا، کیونکہ وہ برہما دیوتا کی رانوں سے پیدا ہوئے تھے۔ پہلے پہل تو سوسائٹی کی درجہ بندی مادی ضرورتوں کے تحت کی گئی تھی، لیکن پھر بتدریج اس تقسیم کو دیوتاﺅں کی تقسیم سے تعبیر کر کے اس کی حیثیت مقدس بنا دی گئی۔ کوئی شودر کشتری نہیں بن سکتا تھا اور کوئی ویش برہمن نہیں بن سکتا تھا، طبقہ بدلنا بڑا جرم قرار پایا۔

ایک وقت آیا کہ برہمنوں کی ہندی معاشرے پر اجارہ داریاں بڑھ گئیں۔ وہ مختلف طریقوں سے نچلے طبقات سے بہت زیادہ خدمات لیتے، لیکن ان کو خدمات کا پورا صلہ نہ دیتے، بلکہ جو کچھ وہ کماتے، وہ بھی چھین لیتے۔ نچلے طبقے ڈرتے تھے کہ اگر انہوں نے برہمن کی کسی خواہش کو پورا نہ کیا تو دیوتا ناراض ہو جائیں گے، چنانچہ بڑی دیر تک سوسائٹی پر جمود چھایا رہا۔ برہمن اخلاقی لحاظ سے کتنا بھی بُرا ہوتا، لیکن اس پر کسی کو انگلی اٹھانے کی جرا¿ت نہ ہوتی۔ کشتری راجے تک برہمن کے سامنے چوں نہیں کر سکتے تھے ،بالآخر ہوا یہ کہ ایک کشتری راجے کے گھر مہاتما بُدھ نے جنم لیا۔ باپ نے پوری کوشش کی کہ وہ عوامی زندگی کا مشاہدہ نہ کرے، اسے محلات میں عیش و عشرت کے سارے سامان مہیا کئے، لیکن ایک روز مہاتما بُدھ کو محلات سے باہر نکلنے کا موقع مل گیا۔ اُس نے عام آدمی کے دُکھوں اور محروموں کا براہ راست مشاہدہ کیا، تو سوچ میں پڑ گیا کہ میرے اور اُن کے درمیان اتنا فرق کیوں ہے؟

مہاتما بُدھ دُکھ کی حقیقت جاننے کے لئے جنگلوں کی طرف نکل گیا۔ بے شمار راہبوں اور عالموں سے ملا، اُن سے بہت کچھ پوچھا، لیکن اُس کی تسلی نہ ہوئی۔ کئی سال بعد جب وہ سوکھ کر کانٹا ہو چکا تھا اور بضد تھا کہ جب تک مجھے روشنی نہیں ملے گی، مَیں نہیں اُٹھوں گا، تو اسے اچانک نروان حاصل ہو گیا۔ اسے معلوم ہوا کہ سارے دُکھ درد خواہشات کے پورا نہ ہونے سے جنم لیتے ہیں۔ اگر آدمی خواہشات کی غلامی کم کر دے تو اُس کے دُکھ بھی کم ہو جائیں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں لوگ اُس کے پیچھے چل پڑے۔ ان میں کوئی شودر تھا، کوئی کشتری تھا اور کوئی ویش تھا۔ کسی کو کسی پر کوئی تفوق حاصل نہیں تھا۔ برہمنوں کے لئے یہ صورت حال بڑی تکلیف دہ تھی۔ انہوں نے مہاتما بُدھ کے ماننے والوں پر کشتری راجوں کی مدد سے تشدد کی انتہا کر دی، لیکن بُدھ تحریک پھیلتی چلی گئی۔ بُدھ مت کے ماننے والوں نے مہاتما بُدھ کے بعد بھی تحریک جاری رکھی۔ ایک وقت آیا جب راجا اشوک نے بُدھ مت قبول کر لیا۔ وہ خود فقیر درویش بن گیا، سب کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانا کھاتا، درویشی لباس پہنتا اور بھکشوﺅں کے ہمراہ تبلیغی دورے پر نکلتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بُدھ مت پورے ہندوستان میں پھیل گیا اور برہمن مت کو زوال آ گیا۔ اشوک کے بعد کنشک اور ہرش دو اور بھی بُدھ حکمران ہوئے۔ جب مسلمان محمد بن قاسم کے ساتھ ہندوستان میں آئے تو اس وقت بُدھ مت کو زوال آ چکا تھا۔ بُدھ مت کے مبلغین جو بھکشو کہلاتے تھے، وہ خود عیش و عشرت میں پڑ گئے۔ عوام سے بہت زیادہ نذرانے وصول کرتے، لیکن روحانی طور پر خالی تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ برہمنوں کو پھر عروج حاصل ہو گیا۔ برہمنوں نے بدھوں کی ایک بڑی تعداد کو مار مار کر ہندوستان سے باہر نکال دیا۔ ان کے نزدیک بُدھ مت مساوات کا درس دینے کا قصور وار تھا۔

سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر 17حملے کئے، ان میں اسے مندروں اور راجوں کے محلات سے بے حساب دولت حاصل ہوئی۔ اس وقت کشتری راجاﺅں اور برہمنوں نے مل کر ہندوستانی عوام کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ بہانے بہانے سے کھیتوں کی پیداوار اُٹھا کر لے جاتے، لیکن ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ عوام پر ایسے ایسے ٹیکس لگا رکھے تھے، جن کے بوجھ تلے نچلے طبقات کی زندگی اجیرن ہو چکی تھی۔ ایسے ہی معاشرے میں مسلمان مساودات کا تصور لے کر آئے کہ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔

عیسائیت کے بعد جب حضور پاکﷺ نے اسلام کی دعوت دینا شروع کی، تو اُن کے گردو پیش تمام عرب دُنیا کفر و شرک میں ڈوبی ہوئی تھی۔ مقامی قبائل نے آپ اور آپ کے ساتھیوں پر وطن میں رہنا مشکل کر دیا، تو وہ یثرب میں ہجرت کر گئے۔ کافر طاقتوں نے کئی بار مدینة النبی پر حملہ کیا، لیکن ہر بار شکست ان کا مقدر ہوئی۔ مدینہ میں آپ کی رہنمائی میں ایسا معاشرہ تشکیل پایا، جہاں ایثار، وفا، سادگی، بہادری، محبت، انصاف، حیا، ایمانداری،ایفائے عہد، سخاوت اور صدق گوئی کی اقدار کو عروج حاصل ہوا۔ سب سے پہلے نبی کریمﷺ نے اپنی ذات سے اعلیٰ اخلاقی قدروں کی لازوال مثالیں پیش کیں۔ اس کے بعد آپ کے پیرو کاروں کی زندگیاں بھی انہی اقدار کا نمونہ بن گئیں۔ وقت گزرتا گیا، مسلمانوں کے دِلوں میں دُنیاوی معاملات سے دلچسپی بڑھنا شروع ہو گئی، تو اندر ہی اندر زوال کا عمل بھی تیز ہوتا گیا۔ اذان رہ گئی، مگر روح ِ بلالی مفقود ہوگئی۔ اسلامی عبادات کا نظام باقی رہ گیا، مگر ان پر عمل سرا سر میکانکی ہو گیا۔ فقہی اصولوں پر بڑی بڑی کتابیں تو ترتیب پا گئیں، مگر اصولوں کی سپرٹ نظروں سے اوجھل ہوگئی، سادگی کی جگہ نمود و نمائش اور خلوص کی جگہ ریا کاری نے لے لی۔ دُنیا پرستی ہی نے منافقت، تنگ نظری، بے حیائی، بددیانتی اور کذب گوئی کا راستہ دکھایا۔ خاص طور پر مقتدر طبقات، امارت اور حکومت کے اس حد تک دلدادہ ہو گئے کہ وہ اپنے مفاد کی خاطر ہر اصول کو پامال کر ڈالتے، حتیٰ کہ میر جعفر اور میر صادق بھی جنم لینے لگے، جنہیں دولت و اقتدا کی حرص نے اس حد تک اندھا کر دیا وہ دشمنوں کے لئے مخبری تک کرنے پر تیار ہو گئے۔

غلامی کے طویل طویل ادوار گزارنے کے بعد توقع کی جاتی تھی کہ تمام نو آزاد مسلم ممالک میںخداوند تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین کو سربلندی ملے گی، لیکن یہ توقع ہر ملک میں نقش بر آب ثابت ہوئی۔ جو حکمران بھی آیا وہ غیرملکی آقاﺅں کا دل سے خیر خواہ ثابت ہوا۔ آج پاکستانی معاشرے پرنگاہ ڈالئے تو یوں لگتا ہے جیسے نہ یہاں پاکستانیت کو فروغ مل سکا ہے، نہ اسلام کی کوئی قدر و قیمت ہے۔ کاروباری لوگ مال و دولت کی حرص میں سارے اصول بھول گئے ہیں۔ افسر طبقے نے آج تک اس نظام کی اصلاح کی کوئی تدبیر نہیںکی۔ انہیں صرف اپنی تنخواہوں اور مراعات کی فکر کھائے جاتی ہے۔ جاگیردار اور وڈیرے آج بھی عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ان کی زمینوں پر خون پسینہ ایک کرنے والے مزارعوں کی زندگی ڈھور ڈنگروں سے بدترہے۔ اونچے طبقات نے آج تک کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آنے دی۔ علماءنئے سے نئے مدرسے کھولنے اور مسجدوں کی تعمیر کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ صوفی لوگ محض وردوظائف سے لوگوں کی مشکلات کو حل کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ دین صرف چند ظاہری امور کی نقل کرنے کا نام رہ گیا ہے۔

داڑھی رکھنے، ٹخنے سے اونچا پاجامہ پہننے اور چھوٹے چھوٹے کاموں کو سنت قرار دینے کا رواج عام ہو گیا ہے۔ نیکی کا سب بڑا کا م یہ رہ گیا ہے کہ مسجدوں اور مدرسوں کو چندے دو اور جنت میں گھر بناﺅ....ملت اسلامیہ کی اجتماعی فلاح و بہبود کا تصور بالکل مفقود ہو گیا ہے۔ پولیس، عدالتیں، پٹوار خانے، تعلیمی ادارے، قانون ساز ادارے وغیرہ سب کو کرپشن نے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ ان اداروں کی اصلاح کے لئے آج تک کسی حکومت نے بھی کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا۔ ہر پارٹی صرف اقتدارمیں آنے کی خواہش رکھتی ہے، اسے اجتماعی فلاح سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ تمام قوم مختلف فرقوں اور چھوٹے چھوٹے بے شمار گروہوں میں بٹی ہوئی ہے۔ کسی گروہ میں شعور موجود نہیں کہ وہ کیا لائحہ عمل اختیار کرے، جس سے زوال آمادہ قوم ترقی اور خوشحالی کے راستے پر آ جائے۔ اسلام کو تقویت حاصل ہو اور مسلمان عالمی طاقتوں کے چنگل سے نکل سکیں۔       ٭

مزید : کالم