انٹر میڈیٹ میں طلباء طالبات کی شاندار کامیابی

انٹر میڈیٹ میں طلباء طالبات کی شاندار کامیابی

  



 انٹرمیڈیٹ کے امتحانات اس لحاظ سے اہمیت کے حامل ہیں کہ انہی کی بنیاد پر طلباء و طالبات میڈیکل کالجز، انجینئرنگ یونیورسٹیز اور دیگر تمام تعلیمی اداروں اور جامعات میں داخلہ لیتے ہیں۔

یقیناًیہ مرحلہ ہر طالب علم کے لئے مشکل ہوتا ہے لہٰذا طلبا وطالبات کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں گو کہ ہمارا تعلیمی نظام پستی کا شکا ر ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے طلبا وطالبات نے انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات 2016 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ پنجاب بھر سے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں پہلی تین پوزیشنز نجی کالج کے طلباء نے سنبھال لیں۔ٹاپ پوزیشنز حاصل کرنے میں سرکاری کالجز پیچھے رہ گئے جبکہ متوسط گھرانے کے بچوں نے ایک بار پھرنمایاں کارکردگی سے اہلخانہ کا سر فخر سے بلند کر دیا۔

ماہ رواں تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی بھرپور رہا ۔ پنجاب بھر کے نوتعلیمی بورڈوں میں میٹرک کے نتائج سے انٹرمیڈیٹ کے داخلوں اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانی نتائج سے گریجوایشن ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلوں تک تعلیمی اداروں میں خوب سرگرمیاں دیکھنے کوملیں۔ ہزاروں کی تعداد میں طلباء و طالبات کالجز یونیورسٹیوں میں فارم جمع کروانے ،انٹری ٹیسٹ دینے اور انٹرویو دینے میں مصروف رہے۔

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ انٹری ٹیسٹ کے موقع پر امتحانی سنٹرز پر سٹوڈنٹس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس پر پنجاب کی انتظامیہ کو توجہ دینا ہوگی۔

عیدالاضحی کی تعطیلات کے بعد تو تعلیمی اداروں کی رونقیں بحال ہو سکیں لیکن موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد چند روز کی پڑھائی اور پھر عید کی چھٹیوں نے تعلیمی ماحول گرم نہ ہونے دیا۔ لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ امتحانی نتائج اور اگلی کلاسوں میں داخلوں نے ایک بار پھر کالجز اور یونیوسٹیوں کی رونق کو دوبالا کردیا ہے۔ داخلہ لینے کے خواہش مند اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور انتظامی افسروں کی موجودگی بھی اس رونق کو چار چاند لگا رہی ہے۔

اس بار مقابلہ بہت سخت ہے ۔ سرکاری اور نجی کالجز اور یونیورسٹیاں طلباء و طالبات کو اپنی طرف راغب کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔ اخبارات میں کہیں پورے اور کہیں آدھے صفحے کے اشتہارات دئیے گئے ہیں ۔ ٹی وی چینلز پر پُرزور مہم جاری ہے،جبکہ سڑکوں کے کنارے بھی آپ کو کالجز و یونیورسٹیوں میں داخلے کے تشہیری بورڈ نظر آئیں گے۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ داخلوں کا موسم ہے تو بے جا نا ہوگا۔

کالجز، اور یونیورسٹیز میں طلبا نئے درجات میں داخل ہو رہے ہیں۔ قدیم اور جدید طلبا کی آمیزش وکثرت دیدنی ہوتی ہے۔ میٹرک پاس طلبا ایف اے یا ایف ایس سی میں داخلے لے چکے ہیں۔ اور اُن کی کلاسسز کا آغاز بھی ہوچکا ہے ،جبکہ ایف اے، ایف ایس سی پاس طلباء اپنی ذاتی رغبت، شوق اور دلچسپی کی بنا پر یا پھر والدین، اساتذہ اور دوست احباب کے مشوروں سے اپنے لیے مختلف شعبہ جات کا انتخاب کر رہے ہیں۔بہت سے طلباء اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی طرف جوق در جوق امڈکر آرہے ہیں۔

پنجاب بھر میں مختلف نجی یونیورسٹیوں اور کالجز میں داخلے کے لئے بیچلرز ،ماسٹرز، ایم ایس، ایل فل اور پی ایچ ڈی کے مختلف پروگرامز شامل ہیں۔

لاہور کالج فار ویمن اور ویٹرنری یونیورسٹی میں داخلوں کا آغاز کر دیا گیا۔پنجاب یونیورسٹی میں بھی بی ایس سی (آنرز) بی ایس ، بی ایڈ، بی بی آئی ٹی ، بی ایف اے ، بی کام ، بی بی اے،ایم اے، ایم ایڈ، ایم ایس سی ،ٹی ای ٹی، ایم پی اے، ایم بی اے، ایم ایف اے، ایم کام (ساڑھے تین سالہ) ایم آئی ایم ، ایم آئی او ایم اور ایم بی ایس ایم مارننگ اور سیلف سپورٹنگ (آفٹر نون، رپلیکااور ایوننگ) پروگرامز برائے تعلیمی سال2016-17کے لئے داخلے شروع ہوچکے ہیں ، جو28ستمبر 2016ء تک جاری رہیں گے۔

جی سی یونیورسٹی میں بی ایس آنرز ، ایم ایس، اور یوایم ٹی میں بی ایس انجیئرنگ میں طلباء کے داخلے شروع ہو چکے ہیں ، پوسٹ گریجویٹ کالجز میں بھی ایم اے ، ایم ایس سی میں داخلے جاری ہیں۔طلباء وطالبات کی بڑی تعداد نے سرکاری ونجی یونیورسٹیوں اور کالجز کے پراسپیکٹس اور داخلہ فارم حاصل کرنے شروع کردیئے ہیں تاکہ مقررہ وقت میں وہ اپنے داخلوں کو یقینی بنا سکیں۔

پنجاب گروپ آف کالجز نے پنجاب بھر کے 9 بورڈز میں سے 6 بورڈز میں مجموعی طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی ،اس لئے طلباء کی کثیر تعداد پنجاب گروپ آف کالجز میں داخلے کی خواہش مند نظر آتی ہے ۔

پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ پنجاب کالجز میں بی اے، بی ایس سی اور بی کام کے پروگرامز میں داخلے جاری ہیں۔علاوہ ازیں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے تمام سب کیمپسسز میں مختلف گر یجوایٹ پروگرامز میں داخلوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام میں اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس ،آئی ٹی، کمپیوٹر سائنس، ایکسپورٹ مارکیٹنگ، ریٹیل مارکیٹنگ اورسیلز اینڈ مارکیٹنگ کی سپیشلائیزیشنزآفرکی جارہی ہیں۔مزید یہ کہ ایم ایس سی)آئی ٹی(، بی ایس سی ایس،ایم کام، ایم بی اے اور بی بی اے میں بھی داخلے جا ری ہیں۔ان تمام پروگرامز میں فری ایجوکیشن اور اسکالر شپ پر داخلوں کے لیے امید وار مقررہ تاریخ کے اندر درخواست دے سکتے ہیں۔

ابھی تو داخلوں کا آغاز ہے ۔ طلباء کی اکثریت کن کن تعلیمی اداروں میں جاتی ہے؟ میرٹ کی حد کیا ہو گی ؟ اس کا فیصلہ آنے والے چند دنوں میں ہو جائے گا۔ لیکن موجودہ انٹرمیڈیٹ نتائج کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ طلباء ء کی بڑی تعداد نجی کالجز اور یونیورسٹیوں کو ترجیح دے گی۔یہاں یہ سوال بڑی اہمیت کا حامل ہے کہہر دور میں حکومت کی جانب سے شعبہ تعلیم میں بہتری کے دعوے اور نئی نئی تعلیمی پالیسیاں دینے کے باوجود ملک میں ہم یکساں نظام تعلیم رائج کر سکے ہیں نہ اس شعبے میں پائی جانے والی خرابیاں دور ہوسکی ہیں۔ہر برس تعلیم کے لئے اربوں روپے کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے ،بلاشبہ ملک میں میرٹ ہی حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے ۔وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے پچھلے 8 سال سے علم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے صوبے میں میرٹ کلچر کو فروغ بھی دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم نجی تعلیمی اداروں کے تعلیمی نظام کا مقابلہ نہیں کر پا رہے ہیں۔حال ہی میں انٹرمیڈیٹ 2016 کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو دیکھنے میں آیا کہ پہلی تین پوزیشنیں نجی کالج کے طلباء نے اپنے نام کیں اور سرکاری کالجوں کے طلباء ء و طالبات دوسرے نمبر پر رہے۔ اب یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا سرکاری تعلیمی سٹرکچر ناقص ہے،اساتذہ نا اہل ہیں؟ یا وہ کون سے نقائص ہیں جن کی وجہ سے آج ہمارے سرکاری تعلیمی ادارے کسی بھی اچھے پرائیویٹ تعلیمی ادارے کا مقابلہ نہیں کرپارہے۔گزشتہ چند برسوں کے نتائج اٹھا کر دیکھیں تو پرائیویٹ اداروں کے پوزیشن ہولڈر طلباء و طالبات کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے۔ جوکہ سرکاری تعلیمی اداروں کہ لئے لمحہ فکریہ ہے۔اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو آنے والے چند سالوں میں سرکاری تعلیمی ادارے اپنا وقار کھو دیں گے۔سرکاری کالجز کے حصے میں کوئی بڑی کامیابی نہیں آسکی لہٰذا سالانہ امتحانات میں ناقص کارکردگی دکھانے والے سرکاری کالجوں کے سربراہوں سے باز پرس ہونی چاہیے اور ا ن سے تحریری طور پر جواب طلب کیا جانا چاہیے۔

ماہِ رواں قانون کی تعلیم کے طلباء و طالبات کے لئے بھی بڑی اہمیت کا حامل رہا، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں قائم 3رکنی فل بنچ نے عبوری حکم کے تحت ایل ایل بی کے لیے عمر کی حد 24سال مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے 2016 ء تک بی اے کرنے والے امیدواروں کو ایل ایل بی 5سالہ پروگرام کے تیسرے سال(ایل ایل بی پارٹ ون ) میں داخلہ لینے کا اہل قرار دے دیا۔ فل بنچ نے ہدایت کی کہ تمام یونیورسٹیاں اور الحاق شدہ کالجز پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے تحت ہی مقرر ہ سیٹوں پر داخلے کریں گے۔ مزید برآں عدالت عالیہ نے پنجاب بھر کے تمام لاء کالجز اور لا ء اکیڈمیز کے معیار کو جانچنے کیلئے پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل، ہائیر ایجوکیشن کمیشن ، پنجاب یونیورسٹی کے نمائندوں ، متعلقہ اضلاع کے ڈی سی اوزاورڈی پی اوز پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کر دی، مذکورہ بالا کمیٹیاں اگلی تاریخ سماعت پر پنجاب بھر کے لاء کالجز کی سکروٹنی کے بعد کالجز کے الحاق، معیار اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ضابطہ کار پر عملدر آمد کے حوالے سے اپنی رپورٹس پیش کریں گی۔ عدالتی حکم کے مطابق حالیہ داخلوں کے حوالے سے مندرجہ بالا رعایت گھوسٹ یا غیر الحاق شدہ لاء کالجز اور لاء اکیڈمیز پر لاگو نہیں ہوگی۔اس فیصلے سے ہزاروں طلباء و طالبات کو فائدہ پہنچے گا اور ایل ایل بی میں داخلے کے خواہشمندوں کے لئے طریقہ کا رآسان ہو جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ امتحانی نظام سے لے کر امتحانی نتائج اور داخلوں تک کہ ہر مرحلے کو مزیدبہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ انٹربورڈ ماڈل پیپرز تیار کرے جو کالجوں کو بھیجوائے جائیں۔ امتحانات کا طریقہ کار ایسا ہونا چاہیے کہ طلباء کو پروفیشنل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کیلئے کوچنگ سینٹرز اور ٹیوشن سینٹرزمیں جانے کی ضرورت نہ رہے۔انٹربورڈ کے امتحانی نظام کو اس معیار تک لایا جائے کہ طلباء کو پروفیشنل کالجوں میں اور کہیں بھی کسی قسم کا داخلہ یا انٹری ٹیسٹ دینے کی ضرورت نہ رہے۔

داخلوں اور تدریسی عمل کے نظام میں بہتری کے لئے نجی اور سرکاری کالجز و یونیورسٹیوں میں داخلے اور کلاسز ایک ساتھ شروع ہوں، کیونکہ سرکاری کالجزو یونیورسٹیوں میں تدریس کا عمل شروع ہونے میں دو سے تین مہینے تاخیر ہوجاتی ہے، اس کے برعکس نجی کالجزو یونیورسٹیاں فوری طور پر داخلے فراہم کرکے تدریسی عمل شروع کردیتی ہیں۔ تاخیر سے شروع ہونے والے تدریسی عمل سے نہ صرف طلباء طالبات کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ وہ ذہنی کوفت میں بھی مبتلا ہوتے ہے ۔

جس طرح ملک میں یکساں نظام تعلیم نہیں ہے اسی طرح داخلی سسٹم اورامتحانی نظام بھی بہت سی دو عملیوں اور تضادات سے عبارت ہے۔ ضرورت ہے کہ سینئر اور ریٹائرڈ ماہرین تعلیم پر مشتمل ایک کمیشن قائم کیا جائے جو امتحانی نظام اورداخلہ سسٹم کی خامیوں کو دور کرسکے اور کمیشن مکمل طور پر بااختیار ہونا چاہئے۔ ***

مزید : ایڈیشن 2


loading...