نوجوانوں کے لئے روزگار کی حکومتی سکیمیں

نوجوانوں کے لئے روزگار کی حکومتی سکیمیں

                                                                    وزیر اعظم میاں نواز شریف نے نوجوانوں کے لئے روز گار کی چھ سکیموں کا اعلان کیا ہے۔ جس کے لئے مالی سال میں بیس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ایک لاکھ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مفت لیپ ٹاپ کمپیوٹرز تقسیم کئے جائیں گے۔نوجوانوں کو کاروبار کے لئے پانچ لاکھ سے بیس لاکھ تک کے رعائتی قرضے دئیے جائیں گے۔ جن میںسے پچاس فیصد خواتین کو دئیے جائیں گے۔شرح سود آٹھ فیصد ہوگی جبکہ باقی سود حکومت ادا کرے گی۔ اڑھائی لاکھ نوجوانوں کو سود کے بغیر چھوٹے کاروبار کے لئے قرضے دیئے جائیں گے۔پچاس ہزار گریجوایٹس کو عملی تربیت دی جائے گی۔ جنہیں دس ہزارروپے ماہانہ وظیفہ ملے گا۔ پچیس سال تک کے لڑکے لڑکیوں کو ہنر سکھایا جائے گا۔پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو تعلیم دلانے کے لئے حکومت ان کی فیسیں ادا کرے گی۔وزیر اعظم نے یہ اعلان ہفتہ کے روز اپنی نشری تقریرمیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں کی تکمیل کا سفر شروع ہو گیا ہے۔

 ملکی مالی مسائل کے باوجودنوجوانوں کو خود کفیل بنانے اور اپنا روزگار کمانے کے قابل بنانے کے لئے قرضے اور تربیت کی یہ چھ سکیمیں لائق تحسین ہیں۔ ان کے سلسلے میں میرٹ پر مستحق نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کا موثر طریق کاراپنا یا گیا تو یہ سکیمیں قوم کے نوجوانوں میں امید اور اعتماد پیدا کرنے او ر نوجوانوں کی صلاحیت بروئے کارلانے سے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کا باعث ہوں گی۔ ان حالات میں جبکہ قرض دینے والے عالمی مالیاتی ادارے بھی ہم پر ہر طرح کی سبسڈی اور بے جا مراعات ختم اور حکومتوں کے اخراجات کم کرنے پر زور دے رہے ہیں، ان سکیموں کا اجراءایک غیر معمولی اقدام ہے۔ اب اسے صرف اسی لئے آگے نہیں بڑھایا جانا چاہئیے کہ مسلم لیگ کی حکومت نے انتخابی مہم کے دوران نوجوانوں کی تائید وحمایت حاصل کرنے کے لئے یہ وعدہ کیا تھا ،بلکہ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہئیے کہ نوجوان قوم کا قیمتی سرمایہ ہیںاور سب سے زیادہ با صلاحیت طبقہ ہیں، انہیں کسی بھی طور پر بے کار نہیں رہنا چاہئے۔ قوم کے نوجوانوں کو کسی بھی صورت مایوس نہیں کیا جانا چاہئیے۔ تعلیم حاصل کرلینے کے بعد بھی جب کم وسائل والے نوجوان سال ہا سال تک ملازمت کی تلاش میں سرگرداں رہنے کے بعد بھی مناسب روزگار حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کی یہ مایوسی ان کے خاندانوں تک پھیل کر پوری قوم کی مایوسی بن جاتی ہے ۔ یہی نہیں کہ یہ صورت حال نوجوانوں کو جرائم اور منفی رجحانات کی طرف مائل کرتی ہے بلکہ قوم اپنے نوجوانوں کی توانائیوں کو کام میں لانے میں ناکامی کی وجہ سے اپنی معیشت کو متحرک کرنے اور قوم کا مستقبل روشن بنانے کی امنگوں کو بھی پورا نہیں کرپاتی۔ ہمارے نظام تعلیم میں بھی تقریبا ہر سطح پر یہ خرابی موجود ہے کہ زندگی کے سولہ سولہ اور اٹھارہ اٹھارہ سال بھی حصول تعلیم میں صرف کرنے کے بعد نوجوانوں کو روز گار نہیں ملتا۔ بہت بڑی تعداد میں تو نوجوان صرف کلرک بنائے جانے سے زیادہ کسی کام کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ہر جگہ ان سے تجربہ کے متعلق پوچھا جاتا ہے ، جبکہ انہیں تعلیمی اداروں اور ڈگری سے کسی طرح کے عملی کام کا تجربہ حاصل نہیں ہوتا۔ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کی بھاری اکثریت ملازمت ڈھونڈ نے میں مصروف ہوجاتی ہے۔ اعلی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی کسی میں یہ اعتماد نہیں ہوتا کہ ملازمت کے بجائے خود اپنے روزگار کے لئے راہیں تراشے اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی روزگار مہیا کرے۔ کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے یا مختلف میدانوں میں بہتر سروسزفراہم کرنے کے ہزاروں مواقع ملک میں موجود ہیں لیکن نوجوان تخلیقی صلاحیتوں کی کمی ، کم حوصلگی اور ملازمت کو اپنے خوابوں میں سجائے رکھنے کی بناءپر ان مواقع کے متعلق نہیں سوچتے، بعض صورتوں میں پڑھ لکھ جانے کے بعد وہ ایسے بے شمار پیدا آور کام کرنے میں اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے کم پڑھے لکھے افراد بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ کالج اور یونیورسٹیاں بے روزگاروں کی تعداد میں جوق در جوق اضافہ کرنے کے سوا کچھ نہیںکرتے۔

نوجوانوں کی تربیت کے لئے فنی تعلیم اور مختلف ہنر سکھانے والے زیادہ سے زیادہ ادارے قائم کئے جانے چاہئیں ،جہاں جدید طریقے سے نوجوان کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ہنر سیکھ سکیں۔ ہر تحصیل اور ہر قصبے میں ایسے بہت سے ادارے موجود ہونے چاہئیں جن سے پلمبر، الیکٹریشن، کمپیوٹر، موٹر مکینک، میسن ، ریفریجریشن ،وغیرہ کے کاموں کے ڈپلومے دئیے جائیں۔ ان اداروں میں ہنر سیکھنے میں اچھی صلاحیت کا مظاہر ہ کرنے والے نوجوانوں کے لئے کافی وظائف کا بھی انتطام کیا جائے۔ بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر سکھانے والے ایسے اداروں کی موجودہ تعداد میں کئی گنا اضافہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کہ کوئی بھی جوان یا بوڑھا جس وقت بھی چاہے کسی بھی طرح کے فن کی تربیت اپنے ہی علاقے میں حاصل کرنے میں اسے کچھ بھی دقت نہ ہو۔ اس سے جہاںقوم کو ملک میں ہر جگہ ہنر مند افراد میسر آسکیں گے ۔ وہاں ملک سے باہر بھی ان تربیت یافتہ افراد کو ملازمتیں مل سکیں گی ، ہنر مند افراد کی کی تعداد میں اضافے سے ہماری قوم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوسکے گی۔

پڑھے لکھے نوجوانوں کو انٹرن شپ (مختلف اداروں میں تربیت دلانے )کے لئے بھیجنے کے سلسلے میں اس بات کی کڑی نگرانی کرنے کی ضرورت ہوگی کہ تربیت حاصل کرنے کے لئے دس ہزار ماہانہ وظیفہ اور تربیت کا موقع اس نوجوان ہی کو فراہم کیا جائے جسے ابھی تک ملازمت یا روزگار کا کوئی دوسرا ذریعہ میسر نہ آیا ہو۔ ماضی میں ایسے وظائف سے استفادہ کرنے والوں نے اداروں میں تربیت حاصل کرنے کا معاملہ عام طور پر نظر انداز ہی کئے رکھا ہے اور اکثر صورتوں میں وظیفے کی یہ رقم گھر بیٹھے ہی کھاتے رہے ۔ مختلف اداروں سے تربیت حاصل کرنے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلینا بھی ایسے نکمے نوجوانوں کے لئے کوئی مشکل بات نہیں۔ اگر اسی رقم سے حکومت مختلف علاقوں میں مفت فنی تربیت مہیا کرنے والے ادارے قائم کرتی تو زیادہ بہتر نتائج حاصل ہونے کی امید کی جاسکتی تھی۔ تاہم ان تمام سکیموں کے آغاز سے اختتام تک مانیڑنگ کے سخت نظام کی ضرورت ہوگی ، جس کے ذریعے فنڈز کے صحیح مصرف، میرٹ پر نوجوانوں کے انتخاب، اور معینہ مقاصد کی تکمیل پر نظر رکھی جائے۔ اس طرح قوم کے نوجوانوں کو اعتماد بخش کر قوم وملک کے مفاد میں ان کی صلاحیتوں کو درست سمت میں ڈالنے کے مقاصد حاصل ہوسکیں گے۔ ان سکیموں کے ساتھ ہی ساتھ حکومت کو عام کالجوں اور سکولوں کے ہرسطح کے نصاب میں بھی مختلف ہنر وں اور پیشوں کی عملی تربیت کو شامل کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے متعلق بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ کرنے والے ادارے ہونے کے عمومی تاثر کو زائل کیا جاسکے۔ ان اداروں سے ہر سال فارغ ہونے والے لاکھوں نوجوان ہاتھوں میں عرضیاں لے کر ملازمتوں کے لئے مارے مارے نہ پھریں۔ ڈگری کو صرف ملازمت کے حصول ہی کا ذریعہ نہ جانا جائے ، بلکہ ڈگری نوجوانوں کو ایسا اعتماد اور حوصلہ بخشے کہ وہ اس کے حصول کے ساتھ ہی روزگار کے لئے خود اپنے ادارے قائم کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے نظر آئیں۔ ایک پڑھے لکھے نوجوان سے باشعور ، حوصلہ مند اور باکمال انسان ہونے کا تصور وابستہ ہونا چاہیئے۔ ڈگری کے بعد کسی بھی کام کا ج کا نہ رہ جانے والا انسان اسے اب نہیں رہنا چاہئیے۔ حکومت کے آئی ٹی اور دوسرے میدانوں میں اس سے پہلے شروع کئے گئے بہت سے دوسرے منصوبوں کی طرح ان تمام سکیموں کو بھی پاکستانی نوجوانوں میں اعتماد اور حوصلہ پیدا کرکے انہیں مائل بہ پرواز کرنے کا جذبہ بخشنا چاہیئے۔ ورنہ فرضی اور جعلی شناختی کارڈوں پر قرضے لے کر غائب ہوجانے کی اس ملک میں کمی نہیں ہے، ایسے سیاستدان، بیوروکریٹ اور بااثر لوگ بھی کم نہیں جن سے ہر کوئی درجنوں جعلی افراد کے نام سے فوائد سمیٹ کر بھی معزز و محترم کہلا سکتا ہے۔

ماضی میں بھی سینکڑوں منصوبوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے کہ حکومتوں کی طرف سے انتہائی اہم قومی مقاصد اور عوامی فلاح وبہبود کے کاموں سے مستفید ہونے والے نصف سے زائد لوگ جعلی ہی پائے گئے ہیں۔ ”آج تک ہر کوئی حکومت ہی کو کھا کھا کر موٹا ہوا ہے “ کی حقیقت کا ورد کرنے والے مافیا کے ایسے لاکھوں افراد ملک میں موجود ہیں جن کا کام ہی حکومت کی ہر اچھی اور عوام دوست پالیسی کی آڑ میں اپنی جھولیاں بھرنے کے لئے ہر سیکم میں گند مچا دینا ہے۔ اگر حکومت کسی طرح ایسے لوگوں کو ان سکیموں سے دور نہیں رکھ سکتی تو پھر اس کا ایسی سکیمیں نہ شروع کرکے قومی خزانے کو مزید بوجھ سے بچا لینا ہی بہتر ہے۔ یہ کہنے کا مقصد وزیر اعظم کی طرف سے قوم کے مقدر کاستارہ بننے والے نوجوانوں کی بھلائی کے کاموں سے باز رکھنا ہرگز نہیں بلکہ ان سکیموں کو کامیاب کرنے کے لئے تمام ضروری تدابیر کرنے کی اہمیت پر زور دینا ہے۔ وسیع تجربہ اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کی بدولت موجودہ حکومت سے توقع کی جاسکتی ہے کہ اس کے انتظامات کی بنا پر کسی کے لئے اس کی ان سکیموں کو ناکام بنا نا ایسا آسان کام نہیں ہوگا۔ موجودہ حالات نوجوانوں کے حوصلے بلند رکھنے کے لئے سب کچھ کرنے کی ضرورت واضح کررہے ہیں، مثبت سمت میں جو کچھ کیا جارہا ہے اسے ہر حال میں اپنے مقاصد کے حصول میں کامیابی سے ہمکنار ہونا چاہئیے۔  ٭

مزید : اداریہ