شام: یہ کس کا فر ادا کا غمزئہ خوں ریز ہے ساقی؟

شام: یہ کس کا فر ادا کا غمزئہ خوں ریز ہے ساقی؟
شام: یہ کس کا فر ادا کا غمزئہ خوں ریز ہے ساقی؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

                                                        شام میں بشار الاسد کی موروثی آمریت کے خلاف جدوجہد کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو رہا ہے۔ تیونس، مصر، لیبیا وغیر میں جو جدوجہد، جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد اور ”بہار عرب“ کہلائی، وہ شام میں بغاوت قرار دی گئی۔ دوسرے ملکوں میں آمروں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے والوں کو جمہوریت کے سپاہی قرار دیا گیا تو شام میں انہیں ”باغی“ کا نام دیا گیا۔ مصر جہاں عوام کی جدوجہد سے آمریت کو شکست دے کر جمہوریت بحال کی گئی، عام انتخابات کے ذریعے ایک جماعت کو اقتدار ملا۔ وہاں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پانچ دس ہزار افراد کے احتجاج کو بہانہ بنا کر فوج کو مسلط کر دیا گیا۔ اسلام سے خوف زدہ جمہوریت پرستوں نے فوجی بغاوت کو جائز قرار دے دیا۔ جنرل سیسی کی فوجوں نے جب مسجد رابعہ میں دھرنا دینے والوں کا قتل عام کیا اور اُن پر ٹینک چڑھا دئیے تو امریکہ میں انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں نے اس پر احتجاج شروع کیا، لیکن اس کے بعد شام کا مسئلہ زیادہ توجہ کا مرکز بن گیا اور مصر میں سیسی کی فوجیں کیا کر رہی ہیں، یہ سب کو بھول بھال گیا۔

شام میں انسانی خون کی ارزانی کو نظر انداز کر کے اسے کیمیائی ہتھیاروں کا مسئلہ یا روس امریکہ کے درمیان کمیونزم اور کیپٹلزم کا معرکہ بنا دیا گیا۔ روسی صدر ولادی میرپیوٹن کو کمیونزم یاد آنے لگا ہے اور وہ شام کے مسئلے پر امریکہ کو زِچ کر کے روس کا کھویا ہوا مقام بحال کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ امریکہ کا معاملہ خود کچھ مشکوک سا ہے۔ اب تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ امریکہ چاہتا کیا ہے؟.... صدر پیوٹن نے شام کے مسئلے کے حوالے سے امریکی اخبار میں جو مضمون لکھا، اس پر خوب واہ واہ ہوئی اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے حلقوں نے فوراً فیصلہ دے دیا کہ دنیا ایک بار پھر دو قطبی ہوگئی ہے۔ پیوٹن نے اپنے مضمون میں امریکی ایکسیپشنلزم کو تنقید کا نشانہ بنایا، جسے پاکستان میں یار لوگوں نے امریکی برتری کے زعم کو چیلنج قرار دے دیا۔

مَیں نے اپنے کالم نظریہءپاکستان کے سلسلے میں امریکی ایکسیپشنلزم کا ذکر کیا تھا کہ اس کا وجود بہت عرصے سے تھا، لیکن اسے اس نام سے بہت بعد میں پکارا گیا۔ آج اس کی تھوڑی سی وضاحت ہو جائے۔ روسی سلطنت کی ایک ریاست لتھوانیا سے ایک یہودی خاندان ہجرت کر کے امریکہ وارد ہُوا۔ اس خاندان کا ایک نوجوان جیکب لائبسٹائین تھا.... نیویارک کے سٹی کالج میں داخل ہُوا، جہاں اُس نے طلبہ کی سوشلسٹ تنظیم سے تعلق پیدا کیا۔ یہ نوجوان جے لووسٹون کے نام سے معروف ہوا اور اس نے امریکی سوشلسٹ پارٹی کے بائیں بازو کے دھڑے کے ساتھ مل کر امریکن کمیونسٹ پارٹی قائم کر دی۔.... (تعجب ہے کہ سوشلسٹ پارٹی میں بھی دایاں بایاں بازو تھے، لیکن امریکہ میں اب بھی یہ صورت حال ہے).... لووسٹون امریکی کمیونسٹ پارٹی کا جنرل سیکرٹری بن گیا۔ یہ روس میں لنین کا دور تھا اور امریکی کمیونسٹ پارٹی کو بھی براہ راست روس سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ امریکی کمیونسٹ پارٹی کے اندر بھی دھڑے تھے۔ لینن کی موت پر لوو سٹون کا مخالف دھڑا جوزف سٹالن سے مل گیا۔ تو لووسٹون نے خود کو نکولائی بخارین سے وابستہ کر لیا۔ جوزف سٹالن نے لووسٹون کو اپنے مخالف ولیم زیڈ فوسٹر کے حق میں جنرل سیکرٹری شپ سے دست بردار ہونے کا حکم دیا، لیکن لووسٹون نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اُسے پارٹی میں اکثریت کی حمایت حاصل ہے، لیکن جوزف سٹالن نے یہ دلیل رد کر دی اور جب لووسٹون روس سے واپس امریکہ آیا تو اُسے نہ صرف جنرل سیکرٹری کے عہدے سے فارغ کر دیا، بلکہ اُس کو پارٹی سے بھی نکال دیا۔

 لووسٹون پر دو الزامات لگائے گئے تھے۔ پارٹی قیادت کی حکم عدولی اور امریکی ایکسیپشنلزم کا پرچار۔ لووسٹون نے اس کے بعد امریکی کمیونسٹ پارٹی (اپوزیشن) بنالی اور روس میں کمیونسٹ پارٹی (اپوزیشن) سے الحاق کر لیا، لیکن اُسے اس میں کامیابی نہ ملی۔ امریکی دانشوروں میں ایکسیپشنلزم کا خیال ایک عرصے سے موجود تھا، لیکن لووسٹون بھی اس کا قائل تھا۔ اس نظرئیے کے مطابق امریکہ میں کمیونزم کے ذریعے روس کے انداز میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں تھا، کیونکہ امریکہ میں کیپٹل ازم زیادہ مضبوط اور محفوظ تھا۔ امریکہ میں جمہوریت تھی، برابری اور قانون کی بالادستی تھی، فرد کی انفرادیت کو تسلیم کیا جاتا تھا اور عوامی سوچ کو اہمیت دی جاتی تھی۔ تجارتی لین دین میں حکومت مداخلت نہیں کرتی تھی۔ لووسٹون کے مطابق امریکی سرزمین کمیونزم کے پودے کے لئے زرخیز نہیں تھی۔ اس کے لئے کمیونسٹوں کو دوسرے ممالک پر توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ آج کے نیو کونزبعض اوقات اس اصطلاح کو غلط طور پر امریکی برتری کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کی اصل حقیقت یہی ہے، جبکہ ولادی میر پیوٹن نے جوزف سٹالن کی لکیر پیٹنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس پر ایک لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔

اصل اور قابل غور بات یہ ہے کہ امریکہ، شام میں باغیوں کی اتنی مدد ضرور کر رہا ہے کہ وہ مقابلہ کرتے رہیں، لیکن میڈیا میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اس سلسلے میں اکثر حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں کہ حکومت اور سی آئی اے اسلامسٹوں، جہادیوں اور القاعدہ کی مدد کر رہی ہے۔ میڈیا کے ہی حلقے عوام کو یہ کہہ کربھی ڈراتے ہیں کہ بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد یہ تمام اسلامسٹ، جہادی اور القاعدہ امریکہ کے خلاف لڑنے لگ جائیں گے۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے اسرائیل کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ عوام میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کی پذیرائی نہ ہونے کی یہی وجہ ہے۔

امریکہ نے اس سلسلے میں ایک طرح سے تساہل سے بھی کام لیا ہے۔ شام میں انسانی جانوں کے ضیاع اور لاکھوں لوگوں کے بے گھر ہونے کو ثانوی حیثیت بھی نہیں دی گئی اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو ”سُرخ لکیر“ پار کرنے کا نام دے دیا گیا۔ اگر شام اب تک کیمیائی ہتھیار استعمال نہ کرتا تو گویا سب خیریت تھی اور اب بھی جبکہ شام اپنے کیمیائی ہتھیاروں سے دست بردار ہونے پر تیار ہوگیا ہے تو گویا شام کے حالات جُوں کے تُوں رہیں گے۔ یا بشار الاسد محروم اقتدار ہوگا تو یہ سلسلہ بند ہوگا یا اُس کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے ختم ہو جائیں گے تو شام میں مسلمانوں کے خون کی ندی رُک جائے گی۔ ایک اور حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ امریکہ کی اس سُرخ لکیر کو شام نے کس کی شہ پر پار کر لیا اور اس کا مقصد کیا تھا؟

کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد ہی امریکی میڈیا مسلسل کنفیوژن پھیلاتا رہا ہے۔ میڈیا پر یہ تکرار تسلسل سے جاری ہے کہ کیمیائی ہتھیار تو استعمال ہوئے ہیں، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکتی کہ یہ باغیوں نے استعمال کئے ہیں یا بشار الاسدنے استعمال کئے ہیں، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی تصدیق کے بعد بھی شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششیں برابر جاری ہیں۔ صدر باراک اوباما نے کیمیائی ہتھیاروں سے متاثرین کی جو ویڈیو کانگریس کو دکھا کر فوجی کارروائی کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، اسے سرکاری طور پر افشا کرنے سے گریز کیا گیا۔ سی این این نے یہ ویڈیو حاصل کرلی اور دکھائی۔ اس کے ساتھ ساتھ تبصرہ جاری رکھا کہ یہ نہایت بھیانک منظر ہیں، اس لئے ہم انہیں تمام و کمال نہیں دکھا پائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تکرار بھی جاری رہی کہ یہ تصدیق ابھی نہیں ہو پائی کہ یہ کیمیائی ہتھیار کس فریق نے استعمال کئے“؟(جاری ہے)   ٭

صدر بش کے کسی بھی فیصلے کو عوامی حمایت حاصل نہیں تھی، لیکن وہ پارلیمینٹ سے منظوری حاصل کر لیتے تھے۔ صدر بش کی ٹیم میں میک کین، لبرمین، رمز فیلڈ، ڈک چینی جیسے شاطر لوگ شامل تھے جو ڈیموکریٹس کو شیشے میں اتار کر اُن کے ووٹ حاصل کر لیتے تھے۔ صدر اوباما کی ٹیم پِٹے ہوئے مُہروں پر مشتمل ہے۔ وہ خود بھی کسی کرشمہ سازی کے حامل نہیں ہیں۔ صدر اوباما کو تو اپنا واحد انتخابی وعدہ پورا کرنے کے لئے صحت بل کو منظور کرانے کے لالے پڑ گئے تھے جو بمشکل ایک ووٹ کی برتری سے منظور کیا جا سکا۔ شام نے اگرچہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے انکار کیا ہے، لیکن بشار الاسد کے انکار میں کوئی دم نہیں تھا۔ اگر یہ حقیقت ہوتی کہ کیمیائی ہتھیار مخالفین نے استعمال کئے تھے تو حکومت کے لئے ثبوت دینا کوئی مشکل نہ ہوتا اور اس کا ذکر یوں دھیمے سُروں میں ہرگز نہ ہوتا، بلکہ آسمان سر پر اُٹھا لیا جاتا اور اقوام متحدہ کی ٹیم کو ثبوت فراہم کر دئیے جاتے، لیکن اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد شام نے کہا ہے کہ اس نے یہ ثبوت روس کو فراہم کر دئیے ہیں۔ روس تو خود اس مقدمے کا ایک فریق ہے، اسے ثبوت فراہم کرنے کا کیا مطلب ہے؟ یہ ثبوت دُنیا کے سامنے کیوں نہیں پیش کئے گئے۔ اقوام متحدہ کو کیوں نہیں فراہم کئے گئے؟

مزید : کالم