کاسمیٹکس کمپنیاں کس طرح خواتین کو خریداری پر مجبور کرتی ہیں،جان کر ہر لڑکی کو اپنی بے وقوفی پر غصہ آئے گا

کاسمیٹکس کمپنیاں کس طرح خواتین کو خریداری پر مجبور کرتی ہیں،جان کر ہر لڑکی ...
کاسمیٹکس کمپنیاں کس طرح خواتین کو خریداری پر مجبور کرتی ہیں،جان کر ہر لڑکی کو اپنی بے وقوفی پر غصہ آئے گا

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) دیگر ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی سالانہ اربوں روپے پرفیومز، میک اپ، سکن کیئر، ہیئر کیئر اور دیگرظاہری دلکشی کے سامان کی خریداری پر خرچ کیے جاتے ہیں اور ان اخراجات میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب برطانیہ کے کنزیومر گروپ وِچ؟ (Which?)کے ماہرین نے اس رجحان کی وجہ بھی بتا دی ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق وِچ؟ کی ماہر کلیئر کول مین کا کہنا ہے کہ ”بیوٹی مصنوعات بنانے والی کمپنیاں ان کی تشہیر کے لیے ایسے حربے استعمال کرتی ہیں کہ صارفین کا ہاتھ خودبخود ہی جیب کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ سب سے پہلے سائنس کا سہارا لیتی ہیں۔ کمپنیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی مصنوعات زیادہ سے زیادہ سائنسی نظرآئیں۔ اس کے لیے وہ مصنوعات کوغیرضروری طور پر ادویات جیسی ٹیوبز اور بوتلوں میں پیک کرکے باکس میں ڈالتے ہیں اور ان کے نام کے ساتھ ’لیب‘’سمارٹ‘ اور ’ٹیک‘ وغیرہ جیسے الفاظ لگاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے سیلز مینوں کو ڈاکٹروں کی طرح کے سفید کوٹ پہناتی ہیں۔ اس حربے سے لوگ ان بیوٹی مصنوعات کو ادویات کی طرح سمجھنے لگتے ہیں ، ان پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں اور ان کے متعلق سنجیدگی سے سوچنے لگتے ہیں۔“

وہ وکیل جو خواتین کو ایسے طریقے سے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا تھا کہ انہیں اپنے ریپ کا پتہ ہی نہ چلتا تھا

کلیئر کول مین کا مزید کہنا تھا کہ ”اپنی مصنوعات کو سائنسی رنگ دینے کے بعد کمپنیاں ان کی تشہیر کے لیے کروڑوں روپے کے عوض اول درجے کی اداکاراﺅں اور اداکاروں کی خدمات حاصل کرتی ہیں اور اشتہار بنا کر ٹی وی، اخبارات اور انٹرنیٹ پر چلواتی ہیں۔ چونکہ لوگ ان فنکاروں کے پہلے ہی مداح ہوتے ہیں اس لیے وہ تیزی کے ساتھ ان مصنوعات کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اس طرح کمپنیاں اپنی بیوٹی مصنوعات کی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کرکے اربوں کماتی ہیں۔اس کے علاوہ مصنوعات کی خوشنما، رنگین پیکنگ، ان کے لگژری لیبل اور ٹیوب یا بوتل کے اندر موجود مصنوعات کی خوش کن رنگت صارفین کو لبھانے اور ان کا اعتماد جیتنے کے حربوں کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔کمپنیوں کے انہی دھوکوں کی وجہ سے لوگ تیزی سے بیوٹی مصنوعات کی خریداری کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور ان کی خریداری پر اٹھنے والے سرمائے کی شرح میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...