قومی معیشت کی ترقی میکرو اکنامک اعشاریوں کی بہتری سے ممکن ہوئی

قومی معیشت کی ترقی میکرو اکنامک اعشاریوں کی بہتری سے ممکن ہوئی

  



اسلام آباد(اے پی پی) قومی معیشت کی ترقی میکرو اکنامک اعشاریوں کی بہتری سے ممکن ہوئی ہے تاہم ملکی معیشت کی تیز اور پائیدار ترقی کے لئے بچتوں کی شرح اور برآمدات کے اضافہ میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ ضروری ہے۔اقتصادی تجزیہ کار منصور احمد نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں بچتوں کی شرح مجموعی قومی پیداوار کے 14 فیصد کے مساوی ہے جو بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلہ میں کم ہے۔ اسی طرح پاکستان کی مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائلز کا شعبہ ایک بہت بڑا شراکتدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائلز کے شعبہ میں موجود ڈھانچہ جاتی عدم توازن کا خاتمہ ضروری ہے کیونکہ ملک میں تیار کی جانے والی ٹیکسٹائلز مصنوعات کا 75 فیصد حصہ برآمد کیا جاتا ہے جبکہ صرف 25 فیصد مصنوعات مقامی طورپر استعمال کی جاتی ہیں۔ منصور احمد نے کہا کہ ٹیکسٹائلز کے شعبہ کے ڈھانچہ جاتی مسائل کے خاتمہ اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے پیش نظر مصنوعات کی تیاری سے ٹیکسٹائلز کی ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچتوں کی شرح میں اضافہ کے لئے بھی جامع اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ قومی معیشت کی تیز اور پائیدار ترقی کے مطلوبہ اہداف حاصل کئے جاسکیں انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کی ترقی میں میکرو اکنامک اعشاریوں نے مثبت کردار ادا کیا ہے تاہم معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے جدید تحقیق سے استفادہ کی ضرورت ہے۔

مزید : کامرس