11 نوازشریف حکومت کے پہلے 100دن!

11 نوازشریف حکومت کے پہلے 100دن!
11 نوازشریف حکومت کے پہلے 100دن!

  

                                                                    مئی 2013ءکے عام انتخابات میں میاں محمد نواز شریف کی پارٹی کو صوبہ پنجاب اور مرکز میں واضح اکثریت مل گئی، ان انتخاباتمیں عام ووٹروں کا خیال تھا کہ مسلم لیگ( ن) اگر اکثریت میں آ گئی تو پاکستان کے بہت سے اہم مسائل ،جن میں لوڈشیڈنگ ،دہشت گردی، بے روزگاری، مہنگائی، امن و امان سرفہرست ہیں ،میاں صاحب کی حکومت جلد ان مسائل پر قابو پالے گی، کیونکہ مسلم لیگ( ن )کے تمام بڑے لیڈر جلسوں میں اکثر اعلان کرتے تھے کہ آصف علی زرداری حکومت جان بوجھ کر مسائل حل نہیں کر رہی۔ ہم آتے ہی چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کر دیں گے، کشکول توڑ دیں گے ،مہنگائی کا جن ہمیشہ کے لئے بوتل میں بند کر دیں گے، ڈرون حملے بند کرا دیں گے۔ کراچی اور بلوچستان میں امن لائیں گے، دہشت گردی کا قلع قمع کر دیں گے ،عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس خزانے میں لے آئیں گے، سوئس بنکوں میں پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت عوام کے قدموں پر نچھاور کردیں گے ۔ مسلم لیگ ن کے تمام لیڈر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسی لچھے دار تقریریں کرتے تھے۔ ان سب سے بڑھ کر میاں محمد شہباز شریف تو باقاعدہ سریلی آواز میں حبیب جالب کی شاعری لوگوں کو سنا سنا کر گر ماتے تھے۔ ویسے میاں شہباز شریف کا پنجاب میں کام بھی دوسرے صوبوں سے قدرے بہتر تھا تو لوگوں نے مسلم لیگ ن کو مکمل مینڈیٹ دے دیا اور ”جمہوریت سب سے بہتر انتقام ہے“ والوں کا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بالکل صفایا کر دیا....میاں محمد شہباز شریف تو جلسہ کرتے ہوئے آصف علی زرداری کو بُرا بھلا کہتے کہتے مائیک تک توڑ دیتے تھے۔

میاں محمد نواز شریف نے تیسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد مفاہمتی پالیسی پر تو عمل شروع کر دیا ہے۔ بجلی کے مسئلے ،دہشت گردی، کراچی میں امن کے لئے سنجیدگی سے کوششیں تو شروع کر دی ہیں، لیکن امن و امان اور مہنگائی بے روزگاری میں ابھی تک کوئی کمی آنے کی بجائے حالات مزید ابتر ہوئے ہیں ،کیونکہ وزیر خزانہ نے اپنی وزارت سنبھالتے ہی سیلز ٹیکس میں اضافہ کر دیا، جس سے مہنگائی بڑھنا شروع ہو گئی۔ ایک اندازے کے مطابق روزمرہ اشیائے خورد و نوش اور کنسٹرکشن انڈسٹری میں مہنگائی 25فیصدبڑھ گئی ۔موبائل فون پربھی ٹیکس بڑھا دیاگیا۔

میاں صاحب کی حکومت کے تین مہینوں میں بجلی کی قیمتیں 2/3بار بڑھ چکی ہیں۔ گیس ہر پندرہ دن بعد مہنگی ہو رہی ہے۔ پٹرول، ڈیزل گزشتہ 3ماہ میں چار بار بڑھ چکا ہے۔ جب گیس ڈیزل، پٹرول مہنگا ہو گا تو لامحالہ ہر چیز مہنگی ہو گی۔ ڈالر جوپرویز مشرف کے دور میں 60/70روپے کا تھا آصف علی زرداری کی مفاہمتی حکومت میں 95/96روپے کا ہو گیا۔ اب میاں صاحب کی حکومت میں 107روپے سے تجاوز کر گیا، اگر ڈالر مہنگا ہو گا تو ہر چیز مہنگی ہو گی۔ سنا ہے کہ یہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بعد ہوا ہے.... جون 2014ءتک یہی ڈالر 115/120 روپے کا ہو جائے گا تو اس وقت مہنگائی کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔ آٹا پرویز مشرف دور میں 15/16روپیہ کلو تھا،آصف علی زرداری کی حکومت میں 30/32 تک جا پہنچا اور موجودہ عوامی حکومت کے تین ماہ میں یہ 45/50روپے تک جا پہنچا ہے۔ موجودہ حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے کشکول توڑنے کے بہت دعوے کرتی تھی، لیکن حکومت میں آتے ہی سب سے پہلے 6.6ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کیا۔ لاءاینڈ آرڈرکی صورت حال بہت خراب ہو رہی ہے۔

کراچی اور بلوچستان میں امن و امان بھی اس حکومت کے پہلے تین مہینوں میں بہتر نہیں ہوا۔ اب جب سے کراچی میں 4ستمبر سے آپریشن شروع ہے، دیکھو اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟جہاں تک ملک میں کرپشن کا تعلق ہے تو یہاں ساری حکومتیں ہی کرپٹ رہی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پی پی پی دور میں واویلا زیادہ ہوتا ہے ، حکومت کی رٹ بہت کمزور ہے، حکومت بنے ہوئے 100دن ہو گئے ہیں، لیکن ابھی تک بلوچستان حکومت کی کابینہ مکمل نہیں ہو سکی۔

 مرکز میں پانچ اہم وزارتوں (دفاع ، خارجہ امور، قانون، تجارت، کمیونیکیشن) میں وزیر مقرر نہیں ہو سکے۔اہم ملکوں کے سفیر تعینات نہیں ہو سکے، امریکہ کی ایمبیسی بھی سفیر کے بغیر ہے۔ ملک کے اہم ادارے پی آئی اے، سٹیل مل وغیرہ جن میں حکومت خسارہ برداشت کرتی ہے،یہ خسارہ صرف کرپشن کی وجہ سے ہے۔ بلدیاتی الیکشن کی طرف کوئی دھیان نہیں، بلکہ اعلیٰ عدلیہ کے بار بار حکم دینے کے بعد شاید تھوڑی بہت پیش رفت ہو رہی ہے۔ زمینی حقائق تو او رہی ہیں، لیکن خدا کرے کہ حکومت مزید سنجیدگی دکھائے، حالات بہتر ہوں اور حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ عوام سے کئے وعدے پورے کر سکے۔     ٭

مزید : کالم