قائداعظم سولر پارک۔۔۔حقائق یہ ہیں

قائداعظم سولر پارک۔۔۔حقائق یہ ہیں
 قائداعظم سولر پارک۔۔۔حقائق یہ ہیں

  

یوں تو وطن عزیز کوبہت سے معاشی ، سماجی و معاشرتی مسائل وچیلنجز کا سامنا ہے لیکن ان میں دہشت گردی اور بجلی کا بحران سرفہرست ہے۔ وزیراعظم پاکستان محمدنوازشریف کی ولولہ انگیز قیادت میں حکومت ملک کو اندھیروں سے نکالنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لاررہی ہے ۔ پنجاب واحدصوبہ ہے جہاں پر بجلی کے منصوبوں پر عملی اقدامات کئے جارہے ہیں جس کا کریڈٹ بجا طور پر وزیراعلی پنجاب محمدشہبازشریف کوجاتا ہے۔ حکومت پنجاب مختلف قسم کے توانائی کے ذرائع مثلا کوئلے، ایل این جی، سولر اور ہائیڈرو سے بجلی پیدا کرنے کے قلیل المدتی اور طویل المدتی منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد ایک ایک دن ، ایک ایک لمحہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے صرف کیا ہے۔ پنجاب قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے۔ قدرت نے پانچ دریاؤں کی زمین کوسورج کی روشنی اور طویل دورانیے کی دھوپ سے نوازا ہے۔ دھوپ سے توانائی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ اور اس کی اہمیت کو نیشنل پاور جنریشن پالیسی 2006میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

سولر پار ک کے لئے بہاولپور میں چولستان کا انتخاب کیا گیا ۔ اس علاقے کے انتخاب کی بنیادی وجہ یہاں یومیہ اوسط شعاع ریزی (Average Daily Eradiation)ہے جو 1900سے 2300 kWh/m2 ہے۔ چولستان کا یہ علاقہ شعاع ریزی کیلئے بہت زرخیز ہے اور یہاں شمسی توانائی کے پراجیکٹ کیلئے وسیع رقبہ بھی میسر ہے۔قائداعظم سولر پارک اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ضرور ہے تاہم اس میں ہر مرحلے پر بین الاقوامی قوانین اور معیار کو مدنظررکھاگیا ہے۔ کنسلٹنٹس کے انتخاب سے لیکر کمپنیوں کے چناؤ تک، را ء مٹیریل کی آمد سے لیکر پلانٹ کی تنصیب اور آپریشن تک کو جرمنی اور چین کی مستند اور معروف بین الاقوامی کمپنیوں نے مانیٹر کیاہے۔ ہر مرحلے پر مکمل جانچ پڑتال کی گئی اور تمام سامان کو چیکنگ اور ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزارا گیا ہے۔ شمسی توانائی کے منصوبے دیر پا ہوتے ہیں اس لئے انکی تنصیب نہایت مہارت مانگتی ہے۔جرمنی کے کنسلٹنٹ نے فیزیبلٹی رپورٹ تیار کی ،پھر ٹینڈر فلوٹ کئے گئے اور بڈز طلب کی گئی۔ سب سے زیادہ بڈ2ملین ڈالر فی میگا واٹ آئی جبکہ سب سے کم 1.51ملین ڈالر فی میگا واٹ تھی اگرچہ پیپرا رولز سب سے کم بولی دینے والے کے ساتھ بات چیت کی اجازت نہیں دیتے لیکن اس کے باوجود وزیراعلی پنجاب محمدشہباز شریف ملک کے غریب عوام اور بجلی کے اندھیرے دور کرنے کے لئے اس زنجیر کوتوڑا اور 20ملین ڈالر تقریباً 2ارب روپے بات چیت کر کے کم کرائے اور 100میگا واٹ سولر پاور پراجیکٹ کے ذریعے بھی کم قیمت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جس نے نیپرا کے لئے ایک نیا بینج مارک مہیا کیاہے جس کی بنیاد پر نیپرا نے ٹیرف میں کمی کرتے ہوئے جنوری 2015کو 14.1سینٹ کے ٹیرف کا اعلان کیا،لیکن پنجاب حکومت نے 13.9 سینٹ اچیو کیا۔ سولر منصوبے میں شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نہ صرف قومی خزانے کے2 ارب روپے بچائے گئے ۔

وزیراعظم پاکستان محمدنوازشریف اور وزیراعلی پنجاب محمدشہبازشریف نے5مئی 2015کواس منصوبے کا افتتاح کیا اور بے شک پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بجلی کے بحران اور اندھیروں کوروشنیوں میں بدلنے کا آغاز کردیا ہے۔ اس طرح صوبہ پنجاب دوسرے صوبوں سے سبقت لے گیا ہے۔ 100میگاواٹ کا سولر پاور پراجیکٹ 131.15ملین ڈالر اور 2.7ملین ڈالر ٹیکسز کی لاگت سے تعمیر کیا گیا اور پچھلے چار ماہ کی پیداوار کے دوران پلانٹ نیپرا کے ٹیرف کی ضروریات 153گیگاواٹ آورز(153ملین یونٹ)سالانہ اور 12.8گیگاواٹ ماہانہ کے مقابلے میں اوسطا 13.8گیگاواٹ ماہانہ پیداکررہا ہے ۔ کچھ لوگ اس منصوبے کوہدف تنقیدبنا رہے ہیں جوکہ سراسر زیا دتی ہے۔ یہ لوگ نہیں چاہتے کہ ملک سے اندھیرے دور ہوں اور ملک معاشی طور پر خوشحال ہو جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں سولر منصوبوں سے اوسطاً17سے 19میگا واٹ بجلی حاصل ہوتی ہے اور یہ کلیہ عالمی طو رپر مسلمہ ہے کیونکہ دھوپ 24گھنٹے میسر نہیں رہتی اور 24گھنٹوں کو بنیاد بنایا جائے تو بجلی کی اوسط پیداوار 17سے 19میگا واٹ ہی بنتی ہے او ریہی دنیا بھر میں کلیہ رائج ہے کیونکہ بجلی سورج سے حاصل ہوتی ہے اور دن کے آغاز او راختتام پر سورج سے زیادہ روشنی حاصل نہیں ہوتی اسی لئے اس وقت بجلی بھی کم بنتی ہے لیکن پیک آور میں شمسی توانائی میں اضافہ ہوجاتاہے اور 100میگا واٹ کا منصوبہ پیک آور میں 80میگا واٹ تک بجلی پیدا کرتا ہے اور اگر بادل ہوں تو بجلی پیدا نہیں ہوگی یہ بالکل اسی طرح ہے کہ ہوا نہ چلے تو ونڈ سے بھی بجلی پیدا نہیں ہوگی۔ رات کو سورج کی روشنی نہیں ہوتی اسی لئے اس وقت بجلی پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ چین میں سولر سے 35ہزار میگاواٹ ،جرمنی میں 35ہزار میگا واٹ اوربھارت میں 4500میگا واٹ بجلی حاصل ہوتی ہے۔

سولر کا ہائیڈرو پراجیکٹ سے موازنہ کرنا بلا جواز ہے۔ دونوں کے اپنے اپنے فائدے اور خامیاں ہیں۔ مثال کے طور پر 131ملین ڈالر سے صرف 45 سے 50 میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور پلانٹ قائم کیا جا سکتا ہے۔ لوہیڈ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لئے بھی 2.5 سے 3 ملین ڈالر فی میگاواٹ کے اخراجات درکار ہیں۔ ان منصوبوں کا پلانٹ کپیسٹی فیکٹر 40 سے 50 فیصد ہے جو کہ 20 سے 25 میگاواٹ توانائی 24 گھنٹوں اور 365دنوں کے لئے پیدا کرتا ہے۔ حتیٰ کہ لوہیڈ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا ٹیرف بھی 2.5 سینٹ کی بجائے 11 سینٹ ہے۔سولر پاور پراجیکٹ کے قیام کا فیصلہ درکار وسائل کی دستیابی کے پیش نظر کیا گیا تھا کیونکہ جنوبی پنجاب میں سورج سے توانائی حاصل کرنے کے وسیع وسائل موجود ہیں‘ پلانٹ کی تکمیل کی مدت بھی کم ہے اور اس سے حاصل کردہ توانائی 54 ہزار گھروں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کافی ہے۔ ہائیڈرو پراجیکٹ جس کی تکمیل پر 5 سال لگتے اور اس سے 765 ملین یونٹ جن کی قیمت 10 ارب ڈالر ہے کا نقصان ہوتا کیونکہ سولر پلانٹ صرف ایک سال کی مدت میں قائم کیا جا سکتا ہے۔255 میگاواٹ کے 5 ونڈ پاور پراجیکٹ پہلے ہی نیشنل گرڈ سے منسلک ہیں۔ نیپرا کی جانب سے بڑے سولر پاور پلانٹس کے لئے دیا گیا ٹیرف ان 5 میں سے 4 منصوبوں کے مقابلے میں کم ہے۔ 100میگاواٹ سولر پاور پراجیکٹ نے بہت موثر طریقے سے اس وقت کے نیپرا کے ٹیرف کو کم کیا ہے اور 16.29 کے مقابلے میں 14.15 سینٹ فی کلوواٹ /فی گھنٹہ کی مثال قائم کی ہے۔ حکومت نے سولر پارک میں مزید900میگاواٹ کا شمسی توانائی کا منصوبہ شروع کیا ہے جو تقریبا 135ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوگا۔ اس منصوبے سے جنوبی پنجاب میں نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ صنعتی اور زرعی شعبے میں علاقے کے عوام کے لئے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔

موجودہ حکومت توانائی کے بحران کے حل کے لئے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لئے تمام ممکنہ وسائل کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت صرف ان وسائل پر کام کر سکتی ہے جو کہ فوری دستیاب اور صوبے کیلئے سودمند ہیں۔ اس لئے سولر پاور پنجاب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ *

مزید :

کالم -