امن کی آشا اور بھارتی جنگی جنونی عناصر

امن کی آشا اور بھارتی جنگی جنونی عناصر

                                                        سال رواں کے آغاز ہی سے پاک بھارت تعلقات کشیدگی کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ کشمیر میں کنٹرول لائن پر فوجیوں کے تصادم نے پھر ” امن کی آشا “ کو کوما (Coma)کی حالت میں دھکیل دیا ہے یہ حقیقت ہے کہ بھارت میںکئی عناصر موجود ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ امن ہو اور بھارتی فوج میں بھی کئی ایسے عناصر ہیںجوامن و آشتی کی تمام کوششوں کو سبوتاژ (Sabotage)کرنا چاہتے ہیں ،جس پر من موہن سنگھ کی حکومت کا کوئی اختیار نہ ہے اور اس کی بے بسی عیاں ہے۔ اس سنگین صورتحال میں ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو مستحکم او رپائیدارہوں اور اس تناظر میں کنٹرول لائن کے حالات کو مانیٹر (Monitor)کرنے کے لئے ایک غیر جانبدار کمیشن یا اتھارٹی کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے جو اس طرح کے پر تشدد واقعات کے ذمہ داران کا تعین کرسکے۔ تب ہی جا کر دیرپا اور پائیدار امن کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ اس طرح کا کمیشن اگر متفقہ طور پر دونوں ممالک قائم کرنے پر تیار ہوجائیں تو سمجھیں کہ آدھی کامیابی مل گئی ۔ مگر تاریخی تناظر میں مسئلہ کشمیر کو دیکھا جائے تو بھارت اس قسم کے اقدامات کےلئے کبھی تیار نہ ہو گا۔ انتہائی دکھ سے ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ کشمیر کی جنت نظیر وادی کہ جس کا روپ سروپ روئے نگار کی طرح رعنائی اور دلکشی کا مجموعہ ہے ،وہاں آہیں اور سسکیاں اپنا دامن پھیلائے کھڑی ہیں اور ایک کروڑ کے قریب آبادی والا یہ حسین خطہ خون میں نہایا ہوا نظر آتا ہے۔ خود بھارت کے سابق کانگریسی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کشمیریوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ان کو حق خود ارادیت دیا جائے اور ان کی رائے شماری (Plebiscite)کے ذریعہ یہ مسئلہ حل کیا جائے گا ۔

اس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں شاہد ناطق ہیں۔پھر ٹروس ایگریمنٹ (Truce Agreement)ہوا ،جس میں مندرجہ ذیل الفاظ تھے Government of India agrees to begin to withdraw the bulk of their forcesیعنی بھارت اس بات پر رضامند ہے کہ وہ اپنی کثیر التعداد افواج (Bulk of their forces) کو ( کشمیر سے ) نکال دے گا۔ مگر بھارت Bulkکے لفظ کو چیستاں بنا کر معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں پس و پیش سے کام لیتا رہا اور اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس عہد سے بھی منحرف ہو گیا۔ پھر 1948ءوالی اقوام متحدہ کی قرار داد میں یہ بھی تھا کہ کشمیری اپنی رائے اور ووٹ ڈالنے میں مکمل آزاد اور محفوظ ہوں گے اور کسی قسم کا بیرونی دباﺅ ان پر نہیں ہو گا ،مگر جس طریقہ سے بھارتی فوج کی موجودگی میںمقبوضہ جموں و کشمیر میں جو نام نہاد الیکشن کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے وہ خود کشمیریوں کے لئے بھی ناقابل قبول ہے ۔ چونکہ بھارت کے دل میں میل ہے وہ یہ کہتا چلا آیا ہے کہ حکومت ہند چونکہ ریاست کشمیر کو بھارت کا آئینی طور پر اٹوٹ انگ قرار دے چکی ہے اس لئے اب کوئی تنازعہ ہی نہیں رہا اور اب یہ بھارت کا داخلی مسئلہ بن چکا ہے ، جس پر بیرونی طور پر خواہ اقوام متحدہ ہی کیوں نہ ہو کسی کو کچھ کہنے یا دخل اندازی کا کوئی حق نہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب کشمیری بھارت کے نام نہاد آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتے توپھر کس طرح یہ اس کا داخلی مسئلہ بن گیا؟ پھر تقسیم ہند اور آزادی کے ایجنڈے کی رو سے تو کشمیر کو ملحق مسلمان اکثریتی ریاست کے طور پر تو پاکستان میں شامل ہونا چاہئے۔ متعدد بار پاکستان کی طرف سے کہا گیا کہ ایک فریق یکطرفہ طور پر کس طرح ایک بین الاقوامی مسئلہ کا فیصلہ کر سکتا ہے ۔ا س پر عالمی عدالت کی رائے طلب کی جا سکتی ہے مگر ڈھاک کے تین پات کے مصداق بھارت وہی بے پر کی اڑاتا چلا جا رہا ہے اور اٹوٹ انگ کے بے محابا راگ الاپتا چلا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ اپنی طاقت کے بل بوتے پر کر رہا ہے ۔

 بھارت کے چالیس کروڑ سے زائد لوگ خط افلاس کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ خود ساختہ ہیجانی کیفیات اور بے جا جذباتی تنک مزاجی کو یکسر ترک کر دیا جائے اور اس کو پاکستان کے ساتھ دشمنی اور عداوت کے لئے استعمال نہ کیا جائے کہ نقصان تو بہرحال دونوں اطراف کے غریب عوام کا ہو گا کہ جس کا مداوا پھر ناممکن ہو گا کہ اس دفعہ اگر جنگ ہوئی تو اپنی شدت اور ہولناکی میںاتنی شدید ہو گی کہ سابقہ ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔ اس لئے بھارت کی حکومت کا فرض ہے کہ جنگی جنو نی (Truculent)عناصر کا اپنی فوج سے صفایا کرے ،تاکہ مستقبل میں دونوں اطراف کی عوام امن اور شانتی کی فضا میں سکھ کا سانس لے سکے۔   ٭

مزید : کالم