شام: یہ کس کا فر ادا کا غمزئہ خوں ریز ہے ساقی؟ (2)

شام: یہ کس کا فر ادا کا غمزئہ خوں ریز ہے ساقی؟ (2)
شام: یہ کس کا فر ادا کا غمزئہ خوں ریز ہے ساقی؟ (2)

  

                                صدر بش کے کسی بھی فیصلے کو عوامی حمایت حاصل نہیں تھی، لیکن وہ پارلیمینٹ سے منظوری حاصل کر لیتے تھے۔ صدر بش کی ٹیم میں میک کین، لبرمین، رمز فیلڈ، ڈک چینی جیسے شاطر لوگ شامل تھے جو ڈیموکریٹس کو شیشے میں اتار کر اُن کے ووٹ حاصل کر لیتے تھے۔ صدر اوباما کی ٹیم پِٹے ہوئے مُہروں پر مشتمل ہے۔ وہ خود بھی کسی کرشمہ سازی کے حامل نہیں ہیں۔ صدر اوباما کو تو اپنا واحد انتخابی وعدہ پورا کرنے کے لئے صحت بل کو منظور کرانے کے لالے پڑ گئے تھے جو بمشکل ایک ووٹ کی برتری سے منظور کیا جا سکا۔ شام نے اگرچہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے انکار کیا ہے، لیکن بشار الاسد کے انکار میں کوئی دم نہیں تھا۔ اگر یہ حقیقت ہوتی کہ کیمیائی ہتھیار مخالفین نے استعمال کئے تھے تو حکومت کے لئے ثبوت دینا کوئی مشکل نہ ہوتا اور اس کا ذکر یوں دھیمے سُروں میں ہرگز نہ ہوتا، بلکہ آسمان سر پر اُٹھا لیا جاتا اور اقوام متحدہ کی ٹیم کو ثبوت فراہم کر دئیے جاتے، لیکن اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد شام نے کہا ہے کہ اس نے یہ ثبوت روس کو فراہم کر دئیے ہیں۔ روس تو خود اس مقدمے کا ایک فریق ہے، اسے ثبوت فراہم کرنے کا کیا مطلب ہے؟ یہ ثبوت دُنیا کے سامنے کیوں نہیں پیش کئے گئے، اقوام متحدہ کو کیوں نہیں فراہم کئے گئے؟

 سی این این کی ایک خاتون صحافی کرسچین امان پور، ایرانی مسلمان اور برطانوی عیسائی ماں کی بیٹی ہے۔ اس کی سسرال معروف یہودی خاندان ہے، جس کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے۔ کرسچین امان پور نے شام کے ایک قصبے بیضا کی ایک ڈاکو مینٹری تیار کی، جسے سی این این پر پیش کیا اور سرکاری حکام سے سوال کیا کہ وہ ان جنگی جرائم کو روکنے کے لئے کچھ کرنے کو تیار نہیں؟.... یہ ڈاکو مینٹری بہت خوف ناک ہے اور کرسچین امان پور کا لہجہ بھی بہت تیز تھا۔ کرسچین امان پور کے ساتھ سی این این میں کام کرنے والے ایک صحافی گلین بیک نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ گلین بیک سی این این کو کب سے چھوڑ چکا ہے۔ اس نے اپنا مذہب تبدیل کر کے مورمن عیسائی مذہب اختیار کر لیا ہے۔ وہ اب ری پبلیکن کے انتہا پسند دھڑے ”ٹی پارٹی“ کا زبردست حامی ہے۔ گلین بیک آپے سے باہر ہوگیا۔ اُس نے کہا کہ یہ عورت تو دہشت گردوں کی ساتھی ہے، اس کے القاعدہ کے ساتھ روابط ہیں، یہ ہمیشہ مسلمانوں اور اسلامسٹوں کی حامی رہی ہے اور اس نے سی این این میں میری زندگی حرام کر رکھی تھی.... اور تو خیر ، جو کچھ بھی ہے، گلین بیک کو زندگی حرام کرنے والی بات بہت دیر میں یاد آئی۔

 اب ایک اور دل چسپ ترین صورت حال ملاحظہ فرمائیے۔ ”ہٹنگٹن پوسٹ“ نے 14 ستمبر کو Christina Willie کی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کی لابی کرنے والا ادارہ ایپک(AIPAC) (امریکن اسرائیل پبلک افیئر کمپنی) اس کی طاقت کا اندازہ لگائیے کہ امریکی بطور صدارتی امیدوار نامزدگی حاصل کرنے کے لئے بھی اس کے در دولت پر حاضری دیتے ہیں اور صدارتی امیدوار نامزد ہو کر بھی خواہ ڈیموکریٹس ہوں، خواہ ری پبلیکن اس سے آشیر باد لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ جب پیوٹن نے ابھی شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو عالمی حفاظت میں دینے کا اعلان نہیں کیا تھا اور خیال تھا کہ صدر اوباما کو ایک بار پھر کانگریس سے رجوع کرنا پڑے گا، تو ایپک نے حملے کے حق میں ووٹ حاصل کرنے کے لئے اپنی مہم شروع کر رکھی تھی۔ اس کے دو سو خصوصی ماہرین کانگریس کے ارکان کو آمادہ کرنے کے مشن پر لگے ہوئے تھے۔ ایپک کے حکام نے ” اسرائیل ٹائمز“ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے فر ستادہ مختلف عوامی نمائندوں سے تین سو کے قریب ملاقاتیں کر چکے تھے، لیکن ایپک کو اس سلسلے میں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور یہ تنقید کسی اور نے نہیں، اسرائیل نے کی۔

اسرائیل کے معروف اخبارHARRETZ (حارث) نے گزشتہ پیر کے شمارے میں لکھا کہ: ”ایپک کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ اسرائیل کی پالیسی کی وضاحت کرے اور یہ کہ اسرائیل اور اسرائیلی فیصلہ سازوں کو امریکی فوجی کارروائی سے کوئی غرض نہیںہے“۔ ایک اور اسرائیلی اخبار MARRIV (معارف) کے سینئر کالم نگار شلوم یروشلامی نے لکھا: ایپک اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایپک کو اس معاملے سے دور رہنا چاہئے“۔ یروشلم پوسٹ نے لکھا: ” امریکہ میں قائم اسرائیل کے لئے لابی کرنے اور اسرائیل سے قریبی تعلق رکھنے والی تنظیم ایپک کے طرز عمل سے یہ اندازہ نہیں لگانا چاہئے کہ شام کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اچھی ہوگی یا بُری ہوگی۔ ایپک کے ذمہ داروں کو اپنی خجالت مٹانے کے لئے کہنا پڑا کہ وہ تو امریکہ کی خیر خواہی میں کام کر رہے تھے، حالانکہ اس سے ایک ہی روز پہلے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے فوجی کارروائی کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے شام کے خلاف فوجی کارروائی نہ کی تو اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے دوسرے حلیفوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

3 ستمبر کو جان کیری نے سینٹ میں اس سلسلے میں ہونے والی بحث کے دوران سینیٹر اینڈ پالی (کنکٹی کٹ سے ری پبلیکن سینٹر اور ری پبلیکن کی طرف سے صدارتی نامزدگی کے لئے مقابلہ کرنے والے لبرل امیدوار کانگریس مین ران پال کے بیٹے) سے کہا تھا کہ مَیں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر امریکہ نے یہ ایکشن نہ لیا تو اسرائیل بہت غیر محفوظ ہو جائے گا“۔ اسرائیل کے ایک اور حامی امریکی گروپ جے سٹریٹ(J.street) کا کہنا ہے کہ کانگریس کے ووٹ کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ بشار الاسد سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اسرائیل اور اسرائیلی افواج شام کے کسی کیمیائی حملے کا موثر دفاع کر سکتی ہیں۔ گروپ کے نائب صدر ایلین ایلسزنے اس سلسلے میں ماضی کا حوالہ دیا، جب اسرائیل شام سے اکیلا نمٹ رہا تھا۔ بالخصوص جب اسرائیل نے شام کی ممکنہ (یا مفروضہ) ایٹمی تنصیبات پر بم باری کی تھی تو اس وقت بھی اسرائیل نے شام کی طرف سے کسی ردعمل کے خطرے کا تنہا مقابلہ کیا تھا۔

روسی اخبار ”پراودانے“ امریکی ری پبلیکن کانگریس مین جان میک کین کو صدر پیوٹن کا جواب لکھنے کی دعوت دی جو 19 ستمبر کے شمارے میں چھپا ہے۔ جان میک کین کا تعارف کراتے ہوئے اخبار نے لکھا کہ روس مخالف امریکی کانگریس مین، جس پر میک کین نے لکھا ہے کہ مَیں روس اور روسی عوام کا مخالف نہیں ہے۔ روسی عوام پر مسلط مطلق العنان اور کرپٹ ٹولے کا مخالف ہوں جو روسی عوام کو نہ اپنی پسند کے انتخاب کا موقع دیتا ہے، نہ اُنہیں آزادیاں دیتا ہے، نہ انصاف دیتا ہے۔ سارے وسائل پر اوپر بیٹھے ہوئے چند افراد کے ٹولے نے قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ مضمون ”پراودا“ سے گار جیئن لندن نے نقل کیا ہے۔ جان میک کین نے صدر پیوٹن کے خوب لتے لئے ہیں اور کہا ہے کہ صدر پیوٹن جیسا مطلق العنان ڈکٹیٹر ہی بشارالاسد جیسے ڈکٹیٹر کا طرف دار اور حامی ہو سکتا ہے۔ مَیں روس اور روسی عوام کا حامی ہوں اور میرے اس دعوے کی دلیل یہ ہے کہ مَیں چاہتا ہوں، روسی عوام کو اپنے ضمیر کے مطابق حکومتیں بنانے اور گرانے کا اختیار حاصل ہونا چاہئے۔ ڈکٹیٹر نہیں، اُنہیں اُن کے ضمیر ڈکٹیٹ کریں۔ روسی حکمران اختلاف کرنے والوں کو سزائیں دیتے ہیںحتیٰ کہ اُن کی جان تک لے لیتے ہیں۔ وہ میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں۔

میک کین نے روس میں ”پنک راک بینڈ“ پر پابندی لگانے کا حوالہ دیا اور سرجی میگنٹسکی کا ذکر کیا ہے جو ایک عام روسی تھا اور پیشے کے اعتبار سے اکاو¿نٹنٹ تھا، جس نے روسی تاریخ کے ایک بہت بڑے گھپلے کا انکشاف کیا ہے۔ اُسے Butyrka کے جیل خانے میں ڈال دیا گیا۔ اس پر اتنا تشدد کیا گیا کہ وہ جیل میں چل بسا، لیکن اُس کے مرنے کے بعد اس کے خلاف مقدمہ چلا کر اُسے مجرم قرار دے دیا گیا۔ صدر پیوٹن کا دعویٰ ہے کہ وہ روس کو اُس کی عظمت رفتہ دلانا چاہتے ہیں، جبکہ اُنہوں نے روس کو بھوک اور ننگ دی ہے۔ سرمایہ روس سے باہر جا رہا ہے اور قانون کی عمل داری نہ ہونے کی وجہ سے کوئی عالمی سرمایہ دار روس میں سرمایہ کاری پر تیار نہیں ہے۔ جان میک کین نے لکھا ہے کہ مَیں جب روسی حکومت کی مخالفت کرتا ہوں، اس لئے نہیں کہ مَیں روس مخالف ہوں، بلکہ اس لئے کہ مَیں سمجھتا ہوں آپ کو سب روسیوں کو ایسی حکومت کے انتخاب کا حق ملنا چاہئے جو ان (عوام) پر اعتماد کرے اور جو عوام کو جواب دہ ہو اور مَیں اس دن کے آنے کا بے تابی سے انتظار کر رہا ہوں“۔

شام کے مرنے والے ان مضامین کو پڑھیں اور انتظار کریں کہ کب یہ عالمی ٹھیکیدار شام کے کیمیائی ہتھیاروں کا مسئلہ حل کرتے ہیں اور بشار الاسد جو اپنے ملک اور عوام کے لئے اقتدار چھوڑنے پر تیار نہیں، اپنے کیمیائی ہتھیار ان ٹھیکیداروں کے حوالے کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے ،گویا اسی قیمت پر ہی اقتدار قائم رہے۔(ختم شد)

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)

مزید : کالم