حکومت ٹی او آرز کو قبول کرے ، کمیشن بنائے اور احتساب کے لیے تیار ہو جائے تو مذاکرات کےدروازے کھلے ہیں:سینیٹر سراج الحق

حکومت ٹی او آرز کو قبول کرے ، کمیشن بنائے اور احتساب کے لیے تیار ہو جائے تو ...
 حکومت ٹی او آرز کو قبول کرے ، کمیشن بنائے اور احتساب کے لیے تیار ہو جائے تو مذاکرات کےدروازے کھلے ہیں:سینیٹر سراج الحق

  



لاہور(نیوز ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت ٹی او آرز کو قبول کرے ، کمیشن بنائے اور احتساب کے لیے تیار ہو جائے تو مذاکرات کےدروازے کھلے ہیں لیکن حکومت ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لیے تیار ہے نہ ایک قدم بھی آگے بڑھنے کو، اگر عوام سڑکوں پر آتے ہیں تو یہ ”کارنامہ “حکومت کا ہوگا ۔

تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت ٹی او آرز کو قبول کرے ، کمیشن بنائے اور احتساب کے لیے تیار ہو جائے مذاکرات کے تو دروازے کھلے ہیں لیکن حکومت ہٹ دھرمی چھوڑنے کے لیے تیار ہے نہ ایک قدم بھی آگے بڑھنے کو، اگر عوام سڑکوں پر آتے ہیں تو یہ ”کارنامہ “حکومت کا ہوگا ۔ٹی او آرز پر آٹھ اجلاس ہوئے مگر حکومتی رویے کی وجہ سے سب ناکام ہوئے ۔ ہم جس احتساب کا مطالبہ کررہے ہیں وہ قطعاً یہ نہیں کہ صرف وزیراعظم کا احتساب ہو اور باقی سب کو کلین چٹ دے دی جائے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ وزیراعظم کے ساتھ ساتھ سراج الحق کا بھی احتساب ہواور زرداری اور مشرف حکومتوں کا بھی مکمل آڈٹ کرایا جائے تاکہ لوٹی گئی قومی دولت واپس لائی جاسکے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ مرکزی ذمہ داران اور مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہم نے پہلے دن سے حکومت پر واضح کر دیاتھا کہ جب تک شفاف احتساب اور کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتا ،ملک میں جمہوریت پھل پھول نہیں سکتی ۔ پرامن احتجاج جمہوریت کا حسن ہے جس سے سیاست اور جمہوریت کو ہمیشہ فائدہ ہوا ہے جمہوریت کو اصل خطرہ حکمرانوں کے آمرانہ رویہ سے ہے ۔

انہوں نے کہاکہ حکمران چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو اور ان کی غیر آئینی اور غیر قانونی سرگرمیاں اسی طرح جاری رہیںلیکن ہم ایک شفاف اور غیر جانبدار احتساب کا نظام چاہتے ہیں جو کسی ایک فرد کے گرد نہیں گھومناچاہیے ۔ اپوزیشن کی صفوں میں موجود تمام لٹیروں کو بھی پکڑا جانا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کو بھی اب چوروں اور لٹیروں کے چنگل سے خود کو آزاد کراناہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاک دامن اور صاف ستھرے کردار کے لوگوں کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے اکٹھا کررہے ہیں ۔ 30 ستمبر کے بعد تمام اپوزیشن جماعتیں ایک مشترکہ لائحہ عمل اور قومی ایجنڈا دیں گی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی مایوس کن کارکردگی سے عوام سخت پریشان ہیں اور انہیں کوئی روشنی کی کرن نظر نہیں آتی ۔ ہماری کوشش ہے کہ اپوزیشن مل کر عوام کے اندر پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کرے ۔

جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا تین روزاجلاس آج شروع ہوگا

انہوں نے کہاکہ اس وقت خطے میں سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور انڈیا مسلسل جنگ کی دھمکیاں دے رہاہے ۔ اس وقت ملک میں اتحاد و اتفاق اور قومی یکجہتی کے فروغ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نہ صرف جنگ کی دھمکیاں دے رہاہے ، بلکہ عملی طور پر جنگی اقدامات کر رہاہے ۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور امریکی سرپرستی میں خود کو خطے کا تھانیدار سمجھتاہے-

مزید : قومی


loading...