روشن مستقبل کی ضمانت ہائر ایجوکیشن کمیشن

روشن مستقبل کی ضمانت ہائر ایجوکیشن کمیشن

  



ڈاکٹر ظہیر احمد بابر

ranazakhan@gmail.com

ادارے کسی بھی قوم کی فکری و سماجی تاریخ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قوموں کا عروج و زوال اداروں کے عروج و زوال کے ساتھ مشروط رہا ہے۔ اگر کسی قوم کے ادارے مستحکم ہوں تو قوم ترقی کی جانب اپنا سفر تیزی سے طے کرتی ہے اور اگر اس قوم کے ادارے ہی اکھاڑ پچھاڑ میں مبتلا ہو جائیں تو پوری قوم کا مستقبل مخدوش اور حال مصلوب ہو جاتا ہے۔ مغربی معاشرہ اس وقت مستحکم بنیادوں پر استوار اور ترقی یافتہ ہے تو صرف اسی وجہ سے کہ مغربی اقوام نے صدیوں کی محنت سے اپنے تعلیمی ، سماجی اور فکری اداروں کو مضبوط بنایا ہے۔ تعلیم و تربیت کا اعلیٰ نظام کسی بھی معاشرہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان میں بھی چند برس پہلے HEC کی صورت میں ایک ایسا ادارہ تشکیل دیا گیا جس کا مقصد اولین پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن ایک ایسا ادارہ ہے جس نے ملک کی تمام یونیورسٹیوں کو دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کے ساتھ منسلک کیا اور طلباء کو حصول تعلیم کی وہ سہولیات فراہم کیں جس کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا تھا۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کے باعث پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا مستقبل روشن ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے وطن عزیز میں اعلیٰ تعلیم، ریسرچ اور دیگر تحقیقی معاملات پر جس طرح طلبہ کو سہولیات مہیا کی ہیں اس کی نظیر اس سے قبل کسی پاکستانی ادارے میں نہیں ملتی ۔

قیام پاکستان کے وقت ملک میں اعلیٰ تعلیم کا محض ایک ہی ادارہ تھا، پنجاب یونیورسٹی جس کے ساتھ چاروں صوبوں میں موجود 40کالجز منسلک تھے۔ لیاقت علی خان نے ملک میں مزید کالجز اور یونیورسٹیاں تشکیل دیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے دستور 1947ء کے تحت یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی بنیاد پڑی۔1959ء میں حکومت نے UGC(یونیورسٹی گرانٹس کمیشن)کو فیڈرل کمیشن بنانے کی منظوری دی۔1960ء میں صدر ایوب خان نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیارکو بہتر بنانے کے لئے مالی و معاشی پالیسیاں تشکیل دیں۔جس پر بڑی لاگت میں بجٹ مختص کیا گیا۔1971ء کی جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے نئی تعلیمی پالیسیاں بنائی گئیں جن کے تحت 1972ء میں تعلیمی نظام کو قومی تحویل میں لینے کا عمل شروع کیا گیا۔ اس پالیسی کے تحت کالجز کو یونیورسٹیوں کا درجہ دیکر تمام نجی یونیورسٹیوں کو قومی تحویل میں دے دیا گیا۔ صدر ضیا الحق نے 1979ء میں (NEP-79)’’قومی تعلیمی پالیسی‘‘ کے نام سے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ جس کے تحت پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی بنیاد اسلامی تصورات اور قومی نظریے پر رکھی گئی۔صدر ضیاء کی ان پالیسیوں نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیارمیں بنیاد پرست خیالات کو جنم دیا۔1992ء میں وزیر اعظم نواز شریف نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے عمل کو کارگر بنانے کے لئے (NEP-92)’’قومی تعلیمی پالیسی‘‘ کا اعلان کیا۔ اسی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے 1993ء میں وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے اس کا آٹھواں منصوبہ پیش کیا جس میں بنیادی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ادارہ ایک آزاد، خود مختار اور آئینی طور پر قائم ادارہ ہے جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بنیادی فنڈنگ، ریگولیٹری،نگرانی اور رسمی منظوری دینا ہے۔جب مالی فنڈنگ اور پالیسی کا عمل ملک میں اعلیٰ تعلیم کی ضروریات کے لئے ناگزیر ہو گیا تو2002ء میں صدر مشرف نے (UGC) یونیورسٹی گرانٹس کمیشن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا آغاز کیا اور نامور سائنسدان اورکیمسٹ ڈاکٹر عطاء الرحمن کو دعوت دی کہ وہ فوری طور پر چئیر پرسن کی کرسی سنبھال لیں چنانچہ1ستمبر2002ء میں ایچ ای سی کو صدارتی آرڈیننس کے تحت منظوری دی گئی۔اس طرح ہر گزرتے سال کے ساتھ ایچ ای سی نے جرأت مندانہ فیصلے لیتے ہوئے ترقیاتی پروگراموں پر عملدرآمد شروع کر دیا اور یوں پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی ضروریات پوری ہونے لگیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ملک بھر کی جامعات کی 2015ء کی جاری کر دہ رینکنگ کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی ہمیشہ کی طرح سرفہرست رہی ہے۔ دوسرے نمبر پر پنجاب جبکہ تیسرے پر نسٹ (NUST)ہے۔زرعی یونیورسٹی زراعت میں ٹاپ پر ہے۔بزنس میں اقرا ء یونیورسٹی ٹاپ پر، آرٹس میں این سی اے(NCA) لاہور پہلی پوزیشن پر اور میڈیکل میں آغا خان یونیورسٹی ٹاپ پرآگئی۔ انجینئرنگ میں نسٹ پہلے نمبر پر ہے جنرل کیٹگری میں قائداعظم یونیورسٹی ٹاپ پر ہے۔رینکنگ مختلف کیٹگریز کے تحت کی گئی۔ ان کیٹگریز میں مجموعی طور پر دس جامعات کو سرفہرست قرار دیا گیا۔ جن میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، پنجاب یونیورسٹی لاہور، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، آغا خان یونیورسٹی، کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈسائنسز ، جامعہ کراچی، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور اور یونیورسٹی آف ویٹرینری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور شامل ہیں۔ایک عشرے سے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے کمیشن اور اس کی محب وطن قیادت نے جس جذبے ، لگن اور حوصلے سے مسلسل کام کیا اس کے نتیجے میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کے میدان میں کارکردگی کی ہر حوالے سے عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی ہے۔کیو ایس ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگز2016ء میں پاکستان کی 10یونیورسٹیوں کو ایشیا کی350بہترین یونیورسٹیوں کی رینکنگ میں شامل کیا گیا ہے۔ جن میں لمز کو رینکنگ میں 101 ،نسٹ یونورسٹی اسلام آباد 112نمبر پر،قائد اعظم یونیورسٹی کو 149،پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجنیئرنگ اینڈ اپلائڈ سائنس کو 149،آغا خان یونیورسٹی183، یونیورسٹی آف کراچی 201-210، پنجاب یونیورسٹی221-230،کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی231-240، یو ای ٹی کو241-250 اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد301ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح سبجیکٹ کے اعتبار سے زرعی شعبے میں یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد کو 100یونیورسٹیوں میں51نمبر پر، شعبہ طب میںآغا خان یونیورسٹی کو 400یونیورسٹیوں میں301نمبر پر،شعبہ فزکس اینڈ اٹانومی میں قائد اعظم یونیورسٹی کو400میں سے 301 جبکہ ریاضی میں لاہور یونیورسٹی اور قائد اعظم یونیورسٹی کو 400 میں سے 301 ویں نمبر پر جگہ دی گئی ہے۔مایوسیوں، ناکامیوں اور پستیوں کے سائے تلے زندگی گزارنے والی پریشان اور خوفزدہ قوم کے لئے یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ خوشی اور فخر کی بات ہے۔ اگر ہم تعلیمی میدان میں اس ادارے کی ترقی کی بات کریں تو گذشتہ چند برسوں میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تحقیقی مطبوعات میں80 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ تحقیقی مطبوعات کی تعداد2013ء کے ریکارڈ کے مطابق 6200 سے بڑھ کر 9000 ہو چکی ہے۔ یہ دنیا بھر میں دوسرا اہم ترین اضافہ ہے۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ نامساعد حالات کے باوجود آج پاکستان فی کس آبادی کے لحاظ سے انڈیا سے زیادہ تحقیقی مقالے شائع کر رہا ہے۔ HEC کی کارکردگی ہی کی بدولت گذشتہ دو سالوں میں ہماری جامعات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل اساتذہ کی تعداد 4203 سے بڑھ کر 6067 ہو گئی ہے یعنی اس میں بھی پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ سب HEC کے پی ایچ ڈی سکالرز کی وجہ سے ممکن ہوا۔ نہ صرف یہ کہ بیرون ممالک سے ہر ہفتے دس پندرہ پی ایچ ڈی سکالرزHEC کی وساطت سے وطن عزیز آرہے ہیں بلکہ ملک میں بھی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے سکالرز کی انرولمنٹ میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد 9858سے بڑھ کر 14374 ہو چکی ہے۔ اسی طرح ملک بھر میں ایم فل اور ایم ایس کے سکالرز کی انرولمنٹ میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے ان کی تعداد 111440سے بڑھ کر 124107 ہو چکی ہے۔

مذکورہ اعداد و شمار سے واضح طور پر نمایاں ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں گذشتہ عشرے کی سرمایہ کاری نفع بخش ثابت ہوئی ہے۔ ان کامیابیوں پر ہر علم دوست اور پاکستان دوست مسرور ہے اور اسے بجا طور پر HEC کا کارنامہ سمجھتا ہے۔ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود ہائر ایجوکیشن کمیشن نے مثبت اور نتیجہ خیز اصلاحات متعارف کروائیں۔ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے ہر ممکن کوشش کی اور اعلیٰ تعلیم کی بہتری کے لئے جامعات کے محققین کو ڈیجیٹل لائبریری تک رسائی، اساتذہ کی تربیت، ممتاز عالمی اداروں کے ساتھ اشتراک اور وظائف کی میرٹ پر تقسیم کے کلچر نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں کوئی انقلاب پیدا کیا ہویا نہ کیا ہو ، اس کی جانب سمت کا تعین ضرور کر دیا ہے۔ایچ ای سی تعلیمی بنیادوں پر قائم شدہ ایک ادارہ ہے اسی نسبت سے یہ طلبہ کو، سکالرز ، اساتذہ اور پالیسی میکرز کو ایک جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر کاربند ہے۔اس کے علاوہ سمارٹ ایجوکیشن کے ذریعے یہ ادارہ روایتی درسی نظام کو تبدیل کر کے معلوماتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جا رہاہے۔ حالیہ اقدامات میں ایچ ای سی نے وزیر اعظم کی ہدایت پر پی ایچ ڈی، ایم فل اور ایم ایس سکالرز کے مابین لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز کی تقسیم کا سلسلہ شروع کیا۔ ایک اندازے کے مطابق 5لاکھ لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز طلبہ میں تقسیم کئے گئے۔ ان ٹو ان ون ڈیوائسز کی خاصیت یہ ہے کہ طالب علم کلاس میں ہو یا کلاس سے باہر وہ ٹچ سکرین کے ذریعے ہمہ وقت رابطے میں رہتا ہے اور اپنی پڑھائی مکمل کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ ایچ ای سی نے یوبی کیوٹس کمپیوٹنگ ubiquitous computing( ہر جگہ موجود رہنے والا) سسٹم کے ذیعے سمارٹ کیمپسز کا بھی اجراء کیا ہے جہاں پر بلینکٹ وائی فائی کوریج فراہم کی جائے گی۔ اس بڑی تبدیلی کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن یونیورسٹیوں میں ’’سمارٹ کلاس‘‘ متعارف کروانے پر کام کررہا ہے۔ سمارٹ کلاس رومز کی یہ حکمت عملی ماہر تعلیم کو انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کو سیکھنے میں مدد دے گی جس سے ڈیجیٹل جنریشن کو انفرادی طور پر سیکھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں ایچ ای سی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔سمارٹ کلاس کی یہ حکمت عملی ایچ ای سی کے ڈھانچے اور بزنس کے طریقہ کار کو انفرادی طالب علموں کو ان کی ضروریات کی پیش نظر ڈھالے گی۔ ایچ ای سی کی یہ تمام تر کاوشیں پاکستان میں سمارٹ ایجوکیشن متعارف کروانے کی جانب پہلا قدم ہیں۔ پاکستان میں گذشتہ برسوں میں اعلیٰ تعلیم کے افق پر پاکستانی ستارے بھی جگمگانے لگے ہیں۔

اگر ہم ماضی کو سامنے رکھیں تو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم اوراس کے اداروں کے ساتھ ریاستی یتیموں کا سا سلوک ہوتا رہا ہے۔ جدید اور مہذب دنیا کے برعکس ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم کے اداروں نے طفیلی نظام کے سہارے چل کر بھی جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ تحسین و مبارکباد کے لائق ہیں۔ تحقیق اور فکر تازہ اعلیٰ تعلیم کا معتبر ترین وظیفہ ہے۔ یہ تحقیق و دانش ہی قومی ترقی کا پائیدار راستہ ہے۔ ہمارے ہاں تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے عشروں کی ناقص منصوبہ بندی نے جو ناگفتہ بہ صورتحال پیدا کر رکھی ہے اسے دیکھ کر یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ ریاست کے زیر انتظام اور زیر ملکیت اعلیٰ تعلیم کے اداروں اور دانش گاہوں کے مقدر میں بہتری کی امید نہیں کیونکہ حکمرانوں کے پاس اصلاح احوال کے لئے کوئی پروگرام ہی نہیں۔ تاہم HEC کی کاوشوں کے ثمر کے طور پر اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے اچھی خبروں نے جہاں مایوسی کے بادل کم کئے وہیں طلبہ اور سکالرز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی نئی راہیں بھی متعارف کروائیں۔ اعلیٰ تعلیم کے بارے میں حب الوطنی کے تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسی اپنائے بغیر چارہ نہیں اور کوئی بھی حکومت اعلیٰ تعلیم کی طرف توجہ کئے بغیر نئی نسلوں کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتی۔ اعلیٰ تعلیم کو جدید و مربوط بنانے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن اور اسکی قیادت نے پچھلے ایک عشرہ میں جس جانفشانی اور لگن کا ثبوت دیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ HEC جیسے ادارہ کو مزید مستحکم اور فعال بنایا جائے تاکہ مستقبل میں یہ ادارہ زیادہ تن دہی سے کام کرتے ہوئے پاکستان کو تعلیمی انقلاب سے مالا مال کر دے۔ جہاں ایچ ای سی کی کارکردگی نے طلبہ میں تحقیق میں جہت پیدا کی وہیں اس ادارے کی بنیادوں کو ہلانے کی بھی مسلسل کوشش کی جارہی ہے۔ ایک عرصہ سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو تحلیل کرنے کی خبریں بھی گردش میں ہیں ،اسکا خاتمہ غریب اور متوسط طبقے کو اعلیٰ تعلیم سے محروم کر دینے کی سازش ہے۔ پاکستان میں 95فی صد بچے مہنگی تعلیم کی بجائے سرکاری کالجز اور سکولز میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اب غریب اور محنت کشوں کے بچے بھی اپنی قابلیت اور محنت کے بل بوتے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ایک میرٹ مقرر کیا اور میرٹ پر پورا اترنے والے ہی وظائف کے حقدار تصور کئے جاتے ہیں۔ پاکستان کا موجودہ سیاسی مقتدر طبقہ جاگیرداروں، وڈیروں، صنعتکاروں اور ریاستی اداروں کے طفیلیوں پر مشتمل ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے تمام وسائل پر خود قابض رہنا چاہتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بند کر کے دراصل درمیانے طبقے کو اعلیٰ تعلیم کی سہولیات سے محروم کرنے کی گھناؤنی سازش کی جارہی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں برسر اقتدار حکمران طبقے میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو تعلیم سے نفرت کرتے ہیں اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے علاقوں میں سکول تک نہیں کھلنے دیتے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو تحلیل کر کے حکمران ملکی ترقی پر گامزن گاڑی کو پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے پہلا حملہ تعلیم پر کیا ہے۔تعلیم کے حوالہ سے جتنی بھی ترقی ہو گی اس کے سماجی و معاشی فوائد یقیناً پاکستانی عوام کو پہنچیں گے اور اقوام کی برادری میں پاکستان کا تشخص زیادہ بہتر ہو گا۔ اعلیٰ تعلیم ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر دنیا کی دیگر اقوام نے سماجی ترقی کی ہے اور اپنی معیشتوں کو مضبوط و توانا بنایا ہے۔ حکمرانوں سے استدعا ہے کہ وہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو مزید فعال و متحرک بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ وطن عزیز پاکستان مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ بہتر طریقہ سے کرسکے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...