چولہے کی اہمیت صرف پاک فوج کے سیا چن پر تعینات جوان ہی بتا سکتے ہیں

چولہے کی اہمیت صرف پاک فوج کے سیا چن پر تعینات جوان ہی بتا سکتے ہیں
چولہے کی اہمیت صرف پاک فوج کے سیا چن پر تعینات جوان ہی بتا سکتے ہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سکردو(مانیٹرنگ ڈیسک )دنیا کے سب سے اونچے جنگ کے میدان ”سیا چن“ میں پاک فوج کو دودشمنوں کا سامنا ر ہتا ہے جن میں سے ایک بھارت اور دوسرا وہاں کا موسم ہے ۔ہر لمحے تبدیل ہونے والے موسم کے بارے میں پیش گوئی بھی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے کیونکہ چند اس جگہ جان کو سکون دینے والے سورج کو چند لمحوں میں بادل ایسے گھیر لیتے ہیں جیسے سورج کا وجو د ہے ہی نہیں اور ٹھنڈ بڑھنا شروع ہو جاتی ہے ۔سیا چن میں سردیوں کے دوران درجہ حرارت منفی 40سے منفی 50ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور گرمیوں میں درجہ حرارت منفی 5سے منفی 10ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے ۔ایسے حالات میں فوجی جوانوں کے لیے بھارت سے بڑا دشمن موسم بن جاتا ہے جس سے مقابلے کے لیے پاک فوج نے مکمل انتظامات کیے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی قدرت کی طاقت سے انسان مقابلہ نہیں کر سکتا ۔اتنی شدید ٹھنڈ میں پاک فوج کے بیس کیمپ میں جلنے والے چولہے کو جوان ”زندگی“ کہہ کر پکارتے ہیں ۔فوجی کیمپ میں انتہائی دھیمی آنچ پر چلنے والا چولہا اتنی زیادہ اہمیت کا حامل اس لیے بن جاتا ہے کیو نکہ اس سے کیمپ کا درجہ حرارت کچھ درجہ بڑھ جاتا ہے جو کہ جوانوں کے لیے راحت کا باعث بنتا ہے۔

مزید : سکردو