تعلیمی مسائل۔۔۔

تعلیمی مسائل۔۔۔

  



راہنمائی کا فقدان ہے

سار ہ سعدیہ

تعلیم قوموں کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ر کھتی ہے۔ملکی ترقی کا انحصاراچھے تعلیمی نظام پر مُنحصر ہے۔پاکستان چند ایسے مُمالک میں شامل ہے جو تعلیمی لحاظ سے تذبذب کا شکار ہیں اور جن کی تعلیمی حالت بہت دگر گوں ہے اس صورتِ حال میں سب سے زیادہ نقصان طالبِ علموں کا ہی ہوتا ہے۔ جو مناسب راہنمائی اور توجہ نہ ملنے وجہ سے تعلیمی میدا ن میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

طالبِ علموں کو درج ذیل مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

* تعلیمی راہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے والدین بچوں پر ایسے تعلیمی پرو گرامز مسلط کردیتے ہیں جو نہ تو اُن کی ذہنی صلاحیت سے ہم آہنگ نہیں ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے لئے کسی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ نتیجتاََ وہ تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتے اور ناکام ہوجاتے ہیں۔ یہ ہما ر ا وہ معا شرتی المیہ ہے جس کا منفی اثر طالب علموں کی سوچ اور شخصیت کو بُری طرح متا ثر کر تا ہے۔

* دوسرا بڑا مسئلہ وہ نفسیاتی اُلجھنیں ہیں جو دورانِ تعلیم پیدا ہوتی ہیں لیکن والدین اور اساتذہ اُسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس حوالے سے طالبِ علم کی مناسب راہنمائی ہونی چاہیے۔

* والدین کی بچوں سے اعلیٰ درجے کی توقعات بھی اُن کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ ایسی صورت میں بچہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔جس کا اثر اُس کی تعلیم پر پڑتا ہے کیونکہ بچہ جب والدین کی توقعات پر پورا نہیں اُترتا تواس کا منفی نتیجہ والدین سے دُوری کی شکل میں سامنے آ تا ہے۔

* نصاب کے حوالے سے مشکلات بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ یہاں لاگو قواعد و ضوابط پر عمل پیرا ہونا نا ممکن ہے۔جیسا کہ assessment schemeمیں مضامین کی باقاعدگی نہیں ہے۔تجربا ت کی بھینٹ چڑھانے کے بعد جو فیصلہ ہمارے سامنے آتا ہے وہ طلباء اور اسا تذہ دونوں کے focousکو ہلا کررکھ دیتا ہے۔طلباء اور اسا تذہ دونوں سارا سال اسی ذہنی کشمکشں کا شکار ر ہتے ہیں کہ ان کا نصاب مقرر کردہ دور عصر کے ہم نواں ہے یا اس سے قاصر ہے ۔کیونکہ نصاب تعلیم ہی سے ہمہ پہلو راہنمائی حاصل کی جاتی ہے ۔یہ طے شُدہ ہے کہ نصاب سے ہمیں طلباء کو کیا راہنمائی مہیا کرنی ہے اور انہیں کون سی منزل کی طرف گامزن کرنا ہے۔لیکن اگر نصاب میں بے مقصدیت کا عنصر موجود ہو گا تو روشن مستقبل کے نوجوانوں کی منزل بے نشاں ہوگی اور تقویت کے لیے ضروری ہے کہ نصاب ہماری سماجی بلکہ دینی اور دنیاوی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر بنایا جائے تاکہ طلباء میں روحانیت کا روشن پہلوبھی نمایا ں ہو سکے جو کہیں کھو سا گیا ہے۔

یہ وہ بنیادی تعلیمی مسائل ہیں جن کا تقریباََ ہر طالبِ علم کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کے حوالے سے چند تجا و یز ہیں۔

محکمہ ایجوکیشن کا فرض ہے کہ تعلیمی اداروں میں ، تعلیمی راہنمائی کا انتظام کریں۔والدین اور اساتذہ کو چا ہیے کہ طالب علموں پر ایسے تعلیمی پروگرامز مسلط نہ کر یں جو اُن کی صلاحیتوں اور دلچسپی کے برعکس ہوں ۔اُن سے بڑی بڑی توقعات وابستہ نا کی جائیں اور نفسیاتی اُلجھنوں کو سمجھتے ہوئے اُنہیں دور کرنے کی کوشش کی جائے۔

***

مزید : ایڈیشن 2