براہِ راست سرمایہ کاری میں 60 فیصد کے قریب کمی تشویشناک ہے: خالد پرویز

براہِ راست سرمایہ کاری میں 60 فیصد کے قریب کمی تشویشناک ہے: خالد پرویز

  



لاہور(کامرس رپورٹر) صدر آل پاکستان انجمن تاجران خالد پرویز نے براہِ راست سرمایہ کاری میں 60 فیصد کے قریب کمی کو نہایت تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی بہتری کی جوخبریں پلانٹ کر رہی ہے وہ سب جھوٹ ہے سچ تو یہ ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیوں نے تجارت، صنعت، مینوفیکچرنگ سب کا دھڑن تختہ کر دیا ہے۔ بنک ٹرائزیکشن پر وِد ہولڈنگ ٹیکس نے ہر شعبہ تجارت کو از حد متاثر کیا ہے عجب تماشہ ہے کہ تاجروں کے اپنے پیسوں کو بینکوں میں رکھنے یانکالنے پر کٹوتی کرکے معیشت میں بہتری کی امید رکھی جا رہی ہے۔ حکومت کے اس ظالمانہ ٹیکس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ بینکنگ سیکٹر تباہ ہو رہا ہے ہنڈی وحوالہ کا کام فروغ پا رہا ہے اور ہمارے وزیر خزانہ اور اکنامک مینجرز کو کوئی ہوش نہیں۔ سرمایہ کاری میں 60 فیصد تک کمی ایک الارمنگ پوائنٹ ہے۔ حکومت اب وِد ہولڈنگ ٹیکس اورایف بی آر کو بنک اکاؤنٹس تک رسائی دینے کے ناروا اور ناجائز فیصلوں کو واپس لے۔

تاکہ ملک معاشی ترقی کے ٹریک پر دوبارہ چڑھ سکے۔خالد پرویز نے کہا ’’انجمن تاجران نے بارہا حکومت کو وِد ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کو کہا ہے اور آج بھی اپنے اس مؤقف پر قائم ہے کہ اس ٹیکس کو ختم کئے بغیر سرمایہ کاری نہیں بڑھ سکتی اور اس بات کی سچائی معاشی انڈیکس سے عیاں ہے۔ حکومت بار بار غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتی ہے مگر جس ملک میں اس کے اپنے سرمایہ کاروں کے سرمائے سے ناجائز کٹوتیاں ہوں وہاں کون غیر ملکی سرمایہ کاری کرنا پسند کرے گا۔

مزید : کامرس