یورپی یونین نے ایسے ملک کو ممبر شپ دے دی کہ جان کر دنیا بھر کے مسلمان خوش ہوجائیں گے

یورپی یونین نے ایسے ملک کو ممبر شپ دے دی کہ جان کر دنیا بھر کے مسلمان خوش ...
یورپی یونین نے ایسے ملک کو ممبر شپ دے دی کہ جان کر دنیا بھر کے مسلمان خوش ہوجائیں گے

  



جنیوا (نیوز ڈیسک) یورپی یونین کی موجود ہئیت کے مطابق اسے یورپ کے سرکردہ غیر مسلم ممالک کی تنظیم کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، البتہ اب پہلی بار ایک مسلم اکثریتی ملک بھی اس ایلیٹ بلاک کا حصہ بننے جا رہا ہے۔

ویب سائٹ DW.COM کی رپورٹ کے مطابق 28 ممالک پر مشتمل یورپی یونین سے گزشتہ روز بوسنیا اینڈ ہرز گووینا کی رکنیت کی درخواست قبول کرلی اور اب اسے باقاعدہ رکن بنانے کے لئے ایک طویل عمل کا آغاز کردیاگیا ہے۔ یورپی کمیشن اب اس بات کا جائزہ لے گا کہ بوسنیا یورپی یونین کا رکن بننے کی اہلیت رکھتا ہے یا نہیں اور اس عمل کے مکمل ہونے میں ایک سال لگ سکتا ہے۔ ابتدائی جائزے کے بعد بوسنیا کو بتایا جائے گا کہ اسے مکمل رکنیت کے لئے مزید کیا شرائط پوری کرنا ہیں۔ یورپی کمیشن کی جانب سے بوسنیا کو ہزاروں سوالات پر مبنی ایک دستاویز بھیجی جائے گی، جس کے ذریعے بوسنیا کی معیشت، انسانی حقوق، قانون کی عملداری اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات جیسے معاملات کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔

وکی لیکس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا پول کھول دیا، بجلی کے جھٹکے اور جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا

بوسنیا کے لئے یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کی راہ میں ایک خصوصی مشکل اس کا پیچیدہ نظام حکومت ہے۔ 1990ءکی دہائی میں جب یوگوسلاویا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تو ایک کا کنٹرول بوسنیائی اور کروشیائی نسل کے باشندوں کے پاس منتقل ہوا جبکہ دوسرا سرب نسل کے حصے میں آیا۔ اب یہ تینوں نسلی گروپ مشترکہ حکومت میں حصہ دار ہیں اور ان کی الگ الگ ترجیحات ملک کی معیشت، سیاست اور سماجی پالیسی پر گہرے اثرات رکھتی ہے۔ یورپی یونین کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اگر بوسنیا نے اپنی معیشت، پبلک ایڈمنسٹریشن اور قانون کے شعبوں میں اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا تو ایک دن یہ یورپی یونین کا مکمل رکن ضرور بن جائے گا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...