دہشت گردی:جمہوری حکومت کو درپیش بڑا چیلنج

دہشت گردی:جمہوری حکومت کو درپیش بڑا چیلنج
دہشت گردی:جمہوری حکومت کو درپیش بڑا چیلنج

                                                    دو ایسے واقعات ہوئے ہیں ، جنہوں نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ ہماری جمہوریت آخر کمزور کیوں ہے اور کیوں اس تاثر کی گرفت میں ہے کہ جمہوری حکمران اپنے فیصلے آپ کرنے میں آزاد نہیں؟ پشاور کے گرجا گھر میں خود کش حملے اور ان میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں، اس وقت دنیا کو یہ پیغام دے گئیں کہ پاکستان میں سیاسی حکومتوں کے فیصلے دہشت گردی کے تسلسل کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور طاقت کا سرچشمہ کہیں اور ہے۔ جب وزیر اعظم نواز شریف امریکہ جا رہے تھے تودوسرا واقعہ کراچی کے قومی حلقے میں نادرا کی طرف سے انگوٹھوں کے نشان کی جانچ پڑتال کے بعد دی جانے والی رپورٹ ہے ،جس میں ہزاروں بوگس ووٹ ڈالنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان دونوں واقعات کا بظاہر آپس میں کوئی تعلق نہیں، مگر اس سوال سے تعلق ضرور ہے کہ پاکستان میں جمہوریت آخر کمزور کیوں ہے؟

جب جمہوریت کی بنیاد ہی میں دھاندلی کے ذریعے کمزوری رکھ دی جائے گی تو وہ مضبوط کیسے ہو سکے گی؟ یہ اس عمل کا حصہ ہے جو گذشتہ کئی دہائیوں میں وطن عزیز میں دہرایا جا رہا ہے اور ملک پر حکمرانی کرنے والی اصل طاقتیں عوام کی حقیقی رائے کو کبھی عملی جامہ نہیں پہننے دیتیں۔ وہ ملک کے حکمرانوں کا تعین خود کرتی ہیں اور پھر انہیں شطرنج کے مہروں کی طرح اپنی مرضی کے مطابق چلاتی رہتی ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی طاقتیں طالبان سے مذاکرات کے حق میں ہیں ،لیکن واقعات کا تسلسل بتاتا ہے کہ جمہوری و سیاسی طاقتیں اپنی یہ خواہش پوری نہیں کر سکیں گی۔ جیسا کہ خود وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پشاور سانحہ کے بعد مذاکرات کا عمل آگے بڑھتا نظر نہیں آتا۔

مَیں ایک سے زائد بار انہی کالموں میں یہ سوال اٹھا چکا ہوں کہ ہماری جمہوری حکومتیں آخر کیوں چیلنجوں پر پورا اترنے میں ناکام رہتی ہیں؟ جیسا کہ موجودہ حکومتوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے پہلے سو دنوں میں اپنی کوئی سمت ہی متعین نہیں کر سکیں اور نہ عوام کو کوئی ریلیف دے سکی ہیں۔ ہمارے ہاں چونکہ آمریت بارہا آتی رہی ،اس لئے جمہوریت بہتر نہیں ہو سکی۔ یہ دلیل اس لحاظ سے بہت کمزور لگتی ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کے پیتا ہے۔ جب سیاستدانوں کو یہ معلوم ہے کہ ان کا آمروں کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل جاری رہا ہے، تو انہوں نے یہ فیصلہ کرنے کی بجائے کہ قوم کو ایک بہترین جمہوریت دینی ہے،یہ رویہ کیوں اپنائے رکھا کہ بد ترین جمہوریت بھی چونکہ آمریت سے بہتر ہوتی ہے، اس لئے اسے اپنا لینے میں کوئی حرج نہیں ۔اگر آپ آمریت کا خوف دلا کر عوام کو مجبور کر یں گے کہ وہ جمہوریت کی بد ترین شکل پر بھی واہ واہ کریں اور تالیاں بجائیں تو اس سے وقت تو گذر جائے گا ،جمہوریت کولاحق خطرات کم نہیں ہو ںگے۔

 پاکستان میں یقینا تحریر سکوائر جیسے کسی کھیل کی گنجائش نہیں، کیونکہ یہاں ادارے مضبوط ہیں، عدلیہ آزاد ہے، میڈیا متحرک ہے اور آئین بھی موجود ہے ،مگر اس کے باوجود اگر یہاں کوئی تحریر سکوائر جیسے حالات پیدا کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو اس کی وجوہات ان خفیہ ہاتھوں میں تلاش کرنے کی بجائے، جن کا آج کل مذاکرات کے حوالے سے پُرزور حوالہ دیا جا رہا ہے، سیاسی قوتوں اور اقتدار میں موجود سیاستدانوں کو اپنے کردار و عمل میں تلاش کرنا چاہیے۔ عوام کو اس بات پر کب تک قائل اور مائل کیا جا سکتا ہے کہ بد ترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے ۔

کسی سیانے کا قول ہے کہ دل کا راستہ معدے سے ہو کر گذرتا ہے، اگر بہترین آمریت عوام کے پیٹ کو بھرنے اور بد ترین جمہوریت عوام کو فاقہ کشی پر مجبور کرنے کی راہ اختیار کر لے تو عوام آمریت کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ یہ ڈرائنگ روموںمیں بیٹھ کر کرنے کی باتیں ہیں کہ بد ترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے، جن کروڑوں افراد کی دو وقت روٹی بھی سوالیہ نشان بن جائے تو ان کے لئے زندگی ایک زندان کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اب ایسے لوگوں کو اگر آپ یہ دلاسہ دیں گے کہ دیکھو ہم نے تمہیں سوچنے، بات کرنے، حکومت کے خلاف ابال نکالنے اور سڑکوں پر آنے کی اجازت دے رکھی ہے، جو جمہوریت کے بہترین ثمرات ہیں، تو انہیں یہ دلیل ایک ڈھکوسلا اور بے وقت کی راگنی لگے گی۔

جمہوری معاشروں میں اصلاحات کے مطالبے کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا جاتا ہے، بلکہ لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ مزید بہتری کے لئے اپنی تجاویز دیں۔ ہمارے ہاں کوئی ایسی بات کر بیٹھے تو اسے جمہوریت دشمن کا خطاب دے کر آمریت کا پروردہ قرار دے دیا جاتا ہے ۔اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارے انتخابی نظام میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے ۔نادرا کی رپورٹ نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ دو عشروں میں انتخابات کو اس قدر مہنگا اور مشکل بنا دیا گیا ہے کہ ایک عام تو کیا متوسط طبقے کا کوئی شخص بھی ان میں حصہ نہیں لے سکتا۔ کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک طرف آئین کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ اگر آئین کی شقوں 62-63 پر عملدرآمد کیا گیا تو ایسے فرشتے پورے ملک میں نہیں ملیں گے اور انتحابات کا انعقاد ہی ناممکن ہو جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ ایسے افراد کیوں نہیں مل سکتے جو آئین کی ان دو شقوں پر پورا اتر سکیں۔ ہاں اس صورت میں تو نہیں مل سکتے ، اگر انہی طبقوں یا لوگوں میں سے تلاش کئے جائیں، جو نسل در نسل اس قوم پر مسلط چلے آرہے ہیں، لیکن اگر سیاسی جماعتیں اس دائرے کو توڑ کر اچھے افرادکو تلاش کرتی اور انہیں ٹکٹ دیتی ہیں تو ملک میں اتنا بھی قحط الرجال موجود نہیں کہ ایسے ”فرشتے“ نہ مل سکیں۔ گذشتہ انتخابات میں آئینی تقاضے سامنے آنے سے اس پہلو کو تو اب ملک کے سیاسی لوگ تسلیم کر رہے ہیں کہ اگر آئین میں درج شرائط کے مطابق امیدوار کی اہلیت کو جانچا جاتا تو شاید موجودہ اسمبلیوں کا کوئی رکن بھی انتخابات میں حصہ لینے کے قابل نہ رہتا ،گویا یہ بات اب کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ہمارا موجودہ انتخابی نظام اصلاح مانگتا ہے۔

اب اس سوال کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا ہماری جمہوریت کی خامیاں بار بار انتخابات کرانے سے دور ہو جائیں گی؟ اس سوال کا آسانی سے اثبات میں جواب نہیں دیا جا سکتا،کیونکہ اگر اینٹ کو سیدھا نہیں کیا جائے گا تو عمارت سیدھی کیسے بنے گی؟ دوسرے لفظوں میں اگر امیدوار ہی آئین میں دی گئی شرائط پر پورا نہیں اتریں گے تو عوام کو اچھے امیدوار منتخب کرنے کا موقع کیسے ملے گا؟ تجربہ یہی بتاتا ہے کہ عوام کو دو بروں میں سے ایک کم برے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ ہر کوئی عوام کو یہ الزام تو دیتا ہے کہ وہ اچھے لوگوں کو خود منتخب نہیں کرتے ، پھر بری حکومت کا ماتم کرتے رہتے ہیں، مگر اس کا جواب کون دے گا کہ عوام کے پاس کسی اچھے آدمی کو منتخب کرنے کا اختیار ہی کتنا ہوتا ہے؟ انتخابات میں سیاسی جماعتیں کیا کسی اچھے آدمی کو ٹکٹ دیتی ہیں؟ ان کا مقصد تو ایک روایتی سیاستدان کو ٹکٹ دے کر سیٹ جیتنا ہوتاہے، تاکہ وہ حکومت بنا سکیں۔

چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ موجودہ جمہوری سیٹ اپ بھی اپنی روایتی خامیوں سمیت موجود ہے، لیکن کیا سیاست دانوں اور جمہوریت کا ورد کرنے والوں کا یہ فرض نہیں کہ وہ اب اس نظام کو عوام کی توقعات اور امیدوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ دہشت گردی کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس میں اتفاق رائے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ معاملات کو آگے بڑھانے میں اس قدر سست روی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ آحر وہ کون سی نادیدہ رکاوٹیں ہیںجو حالات کو دوسری سمت لے جانا چاہتی ،ہیں جتنی تاخیر ہوتی جائے گی، خفیہ ہاتھ پشاور اور لوئر دیر جیسے واقعات سے معاملات کو بگاڑتے چلے جائیں گے۔

 وزیر اعظم نواز شریف کی یہ خوش قسمتی ہے کہ انہیں ملک کی تمام جمہوری قوتوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے واضح مینڈیٹ دیا ہے۔ اب انہیں ایک مضبوط جمہوری حکمران کی طرح فوری فیصلے کرنے چاہئیں۔ مشاورت تو جو ہونی تھی وہ ہو چکی، اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔ صرف دہشت گردی ہی نہیں، ملک کو معاشی مسائل سے نکالنے اور بنیادی اصلاحات کے ضمن میں وزیر اعظم کو جرات مندانہ فیصلے کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ جمہوری حکومت کے بارے میں یہ تاثر درست نہیں کہ 100 دن گذر جانے کے باوجود وہ ملک کو در پیش حقیقی چیلنجوں کا ادراک تک نہیں کر سکی۔ اس وقت اشد ضرورت ترجیحات کو تبدیل کرنے کی ہے۔ مختلف اداروں میں اپنے من پسند افراد کو بٹھانے کی راہ پر چلنے کی بجائے اگر قومی و عوامی مفاد میں فیصلے کرنے کی راہ اختیار کی جائے، تو اس سے نہ صرف موجودہ حکومت عوام کے سامنے سرخرو ہو گی، بلکہ جمہوریت بھی مستحکم ہو جائے گی ....گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں۔  ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...