ترقی کے زینے

ترقی کے زینے
ترقی کے زینے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

                                                                         انصاری صاحب آج کاٹن فیکٹری کے مالک ہیں۔ انہوں نے اس کام کا آغاز ایک عام کھڈی سے کیا تھا اور ترقی کے زینے طے کرتے آج فیکٹری اونر ہیں.... وہ اپنی اِس کامیابی کو اپنے مرشد کی دُعا کا صلہ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھ اپنے سب سے بڑے بیٹے کو بھی کاروبار کے انتظامی معاملات چلانے کے لئے شامل کر لیا اور خود صرف نگرانی کے فرائض انجام دینے لگے۔ ایک روز انہیں بہت دھچکا لگا، جب انہیں پتہ چلا کہ اُن کی فیکٹری بجلی چوری میں ملوث ہے اور یہ غیر قانونی کام اُن کے بیٹے کی رضا مندی سے ہو رہا ہے۔ محنت، ایمانداری اور لگن سے ساری عمر کام کرنے والے انصاری صاحب کو بجلی چوری کے واقعہ نے گہرا صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے بیٹے سے اس غیر قانونی حرکت پر باز پُرس کی، تو اس نے شرمندگی سے کہا: ”بابا یہاں اکثر بڑی فیکٹریاں بجلی و گیس چوری کرتی ہیں اور ان کی مصنوعات ہمارے مقابلے میں کم قیمت ہیں، اس لئے وہی چیز مہنگے داموں کلائنٹ ہم سے خریدنے سے انکار کرنے لگے تھے، میرے پاس دو ہی راستے تھے یا تو مال سٹاک کر کے اپنے اوپر قرض کا بوجھ لاد لوں یا پھر مَیں بھی بجلی و گیس چوری شروع کر دوں۔ مَیں نے کاروبار بند کرنے کی بجائے بجلی چوری کا راستہ اختیار کیا، لیکن مَیں یہ بھی آپ کو بتاتا چلوں کہ ہر سال ہم اپنے ٹرسٹ سے جو پیسہ اللہ کے راستے میں غریبوں میں بانٹتے ہیں، وہ بجلی چوری سے زیادہ ہوتا ہے، اس طرح یہ ناجائز رقم نکل جاتی ہے“۔ انصاری صاحب بیٹے کی منطق سن کر شدید مایوس ہوئے، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ اسے چند روز اپنے مرشد کی صحبت میں بھیج دیا جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اپنے مرشد کو بھی ساری تفصیل بتا دی اور اگلے ہی روز بیٹے کو روانہ کر دیا۔

یہ ایک ماڈل ویلیج تھا۔ پہاڑی علاقے میں زیادہ تر خوبصورت گیسٹ ہاﺅسز اور پھلوں سے لدے سیب کے باغات تھے۔ گاﺅں کے ایک طرف خوبصورت جھیل بھی تھی، جو آبشار کے پانی سے ہمیشہ بھری رہتی تھی، مرشد نے نوجوان کو اپنے پاس بٹھایا اور بڑے مشفقانہ لہجے میں پوچھا: ”نوجوان تمہیں کس چیز کی تلاش ہے“؟ نوجوان نے کہا:”حضرت مجھے خوشی اور اطمینان چاہئے۔ مَیں جب بھی اپنے سے بڑی حیثیت کا آدمی دیکھتا ہوں تو مَیں چاہتا ہوں اس سے امیر ہو جاﺅں، جب اپنی فیکٹری سے کسی دوسری فیکٹری کی کامیابی سنتا ہوں، تو میرا دِل کڑھنے لگتا ہے اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ کسی کے پاس نئے ماڈل کی مہنگی گاڑی دیکھ کر ڈیپریس ہونے لگتا ہوں۔ مجھے اپنا کاروبار، حیثیت اور خاندان کم تر لگنے لگتے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ مَیں ہر جائز و ناجائز طریقہ اپنا کر آگے بڑھ جاﺅں“۔

مرشد نے نوجوان کی بات سنی تو ایک چمچ اُٹھایا، اس میں اپنے پاس رکھی تین بوتلوں سے ایک ایک قطرہ نکال کر ڈال دیا اور نوجوان کو کہا کہ یہ چمچ ہاتھ میں پکڑو، اِس پہاڑی سے اُس پہاڑی تک پورے گاﺅں کی سیر کرو اور گاﺅں میں خوبصورت عمارتیں، پھلوں سے لدے باغات، آبشار،جھیل اور چشموں سمیت تمام مناظر غور سے دیکھو اور آ کر سب کی تفصیل مجھے بتاﺅ، لیکن یا د رہے کہ چمچ سے یہ عرق کے قطرات گرنے نہیں چاہئیں، انہیں اِسی حالت میں واپس لانا ہے“۔

نوجوان نے ہاتھ میں چمچ پکڑا، سارا دن گاﺅں کا چکر لگاتا رہا، شام کو جب مرشد کی خدمت میں حاضر ہوا تو مرشد نے پوچھا کہ کیا کیا دیکھا، نوجوان نے کہا کہ مَیں کچھ بھی نہیں دیکھ پایا۔ مَیں تو چمچ میں پڑے عرق کی حفاظت کرتا رہا ہوں اور میرا دھیان اِدھر اُدھر جا ہی نہیں سکا.... مرشد نے اگلی صبح پھر اس کو چمچ میں عرق ڈال کر دیا اور کہا آج جاﺅ، دھیان چمچ پر رکھنے کے ساتھ تمام مناظر بھی لازماً دیکھو، نوجوان نکل گیا۔ شام کو واپس لوٹا، مرشد کو تمام مناظر کی خوبصورتی کی تفصیل بتانے لگا، جب اپنی بات مکمل کر چکا تو مرشد نے کہا اور چمچ والا عرق کدھر ہے۔ نوجوان نے دیکھا تو عرق نہیں تھا اس نے کہا، مَیں ان مناظر کی خوبصورتی میں اس قدر کھو گیا تھا کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ عرق کس وقت گر گیا۔

مرشد نے کہا: میرے بچے جب بھی کسی خوبصورت منظر، محل نما گھر، بڑی فیکٹری، نئے ماڈل کی مہنگی گاڑی اور اپنے سے بڑے صنعتکار کو دیکھو تو اپنے جسم سے یہ تین قطرے کبھی نہ گرنے دینا، جو مَیں نے تمہیں تین الگ الگ بوتلوں سے نکال کر چمچ میں جمع کر کے دیئے تھے۔ یہ صبر ، شکر اور عاجزی کے قطرے تھے، جو ہر انسان کے جسم میں قدرت کی طرف سے انعام ہوتا ہے۔ انسان جوں جوں صبر، شکر اور عاجزی اختیار کرتا ہے، اس کے جسم میں یہ قطرے بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ نبیوں، ولیوں،درویشوں اور سخیوں میں یہ قطرے اس قدر زیادہ ہوتے ہیں کہ چشموں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں، جو لوگ یہ قطرے گرا دیتے ہیں، ان کا جسم زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ ان میں ناشکری، حسد اور بے صبری کا زہر پلنے لگتا ہے، جو ان کو بڑی سے بڑی نعمت سے بھی لطف اندوز نہیں ہونے دیتا اور ہر نعمت کو کم تر دکھاتا ہے۔

جب تم کسی کو اپنی حیثیت سے بڑا دیکھتے ہو تو فوراً شکر الحمد للہ کہا کرو کہ اللہ پاک نے تمہیں کوئی فقیر یا بھکاری نہیں بنایا۔ کسی کے پاس نئے ماڈل کی مہنگی گاڑی دیکھو تو حسد کرنے کی بجائے ماشاءاللہ بولا کرو، کوئی کم تعلیم و کم ذہن ہونے کے باوجود اگر تم سے اونچے عہدے پر ہے تو اس کے رتبے پر کڑھنے کی بجائے اس کے نصیب پر سبحان اللہ کہا کرو اور اس کی ذات میں کیڑے نکالنے کی بجائے دیکھو کہ اس کی ذات میں کون سی ایسی خوبی ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر اسے اونچا رتبہ عطا کیا ہوا ہے۔ اپنے سے بڑے صنعتکار کو دیکھ کر دل جلانے کی بجائے محنت، ایمانداری اور لگن سے اس کے مقام تک پہنچنے کی منصوبہ بندی کرو۔

مجھے اپنے کالج کے زمانے کا ایک مجذوب نہیں بھولتا۔ دسمبر کا سرد دن تھا، شدید دھند پڑی ہوئی تھی، ہم تین کلاس فیلو چائے پینے کالج کے سامنے ایک ہوٹل میں چلے گئے۔ ہوٹل کے باہر حسب معمول وہ مجذوب ٹاٹ کے مختصر لباس میں بیٹھا تھا۔ میرے ایک دوست نے کہا:” دیکھو یار یہ فقیر کتنا خوش نصیب ہے، اس کو سخت سردی اور سخت گرمی کا بالکل احساس نہیں ہوتا، ہمیشہ اس مختصر لباس میں ہی اِدھر بیٹھا ہوتا ہے۔ مجذوب نے سن کر ایک لمبی آہ بھری اور کہا:” اللہ کا شکر کیا کرو، جس نے تمہارے احساسات زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ مَیں تو محسوسات کی نعمت سے محروم ہو چکا ہوں۔ اب گرمیوںکے موسم میں چھاﺅں میں بیٹھ کر یا پنکھے کے نیچے لیٹ کر شکر الحمد للہ بھی نہیں کہہ سکتا۔ سردیوں میں گرم کپڑے پہن کر اور آگ تاپ کر اللہ کا شکر ادا کرنے سے محروم ہوں۔

 میری یہ حالت اس وجہ سے ہے کہ میں ناشکرا تھا، اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی بجائے ناشکری کرتا تھا۔ مَیں الحمد للہ اور ماشاءاللہ ایسے عظیم لفظوں کو اپنی زبان پر لانے کی بجائے ہر وقت ناشکری، بے صبری اور حسد کے زہر کو اپنے جس میں بڑھاتا رہا ، آج میرا وجود زہر سے بھرا ہے۔ صبر، شکر اور عاجزی انسان کے پاس ایسی طاقت ہیں کہ دُنیا کی ہر نعمت خود انسان کی طرف چل کر آنے لگتی ہے۔ شکر الحمد للہ اور سبحان اللہ صرف الفاظ نہیں ہیں۔ یہ اللہ پاک کے خزانوں کی کنجیاں ہیں، انہیں کبھی گم نہ ہونے دیں۔ اپنے وجود کے ایک ایک حصے پر غور کیجئے۔ عزت، اولاد اور صحت جیسی نعمتوں کے عطیہ ¿ خداوندی پر کیسی عظیم دولت اللہ پاک نے عطا کر رکھی ہے، کیا انسان کو زیب دیتا ہے کہ وہ ناشکری، بے صبری یا حسد کرے۔ صبر، شکر اور عاجزی کے قطروں کو اپنے جسم سے کبھی نہ گرنے دیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ان تین قطروں کو چشموں میں بدلتے ہیں یا انہیں جلا کر ناشکری، بے صبری اور حسد کا زہر پھیلنے دیتے ہیں۔

مزید : کالم